Tafsir As-Saadi
17:97 - 17:100

اور جس کو ہدایت دے اللہ، پس وہی ہے ہدایت پانے والااور جسے وہ گمراہ کرے تو ہرگز نہیں پائیں گے آپ ان کے لیے کوئی دوست سوائے اس (اللہ) کےاور ہم اکٹھا کریں گے ان کو دن قیامت کے ان کے منہ کے بل اس حال میں کہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے، ٹھکانا ان کاجہنم ہے، جب وہ بجھنے لگے گی تو زیادہ کر دیں گے ہم ان کے لیے آگ کا بھڑکانا (97) یہ سزا ہے ان کی بوجہ اس کے کہ بے شک انھوں نے کفر کیا ساتھ ہماری آیتوں کے، اور کہا، کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ تو کیا بلاشبہ ہم البتہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے پیدا کر کے نئے سرے سے؟ (98) کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک اللہ، جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو، قادر ہے اوپر اس کے کہ وہ پیدا کرے مثل ان کی اور مقرر کیا اس نے ان کے لیے ایک وقت (معین)، کہ نہیں شک اس میں ، پس انکار کیا ظالموں نے مگر کفرکرنے سے (نہیں )(99) کہہ دیجیے! اگر تم اختیار رکھتے خزانوں کا رحمت کے میرے رب کی تو اس وقت ضرور روک لیتے تم (ان کو) خرچ ہو جانے کے ڈر سےاور ہے انسان نہایت ہی بخیل (100)

[97] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ہدایت اور گمراہی صرف اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے وہ جسے ہدایت سے نوازنا چاہتا ہے تو اسے آسان راہیں میسر کر دیتا ہے اور اس کو تنگی سے بچالیتا ہے اور وہی درحقیقت ہدایت یافتہ ہے اور جسے گمراہ کرتا ہے اسے اس کے نفس کے حوالے کر کے اس سے الگ ہو جاتا ہے تب اللہ تعالیٰ کے سوا اس کو کوئی راہ نہیں دکھا سکتا اور ان کا اس روز کوئی حمایتی نہیں ہوگا جو ان کی اللہ کے عذاب کے مقابلے میں مدد کر سکے جب اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ان کے چہروں کے بل، نہایت رسوائی کی حالت میں اندھے اور گونگے بنا کر اکٹھے کرے گا وہ دیکھ سکیں گے نہ بول سکیں گے۔ ﴿ مَاۡوٰىهُمۡ ﴾ ’’ان کا ٹھکانا‘‘ یعنی ان کی جائے قرار اور ان کا گھر ﴿ جَهَنَّمُ﴾ ’’جہنم ہے‘‘ جہاں ہر قسم کا حزن و غم اور عذاب جمع ہے۔ ﴿ كُلَّمَا خَبَتۡ ﴾ ’’جب وہ بجھنے لگے گی‘‘ ﴿زِدۡنٰهُمۡ سَعِيۡرًا﴾ ’’تو ہم ان پر اس آگ کو اور بھڑکا دیں گے۔‘‘ عذاب ان پر سے منقطع نہ ہو گا۔ ان کو موت آئے گی نہ ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہو گی۔
[98]اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بات کی جزا دی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا کرتے تھے اور قیامت کے روز پر ایمان نہیں رکھتے تھے جس کے بارے میں تمام انبیاء و رسل نے آگاہ فرمایا اور تمام آسمانی کتابوں نے اس کے برپا ہونے کا اعلان کیا۔ انھوں نے اپنے رب کو عاجز قرار دے کر اس کی قدرت کاملہ کا انکار کر دیا۔﴿ وَقَالُوۡۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠ خَلۡقًا جَدِيۡدًا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، جب ہم ہو گئے ہڈیاں اور چورا چورا، کیا ہم اٹھائے جائیں گے نئے بنا کر‘‘ یعنی یہ ہو ہی نہیں سکتا… وہ یہ بات اس لیے کہتے تھے کہ ان کی فاسد عقل کے مطابق ایسا ہونا بہت بعید تھا۔
[99] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ ’’کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ جس اللہ نے آسمان اور زمین بنائے‘‘ جو کہ انسانوں کی تخلیق سے زیادہ مشکل امر ہے۔ ﴿قَادِرٌؔ عَلٰۤى اَنۡ يَّخۡلُقَ مِثۡلَهُمۡ ﴾ ’’وہ قادر ہے کہ پیدا کرے ان جیسوں کو‘‘ کیوں نہیں ! بے شک اللہ تعالیٰ ایسا کرنے پر قادر ہے ﴿ وَجَعَلَ لَهُمۡ اَجَلًا لَّا رَيۡبَ فِيۡهِ﴾ ’’اور اس نے ان کے لیے ایک مدت مقرر کر دی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ‘‘ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس گھڑی کو اچانک لے آئے اور اس بات کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد موت پر دلائل و براہین قائم کر دیے ہیں ۔ ﴿ فَاَبَى الظّٰلِمُوۡنَ اِلَّا كُفُوۡرًؔا ﴾ ’’پھر بھی نہیں رہا جاتا ظالموں سے ناشکری کیے بغیر‘‘ ظلم کرتے اور افترا کرتے ہوئے۔
[100]﴿ قُلۡ لَّوۡ اَنۡتُمۡ تَمۡلِكُوۡنَ خَزَآىِٕنَ رَحۡمَةِ رَبِّيۡۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تمھارے ہاتھ میں ہوتے میرے رب کی رحمت کے خزانے‘‘ جو کبھی ختم ہوتے ہیں نہ تباہ ہوتے ہیں ﴿ اِذًا لَّاَمۡسَكۡتُمۡ خَشۡيَةَ الۡاِنۡفَاقِ﴾ ’’تو ضرور بند کر رکھتے، اس ڈر سے کہ خرچ نہ ہو جائیں ‘‘ یعنی اس خوف سے کہ جو کچھ تم خرچ کرتے ہو کہیں ختم نہ ہو جائے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں کا ختم ہونا محال ہے مگر بخل اور کنجوسی انسان کی جبلت میں رکھ دیے گئے ہیں ۔