Tafsir As-Saadi
18:83 - 18:88

اور وہ (یہودی) پوچھتے ہیں آپ سے ذوالقرنین کی بابت، کہہ دیجیے! عنقریب پڑھوں گا میں تم پر اس کا کچھ ذکر (83) بلاشبہ ہم نے قدرت دی تھی اسے زمین میں اوردیا تھاہم نے اسے ہر چیز (قسم) سے سازوسامان (84) پس پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (85) یہاں تک کہ جب پہنچا وہ جائے غروب پر سورج کی تواس نے پایا اس کو کہ وہ غروب ہو رہا ہے ایک چشمے میں سیاہ کیچڑ کے اور پائی اس نے نزدیک اس (چشمے) کے ایک قوم، کہا ہم نے، اے ذوالقرنین! یا تو یہ کہ تو سزا دے اور یا یہ کہ اختیار کرے تو ان کی بابت اچھائی (86) اس نے کہا لیکن جو شخص ظالم ہے تو عنقریب ہم سزا دیں گے اس، پھر وہ لوٹا دیا جائے گا اپنے رب کی طرف، پس و ہ عذاب دے گا اسے عذاب سخت (87) اور لیکن وہ شخص جو ایمان لایا اور عمل کیے نیک تو اس کے لیے ہے بدلہ اچھااور عنقریب ہم کہیں گے (حکم دیں گے) اسے اپنے کام سے آسانی والا (88)

[83] اہل کتاب تھے یا مشرکین انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں : ﴿ سَاَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ مِّؔنۡهُ ذِكۡرًا﴾ ’’میں پڑھتا ہوں تم پر اس کا کچھ حال‘‘ جس میں نہایت مفید مگر تعجب خیز خبر ہے، یعنی میں تمھیں ذوالقرنین کے صرف وہی احوال سناؤں گا جن میں نصیحت اور عبرت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر احوال تو وہ ان کو نہیں سنائے گئے۔
[85,84]﴿ اِنَّا مَكَّـنَّا لَهٗ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم نے اس کو قوت عطا کی تھی زمین میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے بادشاہی سے نوازا اور زمین کے گوشوں پر اس کے حکم کو نافذ کیا اور لوگوں کو اس کا مطیع بنایا۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ سَبَبًاۙ فَاَتۡبَعَ سَبَبًا﴾ ’’اور دیا ہم نے اس کو ہر چیز کا سامان پھر پیچھے پڑا وہ ایک سامان کے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے وہ تمام اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے وہ ہر اس جگہ پہنچا جہاں وہ پہنچنا چاہتا تھا، جن کے ذریعے سے اس نے شہروں پر غلبہ حاصل کیا اور نہایت سہولت کے ساتھ دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا۔ اس نے وہ تمام اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے بہتر طریقے سے استعمال کیے۔ پس ہر شخص کو اسباب مہیا نہیں ہوتے اور نہ ہر شخص اسباب مہیا کرنے کی قدرت ہی رکھتا ہے۔ پس جب سبب حقیقی اور اس کو عمل میں لانے کی قدرت یکجا ہو جائے تو مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور اگر دونوں یا کوئی ایک معدوم ہو تو مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اور وہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ فرمایا نہ اس کے رسولﷺ نے اور نہ اس بارے میں کوئی ایسی اخبار منقول ہیں جو افادہ علم کی موجب ہوں ، اس لیے اس بارے میں سکوت اور ان اسرائیلیات کی طرف عدم التفات کے سوا کوئی چارہ نہیں جن کو ناقلین روایت کرتے ہیں ۔ مگر ہم اجمالی طور پر یہ ضرور جانتے ہیں کہ داخلی اور خارجی طور پر یہ اسباب نہایت قوی تھے جن کی بنا پر اس کے پاس ایک عظیم فوج تیار ہو گئی تھی جو اپنی عددی قوت، سامان حرب اور نظم کے اعتبار سے ایک بہت بڑی فوج تھی۔ اس فوج کی مدد سے اس نے اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کیا اور زمین کے مشرق و مغرب اور اس کے دور دراز گوشوں تک پہنچنے کی سہولت حاصل ہوئی۔
[86] پس اللہ تعالیٰ نے اسے وہ اسباب عطا کیے جن کے ذریعے سے وہ غروب آفتاب کی حد تک پہنچ گیا جہاں اس نے چشمے میں سورج کا عکس دیکھا گویا کہ وہ گدلے یعنی سیاہ پانی میں ڈوب رہا تھا۔ یہ منظر اس شخص کے لیے عام ہے، جس کے اور مغربی افق کے درمیان پانی ہو۔ اسے ایسے نظر آئے گا گویا سورج پانی کے اندر غروب ہو رہا ہے۔ اگرچہ وہ بہت بلندی پر ہو۔ اور مغرب کی سمت میں ذوالقرنین کو ایک قوم ملی۔ ﴿ قُلۡنَا يٰذَا الۡقَرۡنَيۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَاِمَّاۤ اَنۡ تَتَّؔخِذَ فِيۡهِمۡ حُسۡنًا ﴾ ’’ہم نے کہا: اے ذوالقرنین! یا تو لوگوں کو تکلیف دے یا ان میں (اپنی بابت) خوبی رکھ‘‘ یعنی خواہ تو ان کو قتل و ضرب یا قیدی بنا کر عذاب میں مبتلا کر یا ان پر احسان کر۔ ذوالقرنین کو ان دو امور میں سے ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا تھا کیونکہ ظاہر ہے کہ وہ کفار یا فساق کی قوم تھی یا ان میں کچھ کفر اور فسق موجود تھا کیونکہ اگر وہ غیر فاسق مومن ہوتے تو ان کو عذاب دینے کی اجازت نہ دی جاتی۔
[87] پس ذوالقرنین کو سیاست شرعیہ کا کچھ حصہ ملا تھا، جس کے ذریعے سے اس نے اللہ کی توفیق سے ایسے کام کیے جن پر وہ مدح وستائش کا مستحق ٹھہرا، چنانچہ اس نے کہا: ان کو دو قسموں میں تقسیم کر دوں گا۔ ﴿ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ ﴾ ’’جس نے ظلم کیا‘‘ یعنی کفر کیا۔ ﴿ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ يُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَيُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكۡرًا ﴾ ’’سو ہم اس کو سزا دیں گے، پھر لوٹ جائے گا وہ رب کے پاس، پس وہ عذاب دے گا اس کو برا عذاب‘‘ یعنی اسے دو سزائیں ملیں گی، ایک سزا اس دنیا میں اور ایک سزا آخرت میں ۔
[88]﴿ وَاَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَؔ اِ۟ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور جو کوئی ایمان لایا اور کیا اس نے بھلا کام، سو اس کا بدلہ بھلائی ہے۔‘‘ یعنی اس کو جزا کے طور پر قیامت کے دن جنت عطا ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھے احوال سے نوازا جائے گا۔ ﴿ وَسَنَقُوۡلُ لَهٗ مِنۡ اَمۡرِنَا يُسۡرًا﴾ ’’اور ہم حکم دیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی کا‘‘ یعنی ہم اس سے اچھا سلوک کریں گے، ہم اس سے نرم بات اور آسان معاملہ کریں گے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ذوالقرنین نیک بادشاہوں ، اولیائے صالحین اور عدل کرنے والوں میں سے تھا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی موافقت کرتے ہوئے ہر شخص کے ساتھ وہی معاملہ کیا جس کے وہ لائق تھا۔