کیا پس گمان کیا ہے ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، یہ کہ ٹھہرائیں وہ میرے بندوں کو، سوائے میرے، کارساز؟ بلاشبہ ہم نے تیار کیا ہے جہنم کو کافروں کے لیے بطور مہمانی (102)
[102] یہ مشرکین اور کافروں کے دعوے کے بطلان کی دلیل ہے جنھوں نے بعض انبیائے کرام اور اولیاء اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیا، وہ ان کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ اولیائے کرام ان کے مددگار ہوں گے جو ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلائیں گے اور ثواب عطا کریں گے، حالانکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں سے کفر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ استفہام اور انکار کے پیرائے میں ، جس سے ان کے اس عقیدے کا عقلی طور پر بطلان متحقق ہوتا ہے… فرماتا ہے:﴿ اَفَحَسِبَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنۡ يَّؔتَّؔخِذُوۡا عِبَادِيۡ مِنۡ دُوۡنِيۡۤ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’کیا سمجھتے ہیں کافر لوگ کہ ٹھہرائیں میرے بندوں کو میرے سوا دوست‘‘ یعنی ایسا نہیں ہو سکتا اور کوئی ولی اللہ، اللہ تعالیٰ کے کسی دشمن کو اپنا دوست نہیں بنا سکتا کیونکہ تمام اولیاء اللہ، اللہ تعالیٰ سے محبت، اس کی رضا، اس کی ناراضی اور اس کے بغض کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی موافقت کرتے ہیں ۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد، اس کے اس ارشاد کے مشابہہ ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ يَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اَهٰۤؤُلَآءِ اِيَّاكُمۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ۰۰ قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ ﴾(سبا:34؍40-41) ’’جس روز اللہ تمام لوگوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے (ان مشرکین کے متعلق) پوچھے گا کیا یہی وہ لوگ ہیں جو تمھاری عبادت کیا کرتے تھے؟ تو وہ جواب میں عرض کریں گے تو پاک ہے ان کی بجائے تو ہمارا ولی (دوست) ہے۔‘‘ پس جو کوئی اس زعم میں مبتلا ہے کہ اس نے ولی اللہ کو اپنا دوست بنا لیا ہے جبکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے۔ تو وہ سخت جھوٹا ہے … ظاہر میں اس آیت میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ کیا کفار نے، جو اللہ تعالیٰ کے منکر اور اس کے رسولوں کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں یہ گمان کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اپنا ولی و مددگار بنا لیں گے جو ان کی مدد کریں گے، ان کو فائدہ پہنچائیں گے اور ان سے تکلیفوں کو دور کریں گے؟ یہ ان کا باطل خیال اور فاسد گمان ہے کیونکہ مخلوق میں سے کسی کے قبضہء قدرت میں نفع ونقصان نہیں ۔ یہ معنیٰ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے مشابہت رکھتا ہے۔ ﴿ قُلِ ادۡعُوا الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ فَلَا يَمۡلِكُوۡنَ كَشۡفَ الضُّرِّ عَنۡكُمۡ وَلَا تَحۡوِيۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍56) ’’کہہ دیجیے کہ تم پکار دیکھو اپنے ان خود ساختہ معبودوں کو جن کو تم اللہ کے سوا کارساز سمجھتے ہو تو (یاد رکھو) وہ تمھاری تکلیف دور کرنے کی قدرت رکھتے ہیں نہ بدلنے کی۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مشابہہ ہے۔ ﴿ وَلَا يَمۡلِكُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الشَّفَاعَةَ ﴾(الزخرف:43؍86) ’’وہ لوگ جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ، سفارش کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔‘‘ اور اس قسم کی دیگر آیات جن میں اللہ تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی کو ولی و مددگار بناتا ہے تاکہ وہ اس کی مدد کرے اور اس سے موالات رکھے وہ گمراہ ہے، وہ خائب و خاسر ہے اس کی امید پوری نہیں ہو گی اور نہ وہ اپنے مقصد کو پا سکے گا۔ ﴿ اِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ نُزُلًا ﴾ ’’بے شک ہم نے تیار کیا ہے جہنم کو کافروں کی مہمانی کے لیے۔‘‘ یعنی ہم نے کفار کی ضیافت اور مہمانی کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے۔ پس کیا بدترین قیام گاہ ان کا مسکن ہے اور کیا بدترین جہنم ان کی مہمانی ہے!