نہیں گواہ بنایا تھا میں نے ان کو پیدائش میں آسمانوں اور زمین کی اور نہ پیدائش میں ان کی اپنی ہی اور نہیں میں بنانے والا گمراہ کرنے والوں کو بازو (مددگار)(51) اور جس دن کہے گا اللہ، بلاؤ تم میرے ان شریکوں کو جن کا دعویٰ کرتے تھے تم تو وہ بلائیں گے انھیں ، سو نہیں جواب دیں گے وہ ان کواور بنا دیں گے ہم ان کے درمیان ہلاکت گاہ (52)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ’’میں نے شیاطین (اور ان گمراہی پھیلانے والوں ) کو گواہ نہیں بنایا‘‘ ﴿ خَلۡقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلَا خَلۡقَ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’آسمانوں ، زمین اور ان کی اپنی تخلیق پر۔‘‘ یعنی میں نے ان کی پیدائش پر ان کو حاضر کیا نہ ان سے مشورہ لیا، پھر وہ ان میں سے کسی چیز کے خالق کیسے کہلا سکتے ہیں ؟ بلکہ اللہ تعالیٰ تخلیق و تدبیر اور حکمت و تقدیر میں یکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی تمام اشیاء کا خالق ہے اور وہی اپنی حکمت سے ان میں تصرف کرتا ہے پس کیسے شیاطین کو اللہ کے شریک ٹھہرایا جاتا ہے ان کو والی و مددگار بنایا جاتا ہے اور ان کی اسی طرح اطاعت کی جاتی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی کی جاتی ہے، حالانکہ انھوں نے کچھ پیدا کیا ہے نہ کائنات کی پیدائش پر وہ حاضر تھے اور نہ کائنات کی پیدائش پر اللہ تعالیٰ کے معاون و مددگار تھے؟ اسی لیے فرمایا:﴿ وَمَا كُنۡتُ مُتَّؔخِذَ الۡمُضِلِّيۡنَ عَضُدًا﴾ ’’اور نہیں ہوں میں کہ گمراہ کرنے والوں کو مدد گار بناؤں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے کسی کام میں معاونین کا ہونا، اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں اور نہ یہ مناسب ہے کہ وہ تدبیر کائنات کا کچھ حصہ ان کے سپرد کر دے کیونکہ وہ تو مخلوق کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اپنے رب کی عداوت پر کمربستہ رہتے ہیں ، اس لیے وہ اسی لائق ہیں کہ وہ ان کو دور رکھے اوراپنے قریب نہ آنے دے۔
[52] جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان کیا جنھوں نے دنیا میں اس کے ساتھ شرک کیا تھا اور ان کے شرک کا پوری طرح ابطال کیا اور مشرک پر جہالت اور سفاہت کا حکم لگایا تو قیامت کے روز ان کے خود ساختہ شریکوں کی معیت میں ان کا جو حال ہوگا وہ بھی بیان کر دیا، چنانچہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا:﴿ نَادُوۡا شُرَؔكَآءِيَ ﴾ ’’پکارو میرے شریکوں کو۔‘‘ یعنی تمھارے اپنے زعم باطل کے مطابق میرے جو شریک ہیں ان سب کو بلا لو۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ زمین و آسمان میں کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں یعنی اب ان خود ساختہ شریکوں کو بلا لو تاکہ تمھیں کوئی فائدہ دے سکیں اور تمھیں ان سختیوں سے نجات دلا سکیں ۔ ﴿ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾ ’’پس یہ ان کو پکاریں گے مگر وہ ان کو جواب نہ دیں گے۔‘‘ اس لیے کہ اس روز اقتدار اور فیصلے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہو گا کسی ہستی کے پاس ذرہ بھر بھی اختیار نہیں ہو گا کہ وہ اپنے آپ کو یا کسی اور کو کوئی نفع پہنچا سکے: ﴿ وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’اور کر دیں گے ہم ان کے درمیان‘‘ یعنی مشرکین اور ان کے شریکوں کے درمیان ﴿ مَّوۡبِقًا ﴾ ’’ہلاکت کا سامان‘‘ یعنی ہلاکت کا گڑھا ان کے درمیان حائل کر دیں گے جو ان کو جدا کر دے گا اور ان کو ایک دوسرے سے دور کر دے گا۔ اس وقت ان کی ایک دوسرے کے ساتھ عداوت ظاہر ہو جائے گی، ان کے خود ساختہ شرکاء ان کا انکار کریں گے اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوۡا لَهُمۡ اَعۡدَآءًؔ وَّكَانُوۡا بِعِبَادَتِهِمۡ كٰفِرِيۡنَ ﴾(الاحقاف:46؍6) ’’جب تمام لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔‘‘