Tafsir As-Saadi
19:41 - 19:50

اورذکر کیجیے کتاب میں ابراہیم کا، بے شک وہ تھا نہایت سچا، نبی (41) جب اس نے کہا اپنے باپ سے، اے میرے باپ! کیوں عبادت کرتا ہے تو اس کی جو نہ سنے اور نہ دیکھے اور نہ وہ کام آئے تیرے کچھ بھی (42) اے میرے باپ! بے شک میں ، تحقیق آیا ہے میرے پاس وہ علم وہ نہیں آیا تیرے پاس، پس تو پیروی کر میری، میں بتلاؤں گا تجھے راہ سیدھی (43) اے میرے باپ! مت عبادت کر تو شیطان کی، بلاشبہ شیطان ہے رحمٰن کا بہت نافرمان (44) اے میرے باپ بے شک میں ڈرتا ہوں اس بات سے کہ پہنچے تجھے عذاب رحمٰن کی طرف سے، پس ہو جائے تو شیطان کا دوست (45) اس (آزر) نے کہا، کیا بے زغبتی کرتا ہے تو میرے معبودوں سے، اے ابراہیم؟ البتہ اگر نہ باز آیا تو اس سے تو البتہ ضرور سنگسار کر دوں گا میں تجھےاورچھوڑ جا مجھے لمبا عرصہ (46) ابراہیم نے کہا، سلام ہو تجھ پر ضرور بخشش مانگوں گا تیرے لیے، اپنے رب سے، بلاشبہ وہ ہے مجھ پر نہایت مہربان (47) میں کنارہ کش ہوتا ہوں تم سے اور ان سے جنھیں تم پکارتے ہو، سوائے اللہ کےاور میں پکارتا ہوں اپنے رب کو، امید ہے کہ نہیں ہوں گا میں پکار کر اپنے رب کو محروم (48) پس جب وہ کنارہ کش ہو گیا ان سے اوران سے بھی جن کی وہ عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے تو عطا کیے ہم نے اسے اسحٰق اور یعقوب اور ہر ایک کو بنایا ہم نے نبی (49) اور نوازا ہم نے انھیں اپنی رحمت سے اور کر دیا ہم نے ان کے لیے سچائی کی زبان (ان کے ذکر خیر) کو بلند (50)

[41] فرمایا: ﴿ وَ اذۡكُرۡ فِي الۡكِتٰبِ اِبۡرٰؔهِيۡمَ١ؕ ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيۡقًا نَّبِيًّا ﴾ ’’اور یاد کرو کتاب میں ابراہیم کو، بے شک وہ سچے نبی تھے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بیک وقت صدیقیت اور نبوت سے سرفراز فرمایا۔ صدیق، بہت راست باز شخص کو کہا جاتا ہے۔ پس وہ اپنے اقوال، افعال اور احوال میں سچا ہونے کے ساتھ ساتھ ہر اس چیز کی بھی تصدیق کرتا ہے جس کی تصدیق کا اس کو حکم دیا جاتا ہے اور یہ خوبی مستلزم ہے اس عظیم علم کو جو دل کی گہرائیوں تک پہنچتا اور اس پر اثر انداز ہوتا ہے، نیز یقین اور کامل عمل صالح کا موجب ہوتا ہے۔حضرت ابراہیمu، حضرت محمدﷺ کے بعد تمام انبیاء ومرسلین میں افضل ہیں ۔ وہ تمام اصحاب فضیلت گروہوں کے تیسرے باپ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذریت کو نبوت اور کتاب سے نوازا۔ حضرت ابراہیمu نے تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی پھر اس راستے میں پیش آنے والی اذیتوں اور بڑی بڑی تعذیب پر صبر کیا۔ انھوں نے قریب اور بعید، سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور اپنے باپ کو، جیسے بھی ممکن ہوا، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کی بھرپور جدوجہد کی۔
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کی اس بحث وتکرار کا ذکر کیا جو انھوں نے اپنے باپ سے کی، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں نے کہا اپنے باپ سے‘‘ یعنی بتوں کی عبادت کی قباحت بیان کرتے ہوئے اپنے باپ سے کہا: ﴿ يٰۤاَ بَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡكَ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی آپ ان بتوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو اپنی ذات اور افعال میں ناقص ہیں ، جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں ، جو اپنے عبادت گزار کو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان بلکہ وہ خود اپنے آپ کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور نہ اپنی ذات سے کوئی چیز دور ہٹانے کی قدرت رکھتے ہیں ۔ پس یہ اس حقیقت پر ایک روشن دلیل ہے کہ ایسی ہستی کی عبادت کرنا، جو اپنی ذات اور اپنے افعال میں ناقص ہے، عقل اور شرع کے اعتبار سے قبیح ہے۔ اس کی تنبیہ اور اس کا اشارہ دلالت کرتا ہے کہ عبادت صرف اسی ہستی کی واجب اور مستحسن ہے جو کمال کی مالک ہے، جس کے سوا بندے کہیں سے نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے، جس کے سوا کوئی اور ہستی ان سے کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتی اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات۔
[43]﴿ يٰۤاَ بَتِ اِنِّيۡ قَدۡ جَآءَنِيۡ مِنَ الۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَاۡتِكَ ﴾ یعنی ابا جان! مجھے حقیر نہ جانیں اور یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ کا بیٹا ہوں اور یہ کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ میرے پاس نہیں بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم عطا کیا ہے جو آپ کو عطا نہیں کیا اور حضرت ابراہیمu کے اس قول کا مقصد یہ کہنا تھا کہ: ﴿ فَاتَّبِعۡنِيۡۤ اَهۡدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا﴾ ’’آپ میری پیروی کریں میں دکھلاؤں گا آپ کو سیدھا راستہ‘‘ یعنی سیدھا اور معتدل راستہ اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تمام احوال میں اس کی اطاعت کرنا۔ اس خطاب میں جو لطف و کرم اور جو نرمی ہے وہ مخفی نہیں ۔ آپu نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’ابا جان میں عالم ہوں اور آپ جاہل ہیں ‘‘ یا ’’آپ کے پاس کوئی علم نہیں ‘‘ آپu نے اس پیرائے میں گفتگو فرمائی ’’میرے پاس اور آپ کے پاس علم ہے مگر جو علم مجھ تک پہنچا ہے وہ آپ تک نہیں پہنچا، اس لیے آپ کے لیے مناسب یہی ہے کہ آپ دلیل کی پیروی کریں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔‘‘
[44]﴿ يٰۤاَ بَتِ لَا تَعۡبُدِ الشَّيۡطٰنَ﴾ ’’ابا جان! شیطان کی عبادت نہ کریں ‘‘ کیونکہ جس نے غیر اللہ کی عبادت کی اس نے شیطان کی عبادت کی جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾(یٰسٓ:36؍60) ’’اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرو وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ عَصِيًّا ﴾ ’’بے شک شیطان رحمٰن کا نافرمان ہے‘‘ پس جو کوئی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرتا ہے وہ شیطان کا دوست اور شیطان کی مانند اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے۔ یہاں نافرمانی کو اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (رحمٰن) کی طرف مضاف کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نافرمانیاں بندے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کر دیتی ہیں اور اس پر رحمت کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رحمت الٰہی کے حصول کا سب سے بڑا سبب ہے۔
[45] اس لیے فرمایا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ﴾ ’’ابا جان! مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو کہیں رحمٰن کی طرف سے عذاب نہ آلے‘‘ یعنی کفر پر آپ کے اصرار اور سرکشی میں آپ کے بڑھتے چلے جانے کے سبب سے۔ ﴿ فَتَكُوۡنَ لِلشَّيۡطٰنِ وَلِيًّا ﴾ ’’پس آپ شیطان کے دوست ہو جائیں ‘‘ یعنی دنیا وآخرت میں ۔ پس آپ اس کے مذموم مقام و منزلت پر اتار دیے جائیں اور شیطان کی ضرر رساں اور گندی چراگاہ میں چریں ۔اور یوں حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو آسان سے آسان تر امر کی طرف دعوت دی۔ آپ نے اسے اپنے علم کے ذریعے سے بتایا کہ یہ چیز آپ پر میری اطاعت کی موجب ہے اگر آپ میری اطاعت کریں گے تو میں سیدھے راستے کی طرف آپ کی راہنمائی کروں گا، پھر آپ نے اسے شیطان کی عبادت سے منع فرمایا اور اسے ان مضرتوں کے بارے میں خبردار کیا جو شیطان کی عبادت میں پنہاں ہیں ، پھر اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرایا کہ اگر وہ اپنے اسی حال پر قائم رہا تو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور ناراضی کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ شیطان کا دوست شمار ہو گا۔
[46] مگر یہ دعوت اس بدبخت کے کسی کام نہ آئی۔ اس نے ایک جاہل کی مانند جواب دیا: ﴿ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِهَتِيۡ يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ ’’اے ابراہیم! کیا تو میرے معبودوں سے اعراض کرتا ہے؟‘‘ اس نے اپنے معبودوں پر فخر کا اظہار کیا جو پتھر کے بنے ہوئے بت تھے۔ اور حضرت ابراہیمu کو ان معبودوں سے روگردانی کرنے پر ملامت کرنے لگا، یہ اس کی بہت بڑی جہالت اور بہت بڑا کفر تھا، وہ بتوں کی عبادت پر مدح چاہتا تھا اور اس عبادت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا تھا۔ ﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ ﴾ یعنی اگر تو میرے معبودوں کو سب وشتم کرنے اور مجھے اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَاَرۡجُمَنَّكَ ﴾ یعنی میں تجھے پتھر مار مار کر قتل کر دوں گا ﴿ وَاهۡجُرۡنِيۡ مَلِيًّا ﴾ ’’اور چھوڑ دے مجھ کو ایک مدت تک‘‘ یعنی طویل زمانے تک میرے ساتھ بات نہ کر۔
[47] حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو اس طرح جواب دیا جس طرح رحمٰن کے بندے جہلاء کو جواب دیتے ہیں ۔ آپ اس سے سب و شتم سے پیش نہیں آئے بلکہ صبر سے کام لیا اور کوئی ایسی بات نہیں کہی جو باپ کو ناگوار گزرتی۔ فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكَ ﴾ ’’سلام آپ پر‘‘ یعنی آپ میرے خطاب میں سب و شتم اور ناگوار باتوں سے محفوظ رہیں گے۔ ﴿سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ﴾ یعنی میں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور مغفرت کی دعا مانگتا رہوں گا کہ وہ آپ کی اسلام کی طرف راہنمائی کرے جس کے ذریعے سے مغفرت حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾ کیونکہ وہ میرے حال پر بہت رحیم اور مہربان ہے اور مجھے اپنے سایۂ اعتناء میں رکھتا ہے۔ پس حضرت ابراہیمu اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دے دے گا، اپنے باپ کے لیے استغفار کرتے رہے، پھر جب آپ پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کے لیے استغفار کرنا اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا تو اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا چھوڑ دی اور اس سے برا ء ت کا اظہار کر دیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں ملت ابراہیم کی اتباع کا حکم دیا ہے اور ان کی ملت کی پیروی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں ہم آپ کی راہ پر گامزن ہوں اور علم و حکمت اور نرم رویہ اپنائیں ۔ دعوت الی اللہ میں تدریج اور ترتیب کا طریقہ اختیار کریں ، اس پر صبر کریں اور اس سے ہرگز نہ اکتائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کو، لوگوں کی طرف سے جن قولی اور فعلی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان پر صبر کرے اور عفو، درگزر، قولی اور فعلی حسن سلوک کے ساتھ ان اذیتوں کا مقابلہ کرے۔
[48] جب ابراہیمu اپنی قوم اور اپنے باپ کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے تو کہنے لگے: ﴿ وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ یعنی میں تم سے اور تمھارے بتوں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں ﴿ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ﴾’’اور میں یہ دعا کروں گا اپنے رب سے‘‘ یہ دعائے عبادت اور دعائے سوال دونوں کو شامل ہے﴿ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا﴾ ’’امید ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں گا‘‘ یعنی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری دعا اور اعمال کو قبول فرما کر مجھے سعادت سے نواز دے۔ یہ اس داعی حق کا وظیفہ ہے جو ایسے لوگوں سے مایوس ہو گیا تھا جن کو اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے رہے اور وعظ و نصیحت نے ان کو کوئی فائدہ نہیں دیا اور وہ اپنی سرکشی میں اصرار کے ساتھ سرگرداں رہے۔جو کوئی اس قسم کی صورت حال میں مبتلا ہو جائے تو اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے نفس کی اصلاح میں مشغول رہے اور اپنے رب سے امید رکھے کہ وہ اس کی کوشش کو قبول فرمائے گا اور وہ شر اور اہل شر سے دور رہے۔
[49] انسان کے لیے اپنے وطن مالوف، اپنے اہل و عیال اور اپنی قوم سے جدا ہونا سب سے مشکل اور سب سے زیادہ شاق گزرنے والا کام ہے اور اس کی کئی وجوہ ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کی وجہ سے باعزت اور کثرت والا ہوتا ہے اور جو کوئی اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے عوض اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم u نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا:﴿ فَلَمَّا اعۡتَزَلَهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ١ؕ وَكُلًّا﴾ ’’پس جب وہ (ابراہیمu) ان لوگوں سے اور جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے، ان سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور سب کو۔‘‘ حضرت اسحاق اور یعقوبi دونوں کو ﴿ جَعَلۡنَا نَبِيًّا ﴾ ’’ہم نے نبی بنایا۔‘‘ پس حضرت ابراہیم u اور ان تمام صالحین و مرسلین کو یہ شرف نبوت حاصل ہوا جن کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر لوگوں کی طرف بھیجا، انھیں اپنی وحی کے لیے مختص کیا، انھیں اپنی رسالت کے لیے تمام جہانوں میں سے چن لیا۔
[50] فرمایا ﴿ وَوَهَبۡنَا لَهُمۡ﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیمu اور ان کے دونوں بیٹوں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوبi کو ﴿مِّنۡ رَّحۡمَتِنَا ﴾’’اپنی رحمت سے نوازا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے بہرہ ور کیا، علوم نافعہ اور اعمال صالحہ عطا کیے اور انھیں بے شمار ذریت عطا کی جو ساری دنیا میں پھیلی اور ان کے اندر بکثرت انبیاء اور صالحین ہوئے۔﴿ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ﴾ ’’اور ان کے ذکر جمیل کو بلند کیا۔‘‘ یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے ان کو بہرہ ور کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیک کام کرنے والے ہر شخص سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کی نیکی کے مطابق اسے سچی شہرت عطا کرے گا۔ ان کا شمار تو ائمہ محسنین میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں سچی، جس میں جھوٹ کا شائبہ نہیں ، ظاہر و باہر اور غیر مخفی ثنائے حسن عطا کی۔ ان کے ذکر خیر، ان کی ثنائے حسن اور ان کے ساتھ محبت نے مشرق و مغرب کو لبریز کر دیا ہے۔ خلائق کے دلوں میں ان کی محبت سما گئی، لوگوں کی زبان پر ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنا جاری ہو گئی۔ وہ پیروی کرنے والوں کے قائد اور راہنمائی حاصل کرنے والوں کے راہ نما بن گئے۔ ہر زمانے میں ان کا ذکر خیر نئے نئے اسالیب میں لوگوں کی زبانوں پر جای رہا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور اللہ تعالیٰ فضل عظیم کا مالک ہے۔