تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نازل کی اپنے بندے پر کتاب اور نہیں رکھی اس میں کوئی کجی (1) اس حال میں کہ وہ سیدھی ہے، تاکہ ڈرائے وہ عذاب سخت سے، اس (اللہ) کی طرف سےاور (تاکہ) وہ خوشخبری دے مومنوں کو، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں نیک، بے شک ان کے لیے اجر ہے اچھا (2)اس حال میں کہ وہ رہنے والے ہوں گے اس میں ہمیشہ ہی (3)اور (تاکہ) وہ ڈرائے ان لوگوں کو جنھوں نے کہا، بنائی ہے اللہ نے اولاد (4) نہیں ہے ان کو ساتھ اس (دعویٰ) کے کوئی علم اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو ، بڑی ہی خطرناک بات ہے جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے، نہیں کہتے وہ مگر جھوٹ ہی (5) پس شاید کہ آپ ہلاک کرنے والے ہیں اپنے آپ کو پیچھے ان کے، اگر نہ ایمان لائیں وہ ساتھ اس بات (قرآن) کے ، غم کے مارے (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] حمد سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات کے ذریعے سے، جو کہ صفت کمال ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ کی ظاہری و باطنی اور دینی و دنیاوی نعمتوں کے اظہار و اعتراف کے ذریعے سے اس کی ثنا بیان کرنا… اور علی الاطلاق اللہ تعالیٰ کی جلیل ترین نعمت اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر قرآن نازل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد بیان کی اور اس ضمن میں بندوں کے لیے اس امر کی طرف راہنمائی ہے کہ وہ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کریں کہ اس نے ان کی طرف اپنا رسول بھیجا اور کتاب نازل کی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی دو خوبیاں بیان فرمائیں جو اس بات پر مشتمل ہیں کہ یہ کتاب ہر لحاظ سے کامل ہے۔ یہ دو صفات مندرجہ ذیل ہیں ۔ (۱) اس کتاب عظیم سے کجی کی نفی۔ (۲) اس بات کا اثبات کہ یہ کتاب کجی دور کرنے والی اور راہ راست پر مشتمل ہے۔ کجی کی نفی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ کتاب میں کوئی جھوٹی خبر ہو نہ اس کے اوامر ونواہی میں ظلم کا کوئی پہلو ہو اور نہ کوئی عبث بات ہو۔ استقامت کا اثبات اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ کتاب جلیل ترین امور کا حکم دیتی اور جلیل ترین خبروں سے آگاہ کرتی ہے اور یہ وہ خبریں ہیں جو قلوب انسانی کو معرفت الٰہی اور ایمان و عقل سے لبریز کر دیتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اس کے افعال کے بارے میں خبریں ، نیز گزرے ہوئے اور آئندہ آنے والے غیبی معاملات کی خبریں ۔ اس کتاب کی استقامت کا اثبات اس امر کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ اس کے اوامر و نواہی نفوس انسانی کا تزکیہ، ان کی نشوونما اور ان کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ یہ اوامر و نواہی کامل عدل و انصاف، اخلاص اور اکیلے اللہ رب العالمین کے لیے عبودیت پر مشتمل ہیں ۔ یہ کتاب، جس کے مذکورہ بالا اوصاف بیان كيے گئے ہیں ، اس بات کی مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے نازل کرنے پر اپنی حمد بیان کرے اور اپنے بندے سے اپنی حمد و ستائش کا مطالبہ کرے۔
[2]﴿ لِّيُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِيۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡهُ﴾ ’’تاکہ وہ اپنی طرف سے ڈرائے سخت عذاب سے‘‘ یعنی اس قرآن کریم کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے ہاں موجود عذاب سے ڈرائے، یعنی اس شخص کو اپنی اس قضا و قدر سے ڈرائے جو اس کے احکامات کی مخالفت کرنے والوں کے لیے ہے۔ یہ دنیاوی عذاب اور اخروی عذاب دونوں کو شامل ہے، نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو خوف دلایا ہے اوران کو ان امور سے ڈرایا ہے جو ان کے لیے نقصان اور ہلاکت کا باعث ہیں ۔ جیسا کہ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں آگ کا وصف بیان کیا تو فرمایا:﴿ ذٰلِكَ يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴾(الزمر : 39؍16) ’’اللہ اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرو۔‘‘ پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ان لوگوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کر رکھی ہیں جو اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، ان سزاؤں کو ان کے سامنے بیان کر دیا اور ان اسباب کو بھی واضح کر دیا جو ان سزاؤں کے موجب ہیں۔ ﴿ وَيُبَشِّرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور خوشخبری دے مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی تاکہ اس کے ذریعے سے، نیز اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعے سے، ان لوگوں کو خوشخبری سنائے جو اس کتاب پر ایمان لا کر اپنے ایمان کی تکمیل کرتے ہیں ۔ پس اس نے اپنے بندوں پر نیک اعمال واجب كيے اور اس سے مراد واجبات و مستحبات پر مشتمل نیک اعمال ہیں ، جن میں اخلاص اور اتباع رسول جمع ہوں ۔ ﴿ اَنَّ لَهُمۡ اَجۡرًا حَسَنًا ﴾ ’’کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے‘‘ اس سے مراد وہ ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح پر مترتب کیا ہے۔ سب سے بڑا اور جلیل ترین ثواب، اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے تصور میں اس کا گزر ہوا ہے…اور اس اجر کو ’’حسن‘‘ کے وصف کے ساتھ موصوف کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ جنت میں کسی بھی لحاظ سے کوئی تکدر نہ ہو گا۔ کیونکہ اگر اس میں کسی قسم کا تکدر پایا جائے تو یہ اجر مکمل طور پر حسن نہیں ہے۔
[3] اس کے ساتھ ساتھ کہ یہ اچھا اجر ہے۔ ﴿ مَّؔاكِثِيۡنَ فِيۡهِ اَبَدًا﴾ ’’وہ اس میں ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یہ اجروثواب کبھی ان سے زائل ہو گا نہ یہ اس سے دور كيے جائیں گے بلکہ ان کی یہ نعمتیں ہر وقت بڑھتی ہی رہیں گی۔ تبشیر کا ذکر تقاضا کرتا ہے کہ ان اعمال کا ذکر کیا جائے جو بشارت کے موجب ہیں اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم تمام اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو اس اجروثواب کا سبب ہیں جس سے نفس خوش ہوں گے اور روحوں کو فرحت حاصل ہو گی۔
[5,4]﴿ وَّيُنۡذِرَ الَّذِيۡنَ قَالُوا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا﴾ ’’اور ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے کہا اللہ اولاد رکھتا ہے‘‘ یعنی یہود و نصاریٰ اور مشرکین، جن کا یہ بدترین قول ہے اور ان کا یہ قول کسی علم و یقین پر مبنی نہیں ہے۔ وہ اس کے بارے میں خود کوئی علم رکھتے ہیں نہ ان کے آباء و اجداد کے پاس کوئی علم تھا جن کی یہ تقلید کرتے ہیں بلکہ یہ تو محض ظن و گمان اور خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں ۔ ﴿ كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’بڑی ہے بات جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے‘‘ یعنی ان کی اس بات کی قباحت بہت زیادہ اور اس کی سزا بہت سخت ہے اور اس شخص کے اس قول کی قباحت سے بڑھ کر اور کون سی قباحت ہو سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹا منسوب کرتا ہے حالانکہ یہ نسبت اس کی ذات میں نقص اور خصائص ربوبیت و الوہیت میں غیر اللہ کی شراکت اور اس پر بہتان طرازی کی مقتضی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ﴾(الانعام: 6؍21) ’’اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا: ﴿ اِنۡ يَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا كَذِبًا﴾ ’’یہ لوگ محض جھوٹ بولتے ہیں ‘‘ جس میں صداقت کا ذرہ بھر شائبہ نہیں ۔ غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح بتدریج ان کے قول کا ابطال کیا ہے اور کم تر باطل چیز سے زیادہ باطل چیز کی طرف انتقال کیا ہے، چنانچہ پہلے مرحلے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی:﴿ مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ وَّلَا لِاٰبَآىِٕهِمۡ﴾ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بلا علم اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرنا ممنوع اور باطل ہے پھر دوسرے مرحلے میں فرمایا کہ یہ انتہائی قبیح قول ہے، فرمایا:﴿ كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ﴾ پھر قباحت کے تیسرے مرتبے میں فرمایا کہ یہ محض جھوٹ ہے جو صدق کے منافی ہے۔
[6] چونکہ نبی اکرمﷺ خلائق کی ہدایت کی بے انتہا خواہش رکھتے تھے اور ان کی ہدایت کے لیے بے حد کوشاں رہتے تھے۔ آپ دین اسلام اختیار کرنے والے کے ہدایت قبول کرنے پر بہت خوش ہوتے تھے۔ تکذیب کرنے والے گمراہ لوگوں پر رحم و شفقت کی بنا پر متاسف اور غم زدہ ہوتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کے رویے پر افسوس اور تاسف میں مشغول نہ ہوں جو اس قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا ہے:﴿ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الشعراء : 26؍3) ’’شاید آپ اسی غم میں اپنے آپ کو ہلکان کر لیں گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿ فَلَا تَذۡهَبۡ نَفۡسُكَ عَلَيۡهِمۡ حَسَرٰتٍ﴾(فاطر : 35؍8) ’’پس ان لوگوں کے غم میں آپ کی جان نہ گھلے۔‘‘ یہاں فرمایا: ﴿فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’کیا آپ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں گے۔‘‘ یعنی ان کے غم میں ، حالانکہ آپ کا اجروثواب تو اللہ تعالیٰ پر واجب ہو چکا ہے اگر ان لوگوں کی کوئی بھلائی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتی تو وہ ضرور ان کو ہدایت سے نواز دیتا۔ مگر اسے معلوم ہے کہ یہ لوگ آگ کے سوا، کسی چیز کے قابل نہیں ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے اور وہ راہ راست نہ پا سکے۔ آپ کا ان کے غم اور تاسف میں اپنے آپ کو مشغول کرنا آپ کو کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات کریمہ میں عبرت ہے۔ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے پر مامور شخص پر تبلیغ دعوت، ان تمام اسباب کے حصول میں کوشاں رہنا جو ہدایت کی منزل پر پہنچاتے ہیں ، امکان بھر گمراہی کے راستوں کو مسدود کرنا اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر توکل فرض ہے۔ پس اگر وہ راہ راست پر گامزن ہو جائیں تو بہتر ہے ورنہ اس کو ان کے افسوس میں گھلنا نہیں چاہیے کیونکہ یہ چیز نفس کو کمزور اور قویٰ کو منہدم کر دیتی ہے۔ اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ ایسا کرنے سے وہ مقصد فوت ہو جائے گا جس پر اسے مامور کیا گیا ہے۔ تبلیغ دعوت اور کوشش کے سوا ہر چیز اس کے اختیار سے باہر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نبی اکرمﷺ سے فرماتا ہے:﴿ اِنَّكَ لَا تَهۡدِيۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ ﴾(القصص : 28؍56) ’’آپ اسے ہدایت نہیں دے سکتے جسے آپ چاہتے ہیں ۔‘‘ حضرت موسیٰu نے اعتراف کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾(المائدۃ : 5؍25) ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ تو انبیائے کرام کے علاوہ دیگر لوگ بدرجہ اولیٰ کسی کو ہدایت دینے کا اختیار نہیں رکھتے، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌؕ۰۰لَسۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِمُصَۜيۡطِرٍ ﴾(الغاشیۃ : 88؍21، 22) ’’آپ نصیحت کیجیے۔ آپ تو صرف نصیحت کرنے والے ہیں ، آپ ان پر کوئی داروغہ مقرر نہیں ہوئے۔‘‘