کیا خیال کیا ہے آپ نے کہ بلاشبہ غار اور رقیم والے، تھے وہ ہماری نشانیوں میں سے ایک عجیب (نشانی)؟ (9)جب پناہ لی ان نوجوانوں نے غار کی طرف تو انھوں نے کہا، ہمارے رب! تو دے ہمیں اپنی طرف سے رحمت اورآسان کر دے ہمارے لیے ہمارے کام میں بھلائی کا راستہ (10) پس ڈال دیا ہم نے ان کے کانوں پر (پردہ)، غار میں کئی سال تک گنتی کے (11) پھر اٹھایا ہم نے ان کو تاکہ جان لیں ہم کہ کون دو گروہوں میں سے زیادہ یاد رکھنے والا ہے، اس کو کہ ٹھہرے رہے وہ اس مدت تک (12)
[9] یہ استفہام، نفی اور نہی کے معنیٰ میں ہے، یعنی اصحاب کہف کے قصہ اور ان کے واقعات کو اللہ تعالیٰ کی آیات کے سامنے انہونی بات، اس کی حکمت میں انوکھا واقعہ نہ سمجھو اور نہ یہ سمجھو کہ اس کی کوئی نظیر نہیں اور اس قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار تعجب خیز معجزات ہیں جو اصحاب کہف کے معجزے کی جنس میں سے ہیں یا اس سے بھی بڑے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اپنے بندوں کو آفاق اور ان کے نفوس میں اپنی نشانیاں دکھاتا رہا ہے جن سے حق و باطل اور ہدایت و ضلالت واضح ہوتے ہیں ۔ نفی سے مراد یہ نہیں کہ اصحاب کہف کا قصہ عجائبات میں سے نہیں بلکہ یہ قصہ تو اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ہے اور اس سے صرف یہ مراد ہے کہ اس جنس سے اور بہت سے معجزات ہیں ، اس لیے صرف اس ایک معجزے پر تعجب کے ساتھ ٹھہر جانا علم و عقل میں نقص ہے۔ بندۂ مومن کا وظیفہ تو یہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان تمام آیات میں غور و فکر کرے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کیونکہ غور و فکر ایمان کی کلید اور علم و ایقان کا راستہ ہے۔ اصحاب کہف کو (الکہف) اور (الرقیم) کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ کہف سے مراد پہاڑ کے اندر ایک غار ہے اور رقیم سے مراد کتبہ ہے جس پر اصحاب کہف کے نام اور ان کا واقعہ درج تھا کہ وہ طویل زمانے تک اس غار میں پڑے رہے ہیں ۔
[10] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا واقعہ نہایت مجمل طور پرذکر کیااور پھر اس کی تفصیل بیان کی، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذۡ اَوَى الۡفِتۡيَةُ اِلَى الۡكَهۡفِ ﴾ ’’جب جا بیٹھے وہ نوجو ان غار میں ‘‘ اور یہ نوجوان اس غار میں پناہ گزین ہو کر اپنی قوم کی تعذیب اور فتنے سے بچنا چاہتے تھے۔ ﴿ فَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً ﴾ ’’پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے‘‘ یعنی اپنی رحمت کے ذریعے سے ہمیں ثابت قدمی عطا کر، شر سے محفوظ رکھ اور ہمیں نیکی کی توفیق دے۔ ﴿ وَّهَيِّئۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا ﴾ ’’اور ہمارے کام میں درستی پیدا کر۔‘‘ یعنی رشد و ہدایت تک پہنچانے والا ہر راستہ ہمارے لیے آسان فرما دے اور ہمارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کر۔ پس وہ کوشش کے ساتھ اپنی قوم کی تعذیب اور فتنہ سے فرار ہو کر ایسے محل و مقام کی طرف بھاگے جہاں ان کے لیے چھپنا ممکن تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ اور اپنے نفس اور مخلوق پر بھروسہ كيے بغیر، اپنے معاملات میں اللہ تعالیٰ سے آسانی کا سوال کرتے رہے۔
[11] اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ان کے لیے ایک ایسا امر مقررکر دیا جو ان کے گمان میں بھی نہ تھا۔ فرمایا: ﴿ فَضَرَبۡنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمۡ فِي الۡكَهۡفِ ﴾ ’’پس تھپک دیے ہم نے ان کے کان اس غار میں ‘‘ یعنی ہم نے انھیں سلا دیا ﴿ سِنِيۡنَ عَدَدًا﴾ ’’چند سال گنتی کے‘‘ اور یہ تین سو نو سال کا عرصہ ہے۔ اس نیند میں ان کے دلوں کے لیے اضطراب اور خوف سے اور ان کی قوم سے حفاظت تھی۔
[12]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنٰهُمۡ ﴾ ’’پھر ہم نے ان کو اٹھایا‘‘ یعنی پھر ہم نے ان کو ان کی نیند سے بیدار کیا ﴿ لِنَعۡلَمَ اَيُّ الۡحِزۡبَيۡنِ اَحۡصٰؔى لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا ﴾ ’’تاکہ ہم جانیں کہ دونوں گروہوں میں سے کس نے یاد رکھی ہے وہ مدت، جس میں وہ ٹھہرے رہے‘‘ یعنی تاکہ ہم دیکھیں کہ ان میں سے اپنی مدت کی مقدار کو کون ٹھیک طرح سے شمار کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَذٰلِكَ بَعَثۡنٰهُمۡ لِيَتَسَآءَلُوۡا بَيۡنَهُمۡ ﴾(الکہف : 18؍19) ’’اور اس طرح ہم نے انھیں دوبارہ اٹھایا تاکہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں ۔‘‘ یعنی اپنے سوئے رہنے کی مدت کی مقدار، ضبط حساب اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ، اس کی حکمت اور رحمت کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کریں … اور اگر وہ دائمی طور پر سوئے رہتے تو ان کے واقعہ کی کسی کو کوئی اطلاع نہ ہوتی۔