اور البتہ تحقیق پھیر پھیر کر بیان کی ہے ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر ایک مثال، پس انکار کیا اکثر لوگوں نے مگر کفر کرنے سے (نہیں )(89)اور کہا انھوں نے، ہرگز نہیں ایمان لائیں گے ہم تجھ پر، یہاں تک کہ جاری کرے تو ہمارے لیے زمین سے ایک چشمہ(90) یا ہو واسطے تیرے ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا، پھر جاری کردے تو نہریں اس (باغ) کے درمیان (جگہ جگہ) جاری کرنا (91) یا گرادے تو آسمان، جیسا کہ دعویٰ کرتا ہے تو، ہم پر ٹکڑے ٹکڑے کر کے یا لے آ تو اللہ کو اور فرشتو ں کو سامنے (92) یا ہو تیرے لیے ایک گھر سونے کا یا چڑھ جا تو آسمان میں اور ہرگز نہیں مانیں گے ہم تیرے چڑھ جانے کو، یہاں تک کہ اتار لائے تو ہم پر ایک کتاب کہ ہم پڑھیں اسے، آپ کہہ دیجیے! پاک ہے میرا رب، نہیں ہوں میں مگر صرف ایک بشر (اور) رسول (93) اور نہیں منع کیا لوگوں کو (اس سے) کہ ایمان لائیں وہ، جب آگئی ان کے پاس ہدایت مگر اس بات نے کہ انھوں نے کہا، کیا بھیجا ہے اللہ نے ایک بشر کو رسول (بنا کر)؟ (94) کہہ دیجیے! اگر ہوتے زمین میں فرشتے، وہ چلتے ( پھرتے) اطمینان سے تو البتہ نازل کرتے ہم ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ ہی رسول (بنا کر)(95) کہہ دیجیے! کافی ہے اللہ گواہ میرے درمیان اور تمھارے درمیان، بے شک وہ ہے اپنے بندوں سے خوب خبر دار، خوب دیکھنے والا (96)
[93-89] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِيۡ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ كُلِّ مَثَلٍ ﴾ ’’اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی واسطے لوگوں کے اس قرآن میں ہر مثال‘‘ یعنی ہم نے اس میں مختلف انواع کے مواعظ اور مثالیں بیان کی ہیں اور ان معانی و مضامین کو بار بار دہرایا ہے لوگ جن کے ضرورت مند ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں اور تقویٰ اختیار کریں مگر ان میں سے بہت کم لوگوں نے نصیحت پکڑی ہے، سوائے ان لوگوں کے، جن کے بارے میں پہلے ہی سے سعادت کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق کے ذریعے سے ان کی اعانت فرمائی مگر اکثر لوگوں نے اس نعمت کی ناقدری کی جو تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق معجزات و آیات کا مطالبہ کرکے تعنت کا مظاہرہ کیا اور وہ اپنے نفس کی طرف سے، جو ظالم اور جاہل ہے، آیات گھڑتے ہیں ۔ پس وہ رسول اللہﷺ سے، جو یہ قرآن لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو ہر قسم کی دلیل اور برہان پر مشتمل ہے، کہتے ہیں :﴿لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًا﴾’’ہم ہرگز تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ تو جاری کر دے ہمارے واسطے زمین سے ایک چشمہ‘‘ یعنی بہتی ہوئی نہریں جاری کر دے۔﴿ اَوۡ تَكُوۡنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّعِنَبٍ ﴾ ’’یا ہو تیرے واسطے ایک باغ کھجور اور انگور کا‘‘ جن کی مدد سے تو بازاروں میں چلنے پھرنے اور آ نے جانے سے مستغنی ہو جائے۔ ﴿ اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَؔ كَمَا زَعَمۡتَ عَلَيۡنَا كِسَفًا ﴾ ’’یا گرا دے ہم پر آسمان، جیسا کہ تو کہا کرتا ہے، ٹکڑے ٹکڑے کرکے‘‘ یعنی عذاب سے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ﴿ اَوۡ تَاۡتِيَ بِاللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيۡلًا﴾ ’’یا لے آ اللہ کو اور فرشتوں کو سامنے‘‘ یعنی تمام فرشتے یا دوسرا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمام فرشتے روبرو آجائیں اور وہ تیری نبوت کی گواہی دیں ۔ ﴿ اَوۡ يَكُوۡنَ لَكَ بَيۡتٌ مِّنۡ زُخۡرُفٍ ﴾ ’’یا ہو تیرے واسطے گھر سنہرا‘‘ یعنی سونے وغیرہ سے منقش اور آراستہ ﴿اَوۡ تَرۡقٰى فِي السَّمَآءِ﴾ ’’یا تو آسمان پر چڑھ جا۔‘‘ یعنی حسی طور پر آسمان پر چڑھ جائے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ اس کے باوجود ﴿ لَنۡ نُّؤۡمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيۡنَا كِتٰبًا نَّقۡرَؤُهٗ﴾ ’’ہم نہیں مانیں گے تیرے چڑھ جانے کو، یہاں تک کہ لائے تو ہمارے پاس کتاب جسے ہم پڑھیں ‘‘ چونکہ یہ کلام محض تعنت اور رسول کو بے بس کرنے کی خواہش اور داعیہ ہے، یہ احمق ترین اور ظالم ترین لوگوں کا کلام ہے جو حق کو ٹھکرا دینے کو متضمن ہے، نیز یہ اللہ تعالیٰ کے حضور بے ادبی اور رسول اللہﷺ کے بارے میں بے بنیاد دعویٰ ہے کہ آپ یہ آیات خود تصنیف کرتے ہیں … اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ اللہ کی تنزیہ بیان کریں ۔ ﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے! پاک ہے میرا رب‘‘ یعنی جو کچھ تم اللہ کے بارے میں کہتے ہو وہ اس سے بہت بلند اور بالاتر ہے۔ اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کے احکام اور آیات ان کی خواہشات نفس اور گمراہ آراء و نظریات کے تابع ہوں ۔ ﴿ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا ﴾ ’’میں نہیں ہوں مگر ایک آدمی بھیجا ہوا‘‘ میرے ہاتھ میں کچھ بھی اختیار نہیں …
[94] یہی وہ سبب ہے جس کی بنا پر اکثر لوگ ایمان نہ لائے کیونکہ ان کی طرف جو رسول اور نبی مبعوث كيے گئے وہ سب انھی کی جنس میں سے تھے، یعنی وہ سب بشر تھے۔یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت ہے کہ اس نے ان کی طرف انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا کیونکہ وہ فرشتوں سے بلاواسطہ احکام وصول کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
[95] اس لیے فرمایا: ﴿ لَّوۡ كَانَ فِي الۡاَرۡضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَىِٕنِّيۡنَ۠ ﴾ ’’ اگر ہوتے زمین میں فرشتے پھرتے، بستے‘‘ یعنی اگر وہ فرشتوں کو دیکھ لینے اور ان سے احکام اخذ کرنے کی طاقت رکھتے ہوتے ﴿لَـنَزَّلۡنَا عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوۡلًا ﴾ ’’تو اتارتے ہم ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ پیغام دے کر۔‘‘
[96]﴿ قُلۡ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًۢا بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكُمۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرًا﴾ ’’کہہ دیجیے اللہ کافی ہے بطور گواہ میرے اور تمھارے درمیان، بے شک وہ ہے اپنے بندوں سے خبردار، دیکھنے والا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی اپنے رسول کے لیے گواہی یہ ہے کہ اس نے آیات اور معجزات کے ذریعے سے اس کی تائیدکی اور ان لوگوں کے خلاف آپ کو فتح و نصرت سے نوازا جنھوں نے آپ سے عداوت کی۔ اگر آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہوتا تو اللہ تعالیٰ آپ کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر آپ کی رگ جاں کاٹ دیتا۔ اللہ تعالیٰ باخبر اور دیکھنے والا ہے اور بندوں کے احوال میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔