Tafsir As-Saadi
18:89 - 18:98

پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)

[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘