کہہ دیجیے! کیا ہم خبردیں تمھیں زیادہ خسارہ پانے والوں کی عملوں کے اعتبار سے؟ (103) وہ لوگ ضائع ہوگئی کوشش ان کی زندگانیٔ دنیا میں ، جبکہ وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ اچھا کر رہے ہیں کام (104) یہی لوگ ہیں جنھوں نے انکار کیا آیات کا اپنے رب کی اور اس کی ملاقات کا، پس برباد ہو گئے عمل ان کے، سو نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے دن قیامت کے کوئی وزن (105) یہ، سزا ان کی جہنم ہے بوجہ اس کے کفر کیا انھوں نےاور بنایا انھوں نے میری آیتوں کو اور میرے رسولوں کو ٹھٹھا (106)
[103] اے محمد!(ﷺ) لوگوں کو ڈرانے کے لیے کہہ دیجیے ! کیا میں تمھیں اس شخص کے بارے میں آگاہ کروں جو علی الاطلاق، اپنے اعمال میں سب سے زیادہ خائب و خاسر ہے؟
[104]﴿اَلَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’وہ لوگ جن کی کوششیں رائیگاں گئیں دنیا کی زندگی میں ۔‘‘ یعنی انھوں نے جو بھی عمل کیا سب باطل ہو کر رائیگاں گیا اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں ۔ تب ان اعمال کا کیا حال ہو گا جن کے بارے میں وہ خود بھی جانتے ہیں کہ یہ باطل ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت ہے؟
[105] پس یہ کون لوگ ہیں جن کے اعمال رائیگاں گئے، جو قیامت کے روز خود اور ان کے اہل و عیال سب خائب و خاسر ہوئے۔ آگاہ رہو، یہ تو کھلا خسارہ ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ وَلِقَآىِٕهٖ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا‘‘ یعنی جنھوں نے آیات قرآنی اور آیات عیانی، جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں ، اس کی کتابوں اور یوم آخرت پر ایمان کی موجب ہیں … کا انکار کیا ﴿ فَحَبِطَتۡ ﴾ ’’پس برباد ہو گئے‘‘ اس انکار کے باعث ﴿ اَعۡمَالُهُمۡ فَلَا نُقِيۡمُ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَزۡنًا ﴾ ’’ان کے عمل، پس نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے قیامت کے روز کوئی تول۔‘‘ وزن کا فائدہ تو نیکیوں اور برائیوں کے مقابلے کے وقت ہوتا ہے تاکہ راجح اور مرجوح کو دیکھا جا سکے اور ان لوگوں کے پاس تو نیکیاں سرے سے ہیں ہی نہیں کیونکہ ان میں نیکیوں کے معتبر ہونے کی شرط معدوم ہے اور وہ ہے ایمان۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا وَّلَا هَضۡمًا﴾(طٰہ:20؍112) ’’جو کوئی نیک عمل کرتا ہے اور وہ مومن بھی ہے تو اسے کسی ظلم اور حق تلفی کا خوف نہ ہو گا۔‘‘ لیکن ان کے اعمال کو شمار کیا جائے گا اور وہ اپنے اعمال کا اقرار کریں گے اور وہ گواہوں کے سامنے ذلیل و رسوا ہوں گے اور پھر ان اعمال کی پاداش میں انھیں عذاب دیا جائے گا۔
[106] اس لیے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمۡ﴾ ’’یہ بدلہ ہے ان کا‘‘ یعنی ان کے اعمال کا ضائع جانا ان کے کرتوتوں کا بدلہ ہے، قیامت کے روز ان کی حقارت اور خساست کی وجہ سے ان کے اعمال کا کوئی وزن ہی نہیں ہو گا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ استہزا کیا اور ان کا تمسخر اڑایا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں پر کامل طور پر ایمان لانا، ان آیات کی تعظیم کرنا اور انھیں پوری طرح قائم کرنا فرض ہے۔ مگر اس قضیے میں ان کا عمل اس کے برعکس ہے اس لیے وہ ہلاک ہوئے اور اوندھے منہ جہنم میں جا گرے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار اور ان کے اعمال کا انجام کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان اور ان کے اعمال کا انجام ذکر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا: