اور چھوڑیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن، وہ گھس جائیں گے بعض میں اور پھونکا جائے گا صور میں ، پھر جمع کریں گے ہم ان سب کو (99) اور سامنے لے آئیں گے ہم جہنم کو اس دن، کافروں کے روبرو (100)وہ لوگ کہ تھیں آنکھیں ان کی پردے میں میری یاد سےاور تھے وہ نہیں استطاعت رکھتے سننے کی (101)
[99]﴿ وَتَرَؔكۡنَا بَعۡضَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ يَّمُوۡجُ فِيۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’اور چھوڑ دیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن ایک دوسرے میں گھستے‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ ضمیر یاجوج وماجوج کی طرف لوٹتی ہو۔ جب وہ اپنے علاقوں سے نکل کر لوگوں پر حملہ آور ہوں گے تو اپنی کثرت اور تمام زمین پر پھیل جانے اور اس کو بھر دینے کی وجہ سے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتۡ يَاۡجُوۡجُ وَمَاۡجُوۡجُ وَهُمۡ مِّنۡ كُلِّ حَدَبٍ يَّنۡسِلُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍96) ’’یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ ہر بلند جگہ سے اتر پڑیں گے۔‘‘ اور یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر خلائق کی طرف لوٹتی ہو یہ کہ لوگ قیامت کے روز اکٹھے ہوں گے وہ بہت زیادہ ہوں گے اور اضطراب، ہول اور زلزلوں کی وجہ سے ایک دوسرے کو دھکم پیل کر رہے ہوں گے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ:﴿ وَّنُفِخَ فِي الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰهُمۡ جَمۡعًاۙ وَّعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ عَرۡضَا ِ۟ ۰۰الَّذِيۡنَ كَانَتۡ اَعۡيُنُهُمۡ فِيۡ غِطَآءٍ عَنۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكَانُوۡا لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَمۡعًا ﴾ یعنی جب اسرافیلu صور پھونکیں گے تو اللہ تعالیٰ تمام ارواح کو جسموں میں واپس لوٹا دے گا، پھر تمام اولین و آخرین، کفار اور مومنین کو اکٹھا کر کے میدان قیامت میں جمع کرے گا تاکہ ان سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے، ان کا محاسبہ کیا جائے اور ان کے اعمال کی جزا دی جائے۔
[100] پس کفار کو، ان کے کفر کے مطابق، جہنم میں ڈالا جائے گا جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَّعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ عَرۡضًا﴾ ’’اور دکھلا دیں گے ہم جہنم اس دن کافروں کو سامنے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ لِلۡغٰوِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍91) ’’اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لایا جائے گا۔‘‘ یعنی کفار کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ یہ ان کا ٹھکانا بنے اور تاکہ کفار جہنم کی بیڑیوں اس کی بھڑکتی ہوئی آگ، اس کے ابلتے ہوئے پانی اور اس کی ناقابل برداشت سردی سے متمتع ہوں اور اس کے عذاب کا مزا چکھیں جس سے دل گونگے اور کان بہرے ہو جائیں گے۔
[101] یہ ان کے اعمال کا نتیجہ اور ان کے افعال کی جزا ہے۔یہ لوگ دنیا میں اس حال میں تھے: ﴿ كَانَتۡ اَعۡيُنُهُمۡ فِيۡ غِطَآءٍ عَنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا تھا میری یاد سے‘‘ یعنی یہ لوگ ذکر حکیم اور قرآن کریم سے روگردانی کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے: ﴿ قُلُوۡبُنَا فِيۡۤ اَ كِنَّةٍ مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾(حمٓ السجدۃ:41؍5) ’’جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں ۔‘‘ اور ان کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ کی فائدہ مند نشانیوں کو دیکھنے سے روکتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلٰۤى اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَةٌ ﴾(البقرۃ:2؍7) ’’اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔‘‘ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَمۡعًا ﴾ ’’اور وہ نہیں طاقت رکھتے تھے سننے کی‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو، جو ایمان تک پہنچاتی ہیں ، قرآن اور رسول (ﷺ) کے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے سن نہیں سکتے کیونکہ بغض رکھنے والا شخص جس کے خلاف بغض رکھتا ہے اس کی بات کو غور سے سن نہیں سکتا۔ جب وہ علم اور بھلائی کے راستوں سے محجوب ہو جاتے ہیں تب ان کے پاس سننے کے لیے کان ہوتے ہیں نہ دیکھنے کے لیے آنکھیں اور نہ سمجھنے کے لیے عقل نافع۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کفر کیا، اس کی آیات کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا، اس لیے وہ جہنم کے مستحق ٹھہرے جو بہت برا ٹھکانا ہے۔