اور قرآن، جدا جدا (نازل) کیا ہم نے اس کوتاکہ آپ پڑھیں اس کو لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کراور اتارا ہم نے اسے اتارنا (تھوڑ ا تھوڑا)(106) کہہ دیجیے! ایمان لاؤ تم ساتھ اس کے یا نہ ایمان لاؤ، بے شک وہ لوگ جو دیے گئے علم پہلے اس سے، جب پڑھا جاتا ہے ان پر تو وہ گر پڑتے ہیں ٹھوڑیوں کے بل سجدہ کرتے ہوئے (107) اور وہ کہتے ہیں ، پاک ہے ہمارا رب، بلاشبہ ہے وعدہ ہمارے رب کا (پورا) کیا ہوا (108) اور وہ گر پڑتے ہیں ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئےاور زیادہ کرتا ہے (قرآن) ان کو گڑگڑانے میں (109)
[106] یعنی ہم نے اس قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا ہے جو ہدایت اور گمراہی، حق اور باطل کے درمیان تفریق کرتا ہے ﴿ لِتَقۡرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكۡثٍ ﴾ ’’تاکہ آپ لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں ‘‘ تا کہ وہ اس کے معانی میں تدبر کریں اور اس میں سے اس کے مختلف علوم کا استخراج کریں ۔ ﴿وَّنَزَّلۡنٰهُ تَنۡزِيۡلًا ﴾ ’’اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ہے۔‘‘ یعنی اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے، ٹکڑوں میں تئیس (۲۳) سال کے عرصہ میں نازل کیا ہے۔ ﴿وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان : 25؍33) ’’اور وہ جب کبھی آپ کے پاس کوئی پیچیدہ بات لے کر آئے تو ہم نے حق کے ساتھ اس کا جواب دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھول دیا۔‘‘
[107] پس جب حق واضح ہو جائے جس میں کسی بھی پہلو سے کوئی شک و شبہ نہیں ﴿ قُلۡ ﴾ تو ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے حق کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا ﴿ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا﴾ ’’تم اس کے ساتھ ایمان لاؤ یا نہ لاؤ‘‘ اللہ تعالیٰ کو تمھاری کوئی حاجت نہیں اور تم اللہ تعالیٰ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اس تکذیب کا نقصان تمھیں ہی پہنچے گا کیونکہ تمھارے علاوہ اللہ تعالیٰ کے اور بھی بندے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم نافع عطا کیا ہے۔ ﴿ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾ ’’جب پڑھا جاتا ہے ان پر تو وہ گر پڑتے ہیں ٹھوڑیوں پر سجدہ کرتے ہوئے‘‘ یعنی اس سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اس کے سامنے نہایت عاجزی سے سرافگندہ ہوتے ہیں ۔
[108]﴿ وَّيَقُوۡلُوۡنَ سُبۡحٰؔنَ رَبِّنَاۤ ﴾ ’’اور کہتے ہیں پاک ہے ہمارا رب‘‘ وہ ان تمام صفات سے پاک اور منزہ ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں اور جو مشرکین نے ان کی طرف منسوب کر رکھی ہیں ﴿ اِنۡ كَانَ وَعۡدُ رَبِّنَا ﴾ ’’اور بے شک ہمارے رب کا وعدہ‘‘ یعنی اس نے زندگی بعد موت اور اعمال کی جزا کا جو وعدہ کر رکھا ہے۔ ﴿ لَمَفۡعُوۡلًا ﴾ ’’ہونے والا ہے‘‘ اس میں کوئی وعدہ خلافی ہے نہ اس میں کوئی شک ہے۔
[109]﴿ وَيَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ ﴾ ’’اور گرتے ہیں وہ ٹھوڑیوں پر‘‘ یعنی منہ کے بل ﴿ يَبۡكُوۡنَ وَيَزِيۡدُهُمۡ ﴾ ’’روتے ہوئے اور زیادہ کرتا ہے ان کو‘‘ یعنی قرآن ﴿ خُشُوۡعًا﴾ ’’خشوع خضوع میں ۔‘‘ یہ اہل کتاب کے ان مومنین کی مانند ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا اور وہ نبی اکرمﷺ کے زمانہ میں اور اس کے بعد ایمان لائے۔