پھر اختلاف کیا (ان) گروہوں نے آپس میں پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا حاضرى سے، بڑے دن (قیامت) کی (37) کیا ہی خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے وہ لوگ، جس دن وہ آئیں گے ہمارے پاس! لیکن (وہ) ظالم لوگ آج کے دن صریح گمراہی میں ہیں (38)
[37] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ بن مریمi کا حال بیان فرما دیا جس میں کوئی شک اور شبہ نہیں تو آگاہ فرمایا کہ یہودونصاریٰ اور دیگر فرقے اور گروہ جو گمراہی کے راستے پر گامزن ہیں ، اپنے اپنے طبقات کے اختلاف کے مطابق، حضرت عیسیٰu کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں ۔ اس بارے میں ایک گروہ افراط اور غلو میں مبتلا ہے تو دوسرا ان کی شان میں تنقیص اور تفریط کرنے والا ہے۔ پس ان میں سے کچھ لوگ حضرت عیسیٰu کو اللہ مانتے ہیں ۔ بعض ان کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے ہیں ، بعض کہتے ہیں وہ تین میں سے ایک ہیں ، بعض ان کو رسول بھی تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ بہتان طرازی کرتے ہیں کہ وہ (معاذ اللہ) ولدالزنا ہیں … مثلاً: یہودی وغیرہ۔ان تمام گروہوں کے اقوال باطل اور ان کی آراء فاسد ہیں جو شک و عناد، بے بنیاد شبہات اور انتہائی بودے دلائل پر مبنی ہیں ۔ اس قبیل کے تمام لوگ انتہائی سخت وعید کے مستحق ہیں ، اسی لیے فرمایا:﴿ فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’پس ہلاکت ہے کافروں کے لیے‘‘ جو اللہ، اس کے رسول اور اس کی کتابوں کا انکار کرتے ہیں ، ان میں یہود اور نصاریٰ دونوں شامل ہیں جو حضرت عیسیٰu کے بارے میں کفریہ کلمات کہتے ہیں :﴿ مِنۡ مَّشۡهَدِ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’بڑے دن کی حاضری سے‘‘ یعنی قیامت کے روز جب اولین و آخرین سب حاضر ہوں گے، زمین اور آسمانوں کے تمام رہنے والے، خالق اور مخلوق موجود ہوں گے اس وقت بے شمار زلزلے ہوں گے اور اعمال کی جزا پر مشتمل ہولناک عذاب ہوں گے تب ان کا وہ سب کچھ ظاہر ہو جائے گا جو کچھ وہ چھپاتے یا ظاہر کیا کرتے تھے۔
[38]﴿اَسۡمِعۡ بِهِمۡ وَاَبۡصِرۡ١ۙ يَوۡمَ يَاۡتُوۡنَنَا ﴾ ’’کیا خوب وہ سننے والے اور دیکھنے والے ہوں گے جس دن آئیں گے وہ ہمارے پاس‘‘ اس روز وہ خوب سنیں گے اور خوب دیکھیں گے۔ پس وہ اپنے کفر وشرک پر مبنی اقوال و نظریات کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَبۡصَرۡنَا وَسَمِعۡنَا فَارۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًا اِنَّا مُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ:32؍12)’’اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا۔ پس ہمیں دنیا میں واپس بھیج تاکہ ہم نیک عمل کریں اب ہمیں یقین آگیا۔‘‘ پس قیامت کے روز اس حقیقت کا یقین آجائے گا جس میں وہ مبتلا ہوں گے۔﴿لٰكِنِ الظّٰلِمُوۡنَ الۡيَوۡمَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’لیکن ظالم لوگ آج صریح گمراہی میں ہیں ۔‘‘ اس گمراہی کا ان کے پاس کوئی عذر نہ ہو گا کیونکہ ان میں سے کچھ لوگ، بصیرت کے ساتھ حق کو پہچان کر عناد کی بنا پر روگردانی کرتے ہوئے گمراہ ہوئے ہیں اور کچھ لوگ حق و صواب کو پہچاننے کی قدرت رکھنے کے باوجود، راہ حق سے بھٹک گئے اور اپنی گمراہی اور بداعمالیوں پر راضی ہیں اور باطل میں سے حق کو پہچاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ غور کیجیے اللہ تعالیٰ نے ﴿فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ مِنۢۡ بَيۡنِهِمۡ﴾ کہنے کے بعد کیسے فرمایا: ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ اور (فَوَیْلٌ لَّھُمْ) نہیں فرمایا کیونکہ اس صورت میں ضمیر کا مرجع ’’الاحزاب‘‘ ہوتا اورایک دوسرے کے ساتھ اختلاف کرنے والے گروہوں میں سے ایک گروہ حق و صواب پر تھا جو حضرت عیسیٰu کے بارے میں کہتا تھا: ’’وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔‘‘ پس وہ عیسیٰu پر ایمان لائے اور ان کی پیروی کی۔ یہ لوگ مومن ہیں اور اس وعید میں داخل نہیں ہیں ، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے صرف کفار کو اس وعید کے ساتھ مختص فرمایا ہے۔