Tafsir As-Saadi
18:29 - 18:31

اور کہہ دیجیے! حق تو ہے تمھارے رب کی طرف سے، سو جو چاہے تو ایمان لائے وہ اور جو چاہے تو کفر کرے، بلاشبہ ہم نے تیار کی ہے ظالموں کے لیے ایسی آگ کہ گھیرا ہوا ہے ان کو اس کی قناتوں نےاور اگر وہ فریاد کریں گے تو فریاد رسی کیے جائیں گے ساتھ ایسے پانی کے جو مانند تیل کی تلچھٹ کے ہو گا، وہ بھون ڈالے گا چہرے (ان کے)، برا پینا ہے وہ اور بری آرام گاہ ہے وہ (29) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اورانھوں نے عمل کیے نیک، بلاشبہ ہم نہیں ضائع کرتے اجر اس شخص کا جس نے اچھا عمل کیا (30) یہی لوگ، انھی کے لیے ہیں باغات ہمیشگی کے، بہتی ہیں نیچے ان کے نہریں ، وہ زیور پہنائے جائیں گے اس میں ، کنگن سونے کےاور وہ پہنیں گے کپڑے سبز رنگ کے، باریک اور موٹے ریشم کے اس حال میں کہ ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے وہ ان میں اوپر تختوں کے، اچھا بدلہ ہے (جنت)اور اچھی آرام گاہ ہے (31)

[29] اے محمد (ﷺ)! لوگوں سے کہہ دیجیے کہ یہ تمھارے رب کی طرف سے حق ہے، یعنی ضلالت میں سے ہدایت، گمراہی میں سے راہ راست اور اہل شقاوت واہل سعادت کی صفات واضح ہو گئی ہیں اور یہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے حق کو اپنے رسولﷺ کی زبان پر واضح کر دیا اور جب حق واضح ہو گیا تو اس میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہا۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾ ’’پھر جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے‘‘ یعنی دو راستوں میں سے ایک راستے کو اختیار کیے بغیر چارہ نہیں ۔ جس پر بندہ توفیق اور عدم توفیق کے مطابق گامزن ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندے کو ارادے کی آزادی عطا کی ہے، اس آزادی کی بنا پر بندہ ایمان لانے، کفر کرنے اور خیروشر کے ارتکاب کی قدرت رکھتا ہے۔ پس جو کوئی ایمان لے آتا ہے اسے حق و صواب کی توفیق عطا ہوتی ہے اور جو کوئی کفر کرتا ہے اس پر حجت قائم ہو جاتی ہے۔ اسے ایمان پر مجبور نہیں کیا جاتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ لَاۤ اِكۡرَاهَ فِي الدِّيۡنِ١ۙ ۫ قَدۡ تَّبَيَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَيِّ ﴾(البقرۃ:2؍256) ’’دین میں کوئی جبر نہیں ، ہدایت گمراہی سے واضح ہو گئی ہے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کے انجام کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم نے ظالموں کے لیے تیار کی ہے‘‘ یعنی جنھوں نے کفر، فسق اور معصیت کے ذریعے سے ظلم کا ارتکاب کیا ﴿نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمۡ سُرَادِقُهَا﴾ ’’آگ، جن کو گھیر رہی ہیں اس کی قناتیں ‘‘ یعنی آگ کی بڑی بڑی دیواریں ہیں جنھوں نے ان ظالموں کو گھیر رکھا ہے۔ وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ ہو گا نہ نجات کا کوئی ذریعہ، وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠﴾ ’’اور اگر وہ فریاد کریں گے‘‘ یعنی اگر وہ اپنی سخت پیاس بجھانے کے لیے پانی مانگیں گے ﴿ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ﴾ ’’تو ملے گا ان کو پانی، جیسے پیپ‘‘ یعنی انھیں پگھلے ہوئے سیسے یا تیل کی تلچھٹ جیسا پانی پلایا جائے گا۔ ﴿ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ﴾ ’’جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ یعنی جو شدت حرارت کی وجہ سے چہروں کو بھون کر رکھ دے گا، تب انتڑیوں اور پیٹ کا کیا حال ہو گا؟ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ يُصۡهَرُ بِهٖ مَا فِيۡ بُطُوۡنِهِمۡ وَالۡجُلُوۡدُؕ۰۰وَلَهُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِيۡدٍ ﴾(الحج:22؍20، 21) ’’اس گرم پانی سے ان کے پیٹ اور ان کی کھالیں گل جائیں گی اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہوں گے۔‘‘ ﴿ بِئۡسَ الشَّرَابُ﴾ ’’کیا برا پینا ہے‘‘ وہ جس سے پیاس بجھانا اور پیاس کے اس عذاب کو دور کرنا مقصود ہو گا مگر اس کے برعکس ان کے عذاب میں اضافہ اور ان کی عقوبت میں شدت ہو گی۔ ﴿ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾ ’’اور کیا بری (یہ آگ) آرام گاہ ہے‘‘ یہ آگ کے احوال کی مذمت ہے یعنی یہ آرام کی بدترین جگہ ہو گی۔ کیونکہ یہاں آرام نہیں بلکہ عذاب عظیم ہو گا جو بہت ہی تکلیف دہ ہو گا۔ گھڑی بھر کے لیے بھی یہ عذاب ان سے دور نہیں ہو گا اور وہ سخت مایوسی کے عالم میں ہوں گے۔ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے جس طرح انھوں نے مہربان اللہ کو فراموش کر دیا ،وہ بھی انھیں فراموش کر دے گا۔
[30] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فریق ثانی ،یعنی اہل ایمان کا ذکر فرماتا ہے:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں ، یوم آخرت اور اچھی، بری تقدیر پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ نیک کام یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کیا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ مَنۡ اَحۡسَنَ عَمَلًا﴾ ’’بے شک ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اچھے عمل کرتے ہیں ۔‘‘ عمل میں احسان یہ ہے کہ اس عمل میں بندے کے پیش نظر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو اور یہ عمل شریعت کی اتباع میں ہو۔ یہی وہ عمل ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہرگز ضائع نہیں کرے گا بلکہ اسے عمل کرنے والوں کے لیے محفوظ رکھے گا اور اپنے فضل و کرم سے ان کے عمل کے مطابق انھیں پورا پورا اجر عطا کرے گا۔
[31] اور ان الفاظ میں ان کے اجر کا ذکر فرمایا: ﴿ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهِمُ الۡاَنۡهٰرُ يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ وَّيَلۡبَسُوۡنَ ثِيَابًا خُضۡرًا مِّنۡ سُنۡدُسٍ وَّاِسۡتَبۡرَقٍ مُّتَّـكِــِٕيۡنَ فِيۡهَا عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ ’’ایسے لوگوں کے لے ہمیشہ رہنے والے باغ ہیں جن میں ان کے (محلوں کے) نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہنا کریں گے اور تختوں پر تکیے لگا کر بیٹھا کریں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح کی صفات سے موصوف ہیں ان کے لیے بلند باغات ہوں گے جن میں بکثرت درخت ہوں گے جو جنت کے رہنے والوں پر سایہ کناں ہوں گے، ان میں بکثرت دریا ہوں گے جو ان خوبصورت درختوں اور عالیشان محلوں کے نیچے بہہ رہے ہوں گے۔ جنت میں ان کے لیے سونے کے زیورات ہوں گے، ان کے ملبوسات سبز ریشم کے بنے ہوئے ہوں گے (سندس) سے مراد دبیز ریشم اور (استبرق) سے مراد باریک ریشم جو عصفر سے رنگا ہوا ہو۔ وہ قیمتی کپڑوں سے آراستہ كيے ہوئے اور سجائے ہوئے تختوں پر براجمان ہوں گے۔ (اریکۃ) کو اس وقت تک (اریکۃ) نہیں کہا جا سکتا جب تک کہ وہ مذکورہ صفات سے متصف نہ ہو۔ ان تختوں پر سہارا لگا کر بیٹھے ہوئے کی کیفیت دلالت کرتی ہے کہ وہ کامل راحت میں ہوں گے اور ہر قسم کی تکان ان سے دور ہوگی، خدام ان کی دل پسند چیزوں کے ساتھ ان کی خدمت میں مصروف ہوں گے اور ان تمام امور کی تکمیل اس طرح ہو گی کہ انھیں جنتوں میں دائمی خلود اور ابدی قیام حاصل ہو گا۔ پس یہ جلیل القدر گھر ﴿ نِعۡمَ الثَّوَابُ﴾ ’’کیا خوب بدلہ ہے‘‘ نیک عمل کرنے والوں کے لیے ﴿ وَحَسُنَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾ ’’اور کیا خوب آرام کی جگہ ہے‘‘ جس میں یہ آرام کریں گے اور اس کی چیزوں سے متمتع ہوں گے جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے، آنکھیں لذت اٹھائیں گی، یعنی خوشی، مسرت، دائمی فرحت، کبھی ختم نہ ہونے والی لذتیں اور وافر نعمتیں ۔ اس گھر سے بہتر آرام کرنے کی جگہ اور کون سی ہو سکتی ہے کہ اس کے رہنے والوں میں سے سب سے ادنیٰ شخص اپنی ملکیت اور اپنی نعمتوں میں ، اپنے محلوں اور باغوں میں دو ہزار سال چلے پھرے گا اور وہ اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں دیکھے گا۔ اس کی تمام آرزوئیں اور اس کے تمام مقاصد پورے ہوں گے۔ جہاں اس کی آرزوئیں پہنچنے سے قاصر ہوں گی وہاں ان کے مطالب میں اضافہ کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان نعمتوں کا دوام ان کے اوصاف اور حسن میں اضافے کا باعث ہے۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمارے شر، ہماری تقصیر اور ہمارے گناہوں کے سبب سے ہمیں اپنے اس احسان سے محروم نہ کرے جو اس کے پاس ہے۔ اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جنت میں مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے زیورات ہوں گے جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ يُحَلَّوۡنَ﴾ ’’زیور پہنائے جائیں گے‘‘ علی الاطلاق بیان کیا گیا ہے اور اسی طرح ریشم کے ملبوسات بھی سب کے لیے ہوں گے۔