Tafsir As-Saadi
19:51 - 19:53

اور ذکر کیجیے کتاب میں موسیٰ کا، بلاشبہ وہ تھا چنا ہوااور تھا رسول نبی (51) اور پکارا ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سےاور قریب کیا ہم نے اسے سرگوشی کرنے کے لیے (52) اور عطا کیا ہم نے اسے اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون نبی (بنا کر)(53)

[51] یعنی اس قرآن عظیم میں ، حضرت موسیٰ بن عمرانu کی تعظیم و توقیر، ان کے مقام عالی قدر اور اخلاق کاملہ کی تعریف کے طور پر، ان کا ذکر کیجیے۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ مُخۡلَصًا ﴾(مُخْلَصًا) کو لام کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اس کا معنیٰ یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے پسند کر لیا اور اسے چن لیا۔ ایک دوسری قراء ت میں (مُخْلِصًا)کو لام کی زیر کے ساتھ پڑھا گیا ہے تب اس کا معنی یہ ہو گا کہ حضرت موسیٰ u اپنے تمام اعمال، اقوال اور نیت میں اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص تھے۔ ان کے تمام احوال میں اخلاص ان کا وصف تھا… دونوں معنی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u کے اخلاص کی بنا پر ان کو چن لیا اور ان کا اخلاص اس بات کا موجب تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو چن لے اور بندۂ مومن کا جلیل ترین حال یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے لیے اخلاص کا حامل ہو اور اس کا رب اسے اپنے لیے چن لے۔﴿ وَّكَانَ رَسُوۡلًا نَّبِيًّا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں رسالت اور نبوت کو یکجا کر دیا۔ پس رسالت، بھیجنے والے کے کلام کی تبلیغ کا تقاضا کرتی ہے، نیز یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ شریعت کی جو بھی چھوٹی یا بڑی چیز آئی ہے اسے بندوں تک پہنچایا جائے… اور نبوت اس بات کی مقتضی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر وحی آتی ہو اور اللہ تعالیٰ نے وحی کی تنزیل کے لیے اسے مختص کر لیا ہو۔ پس نبوت کا تعلق بندے اور اس کے رب کے درمیان ہے اور رسالت کا تعلق بندے اور مخلوق کے درمیان ہے۔
[52] بلکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کو وحی کی جلیل ترین اور سب سے افضل نوع کے ساتھ خاص فرمایا اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ان سے کلام کرنا اور انھیں اپنی سرگوشی کے لیے اپنے قریب کرنا۔ انبیاء میں سے اس فضیلت کے ساتھ صرف موسیٰ uکو خاص کیا گیا کہ وہ رحمان کے کلیم ہیں ۔ اسی لیے فرمایا: ﴿وَنَادَيۡنٰهُ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ الۡاَيۡمَنِ ﴾ یعنی حضرت موسیٰ u کی دائیں جانب سے، جب وہ سفر کر رہے تھے، ہم نے ان کو ندا دی۔ یا (اَلأَیْمن) سے مراد بابرکت ہے یعنی یہ (یُمْنٌ) ’’برکت‘‘ سے ہے اور اس معنیٰ پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے۔ ﴿اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾(النمل:27؍8)’’بابرکت ہے وہ ہستی جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے۔‘‘﴿وَقَرَّبۡنٰهُ نَؔجِيًّا﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کو سرگوشی کے لیے اپنے قریب کیا۔‘‘ ندا اور مناجات میں فرق یہ ہے، کہ ندا بلند آواز میں ہوتی اور مناجات اس سے کم تر دھیمی آواز میں ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کی تمام انواع… مثلاً: ندا اور مناجات وغیرہ کا اثبات ہوتا ہے جیسا کہ اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے۔ اس کے برعکس جہمیہ، معتزلہ اور ان کے ہم مسلک گروہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتے ہیں ۔
[53]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗ مِنۡ رَّحۡمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ نَبِيًّا﴾ یہ حضرت موسیٰ u کی سب سے بڑی فضیلت ہے اور ان کا اپنے بھائی ہارونu کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خیر خواہی ہے کہ انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ وہ ان کے بھائی حضرت ہارون u کو ان کی ذمہ داری میں شریک کر کے انھیں بھی ان کی مانند رسول بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو رسول بنا دیا… پس ہارون u کی نبوت حضرت موسیٰ u کی نبوت کے تابع ہے، حضرت ہارون u نبوت کے معاملات میں حضرت موسیٰu کی مدد اور اعانت کرتے تھے۔