Tafsir As-Saadi
19:22 - 19:26

پس حاملہ ہو گئی وہ ساتھ اس کے، پھر الگ ہو گئی وہ ساتھ اس کے ایک مکان دور والے میں (22) پس لے آیا اس (مریم) کو دردزہ طرف تنے کی کھجور کے تو اس نے کہا، اے کاش! میں مر جاتی پہلے اس سے اور ہو جاتی بھولی بسری (23) پس آواز دی فرشتے نے اسےاور اس کے نیچے سے، یہ کہ نہ غم کھا تو، تحقیق (جاری) کر دیا ہے تیرے رب نے، تیرے نیچے سے، ایک چشمہ(24) اور تو ہلا اپنی طرف تنے کو کھجورکے، وہ گرائے گا تجھ پر کھجور (عمدہ) تازہ پکی ہوئی (25) سو تو کھا اور پی اور ٹھنڈی کر آنکھیں (اپنی)، پس اگر دیکھے تو آدمیوں میں سے کسی کو تو کہہ دینا، بے شک میں نے نذر مانی ہے رحمٰن کے لیے روزے کی، پس ہرگز نہیں کلام کروں گی میں آج کسی انسان سے (بھی)(26)

[22] جب حضرت مریم[ کو حمل ٹھہر گیا تو وہ فضیحت اور رسوائی کے خوف سے لوگوں سے دور چلی گئیں ﴿ مَكَانًا قَصِيًّا﴾ ’’دور جگہ‘‘
[23] جب بچہ جننے کا وقت قریب آیا تو زچگی کی تکلیف نے ان کو کھجور کے نیچے پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ جب حضرت مریمu کو زچگی کی تکلیف برداشت کرنا پڑی، کھانے پینے کی عدم موجودگی کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اور سب سے بڑی بات یہ کہ لوگوں کی تکلیف دہ باتوں اور طعنوں سے دلی صدمہ پہنچا اور انھیں خوف ہوا کہ کہیں صبر کا دامن ان کے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے … تو انھوں نے تمنا کی کہ کاش وہ اس حادثہ سے پہلے ہی مر گئی ہوتیں ، ان کو بھلا دیا جاتا اور ان کا کہیں تذکرہ تک نہ ہوتا۔ حضرت مریم[ کی یہ تمنا ان کی گھبراہٹ کی بنا پر تھی اور اس آرزو اور تمنا میں ان کے لیے کوئی بھلائی تھی نہ مصلحت۔ بھلائی اور مصلحت تو صرف تقدیر کے مطابق اس چیز میں تھی جو انھیں حاصل ہوئی۔
[24] اس وقت فرشتے نے ان کے دل کو تسلی دی اور اسے ثبات عطا کیا اور فرشتے نے ان کو نیچے سے پکارا۔ شاید یہ جگہ، جہاں سے فرشتے نے پکارا تھا، حضرت مریم[ کی جگہ سے زیادہ نیچے تھی۔ فرشتے نے کہا: مت گھبرا اور نہ غم کر ﴿ قَدۡ جَعَلَ رَبُّكِ تَحۡتَكِ سَرِيًّا﴾ ’’تمھارے رب نے تمھارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے۔‘‘ یعنی تیرے نیچے نہر جاری کر دی ہے جس سے تو پانی پيے گی۔
[25]﴿وَهُزِّيۡۤ اِلَيۡكِ بِجِذۡعِ النَّخۡلَةِ تُسٰقِطۡ عَلَيۡكِ رُطَبًا جَنِيًّا﴾ ’’اور ہلا اپنی طرف کھجور کا تنا، اس سے گریں گی تجھ پر پکی کھجوریں ‘‘ یعنی تازہ لذیذ اور فائدہ بخش کھجوریں ۔
[26]﴿ فَكُلِيۡ﴾ یعنی کھجوریں کھا ﴿ وَاشۡرَبِيۡ﴾ ’’(اور اس نہر کا) پانی پی۔‘‘ ﴿ وَقَرِّيۡ عَيۡنًا﴾ ’’(اور حضرت عیسیٰu کو دیکھ دیکھ کر) اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔‘‘ یہ زچگی کی تکلیف سے سلامتی اور لذیذ و خوشگوار ماکول و مشروب کی فراہمی کے پہلو سے، حضرت مریم[ کے لیے اطمینان تھا۔ رہی لوگوں کی باتیں اور ان کے طعنے تو فرشتے نے حضرت مریم[ کو حکم دیا کہ وہ جب کسی آدمی کو دیکھیں تو اشارے سے اسے بتائیں :﴿ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا ﴾ ’’میں نے نذر مانی ہے رحمٰن کے لیے روزے کی‘‘ یعنی خاموش رہنے کی۔ ﴿ فَلَنۡ اُكَلِّمَ الۡيَوۡمَ اِنۡسِيًّا﴾ ’’پس میں آج بات نہیں کروں گی کسی آدمی سے‘‘ یعنی ان سے بات چیت نہ کرنا تاکہ تم ان کی باتوں سے بچ سکو۔ ان کے ہاں معروف تھا کہ خاموشی ایک عبادت مشروعہ ہے۔ان کو اپنی طرف سے اس معاملے کی نفی کے سلسلے میں لوگوں سے گفتگو نہ کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ لوگ اس کو تسلیم نہیں کریں گے اور نہ اس میں کوئی فائدہ ہے، نیز یہ کہ ان کی براء ت کا اظہار پنگوڑے کے اندر حضرت عیسیٰu کے ذریعے سے ہونا ان کی براء ت کی سب سے بڑی شہادت بن جائے کیونکہ عورت کا شوہر کے بغیر کسی بچے کو جنم دینا اور پھر اس کا یہ دعویٰ کرنا کہ یہ بچہ کسی مرد کے چھوئے بغیر ہے، سب سے بڑا دعویٰ ہے۔ اگر اس دعویٰ کی تائید میں متعدد گواہ بھی موجود ہوں تب بھی اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اس خارق عادت واقعہ کی تائید کے لیے، اسی جیسا ایک اور خارق عادت واقعہ پیش آیا اور وہ ہے حضرت عیسیٰu کا اپنی انتہائی چھوٹی عمر میں کلام کرنا، بناء بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: