اگر تو دیکھتا ہے مجھے، کہ میں کم تر ہوں تجھ سے مال میں اور اولاد میں (39) تو امید ہے کہ میرا رب، یہ کہ دے وہ مجھے زیادہ بہتر تیرے باغ سےاور بھیجے اوپر اس (تیرے باغ)کے کوئی عذاب آسمان سے، پھر ہو جائے وہ (باغ) چٹیل میدان پھسلنے والا (40) یا ہو جائے پانی اس کا گہرا، پس ہرگز نہ اسطاعت رکھے تو اسے ڈھونڈ لانے کی (41) اور گھیر لیا (تباہ کر دیا) گیا پھل اس کا، سو ہو گیا وہ ملتا تھا دونوں ہتھیلیاں اپنی (افسوس سے) اوپر اس کے جو خرچ کیا تھا اس نے اس میں ، جبکہ وہ (باغ) گرا ہوا تھا اوپر اپنی چھتریوں کے اور وہ کہتا تھا، کاش نہ شریک ٹھہراتا میں ساتھ اپنے رب کے کسی کو بھی (42) اور نہ ہوئی اس کے لیے کوئی جماعت، کہ وہ مدد کرتی اس کی سوائے اللہ کے،اور نہ ہوا وہ (خود) بدلہ لینے والا (ہم سے)(43) وہاں تو تمام اختیار اللہ سچے ہی کا ہے، وہی ہے بہتر ثواب (دینے) میں اور بہتر ہے اچھے انجام سے بہرہ ور کرنے میں (44)
[39] یعنی صاحب ایمان شخص نے اس کافر سے کہا کہ تو اگرچہ کثرت مال و اولاد کی بنا پرمجھ پر فخر جتاتا ہے اور تو سمجھتا ہے کہ میں مال و اولاد کے لحاظ سے تجھ سے کم تر ہوں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور جو امید اللہ تعالیٰ کی نوازش اور احسان پر رکھی جا سکتی ہے وہ اس دنیا و مافیہا سے بہتر ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
[40]﴿ فَعَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يُّؤۡتِيَنِ خَيۡرًا مِّنۡ جَنَّتِكَ وَيُرۡسِلَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’پس امید ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کرے گا اور بھیجے گا اس پر‘‘ یعنی اس باغ پر جس کی بنا پر تو نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور اس باغ نے تجھے دھوکے میں مبتلا کر دیا، ﴿ حُسۡبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’عذاب آسمان سے‘‘ یعنی طوفانی بارش یا اور کسی قسم کا عذاب ﴿فَتُصۡبِحَ ﴾ ’’پس اس سبب سے وہ ہو جائے‘‘ ﴿ صَعِيۡدًا زَلَقًا﴾ ’’میدان صاف‘‘ کہ اس کے تمام درخت جڑوں سے اکھڑ جائیں، اس کا پھل تلف ہو جائے، اس کی کھیتی تباہ ہو جائے اور اس کا فائدہ مفقود ہو کر رہ جائے۔
[41]﴿ اَوۡ يُصۡبِحَ مَآؤُهَا ﴾ ’’یا ہو جائے پانی اس کا‘‘ یعنی باغ کے پانی کا سرچشمہ ﴿ غَوۡرًا ﴾ ’’زمین میں اور گہرا‘‘ ﴿ فَلَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ لَهٗ طَلَبًا ﴾ ’’پس ہرگز نہیں لاسکے گا تو اسے ڈھونڈ کر‘‘ یعنی اتنی گہرائی میں چلا جائے کہ تم کھدائی کے آلات کے ذریعے سے بھی وہاں تک نہ پہنچ سکو۔ اس صاحب ایمان شخص نے صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر غضبناک ہوکر اس کے باغ کے لیے بددعا کی تھی کیونکہ اس باغ نے اس کو دھوکے اور سرکشی میں مبتلا کر دیا تھا اور وہ اس باغ پر مطمئن ہوکر رہ گیا تھا۔ اس بد دعا کا مقصد یہ تھا کہ شاید وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اس کی رشد و ہدایت کی طرف لوٹ آئے اور اپنے بارے میں وہ خوب غور و فکر کرے۔
[42] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی دعا قبول فرمائی۔ ﴿ وَاُحِيۡطَ بِثَمَرِهٖ ﴾ ’’اور سمیٹ لیا گیا اس کا سارا پھل‘‘ یعنی اس کے پھل پر عذاب نازل ہو گیا، اس نے اس کا احاطہ کر کے اس کو تباہ کر دیا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھل کا احاطہ کرنا اس بات کو مستلزم ہے کہ اس کے باغ کے تمام درخت، ان کا تمام پھل اور زمین میں کاشت کی ہوئی تمام فصل سب کچھ تباہ ہو گیا۔ پس وہ بے حد نادم ہوا اور اسے سخت افسوس ہوا۔ ﴿ فَاَصۡبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيۡهِ عَلٰى مَاۤ اَنۡفَقَ فِيۡهَا﴾ ’’پس رہ گیا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیرتا ہوا، اس مال پر جو اس نے اس باغ میں لگایا تھا‘‘ یعنی اس نے اپنے باغ پر جو دنیاوی اخراجات كيے تھے وہ سب ضائع ہو گئے اور وہ کف افسوس ملتا رہ گیا اور اس کا کوئی عوض باقی نہ رہا، نیز وہ اپنے شرک اور اپنی بدی پر بھی پشیمان ہوا، اس لیے وہ کہنے لگا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُشۡرِكۡ بِرَبِّيۡۤ اَحَدًا﴾ ’’کاش میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا۔‘‘
[43] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمۡ تَكُنۡ لَّهٗ فِئَةٌ يَّنۡصُرُوۡنَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَمَا كَانَ مُنۡتَصِرًا﴾ ’’اور نہ ہوئی اس کی کوئی جماعت کہ وہ اس کی مدد کرے اور نہ ہوا وہ خود بدلہ لینے والا‘‘ یعنی جب اس کے باغ پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو ہر چیز اس کے ہاتھوں سے نکل گئی جس پر وہ فخر کیا کرتا تھا جس کے زعم پر کہا کرتا تھا: ﴿ اَنَا اَكۡثَرُ مِنۡكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا ﴾ یہ اعوان و انصار اس سے کچھ بھی عذاب دور نہ کر سکے جبکہ اسے ان کی سخت ضرورت تھی اور وہ خود بھی اپنی مدد نہ کر سکا اور وہ اس عذاب سے کیسے بچ سکتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر کے مقابلے میں کون اس کی مدد کر سکتا تھا جس کا فیصلہ جب اللہ تعالیٰ جاری فرما دیتا ہے تو زمین و آسمان کے تمام رہنے والے مل کر بھی اس میں سے کسی چیز کو زائل کرنا چاہیں تو وہ اس کی قدرت نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے لطف و کرم سے بعید نہیں کہ اس شخص نے جس کے باغ پر آفت نازل ہوئی تھی، اپنے احوال کی اصلاح کر لی ہو، وہ اپنے رشد و ہدایت کی طرف لوٹ آیا ہوا اور اس کا تمام تکبر اور اس کی سرکشی ختم ہو گئی ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس نے اپنے شرک پر ندامت کا اظہار کیا تھا اور یہ بھی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے تمرد اور سرکشی کو دور کر کے اس کو دنیا ہی میں سزا دے دی ہو کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اسے اس دنیا ہی میں سزا دے دیتا ہے۔ عقل و وہم اللہ تعالیٰ کے فضل کا احاطہ نہیں کر سکتے اور اس کا انکار صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو ظالم اورسخت جاہل ہے۔
[44]﴿ هُنَالِكَ الۡوَلَايَةُ لِلّٰهِ الۡحَقِّ١ؕ هُوَ خَيۡرٌ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ عُقۡبًا ﴾ ’’وہاں سب اختیار اللہ برحق کا ہے، اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیا ہوا بدلہ اچھا ہے‘‘ یعنی اس حال میں جس میں اللہ تعالیٰ اس شخص کو سزا دینے کا حکم جاری کرتا ہے جس نے سرکشی اختیار کی اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دی۔ اور عزت وتکریم اس شخص کے لیے جس نے ایمان لا کر نیک عمل كيے، اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا رہا اور دوسروں کو اس کی طرف دعوت دیتا رہا۔ اس بنا پر واضح ہو گیا کہ حقیقی ولایت کا مالک صرف اکیلا اللہ تعالیٰ ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا ولی اور دوست ہے، وہ اسے مختلف اقسام کی کرامات کے ذریعے سے تکریم بخشتا ہے اور اس کو شر اورتمام آفتوں سے بچاتا ہے۔ جو اپنے رب پر ایمان نہیں رکھتا اور نہ اسے اپنا والی اور سرپرست بناتا ہے، وہ دین و دنیا میں خسارہ اٹھاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ دنیاوی اور اخروی ثواب بہترین ثواب ہے جس پر امیدوں کو مرتکز ہونا چاہیے۔ اس عظیم قصے میں اس شخص کے حال میں جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیاوی نعمتیں عنایت کیں مگر ان نعمتوں نے اسے آخرت سے غافل کر کے سرکش بنا دیا اور وہ ان میں مگن ہو کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگا، لوگوں کے لیے عبرت ہے کہ ان نعمتوں کا انجام زوال اور اضمحلال ہے اگر بندہ ان نعمتوں سے تھوڑا فائدہ اٹھاتا ہے تو طویل عرصے تک محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بندۂ مومن کے لیے مناسب یہی ہے کہ جب اسے اپنے مال اور اولاد میں سے کچھ اچھا لگے تو وہ اس نعمت کو نعمت عطا کرنے والے کی طرف منسوب کرے اور یہ کہے:﴿ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ ﴾ تاکہ وہ شکر گزار بنے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کی بقا کے لیے سبب بننے والا بنے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَكَ قُلۡتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’کیوں نہ، جب تو داخل ہوا اپنے باغ میں ، کہا تو نے، جو چاہے اللہ سو وہ ہو۔ طاقت نہیں مگر جو دے اللہ۔‘‘ان آیات کریمہ میں لذات دنیا اور اس کی شہوات کے بدلے میں ان بہتر چیزوں کے ذریعے تسلی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں ۔ فرمایا:﴿اِنۡ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنۡكَ مَالًا وَّوَلَدًاۚ۰۰فَعَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يُّؤۡتِيَنِ خَيۡرًا مِّنۡ جَنَّتِكَ ﴾ ان آیات کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ مال اور اولاد اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مددگار نہ بنیں تو وہ کوئی فائدہ نہیں دیتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:﴿ وَمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ بِالَّتِيۡ تُقَرِّبُكُمۡ عِنۡدَنَا زُلۡفٰۤى اِلَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ﴾(سبا: 34؍37) ’’تمھارا مال اور تمھاری اولاد نہیں، جو تمھیں ہم سے قریب کرتی ہو مگر وہی قریب ہوتا ہے جو ایمان لائے اور نیک کام کرے۔‘‘ اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص کا مال اس کی سرکشی، کفر اور اس کے لیے اخروی خسارے کا سبب ہو اس مال کے تلف ہونے کی دعا کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر جبکہ وہ اس مال کی بنا پر اپنے آپ کو اہل ایمان سے افضل سمجھتا ہو اور ان پر فخر کا اظہار کرتا ہو۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ولایت اور عدم ولایت، اس وقت ظاہر ہو گی جب غبار چھٹ جائے گا، جزا و سزا ثابت ہو گی اور عمل کرنے والے اپنا اجر پا لیں گے:﴿ هُنَالِكَ الۡوَلَايَةُ لِلّٰهِ الۡحَقِّ١ؕ هُوَ خَيۡرٌ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ عُقۡبًا ﴾ ’’اس وقت معلوم ہو گا کہ کار سازی تو اللہ برحق کے اختیار میں ہے، اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیا ہوا بدلہ اچھا ہے۔‘‘