یہ (مذکورہ) وہ لوگ ہیں کہ انعام کیا اللہ نے ان پر، نبیوں میں سے، اولاد آدم سے اوران لوگوں (کی نسل) میں سے جنھیں اٹھایا (سوار کیا) تھا ہم نے ساتھ نوح کےاور اولاد سے ابراہیم اور اسرائیل (یعقوب) کی اور ان لوگوں میں سے کہ جنھیں ہدایت دی ہم نےاور چن لیا ہم نے، جب تلاوت کی جاتی تھیں ان پر آیتیں رحمٰن کی تو وہ گر پڑتے تھے سجدہ کرتے ہوئے اورروتے ہوئے (58)
[58] جب اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے مکرمین اور خواصِ مرسلین کا ذکر فرمایا اور ان کے فضائل و مراتب کا تذکرہ کیا تو فرمایا: ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی نعمت عطا کی ہے جسے کوئی اور حاصل نہیں کر سکتا، نبوت اور رسالت عطا کر کے ان پر ایسا احسان کیا ہے جس میں کوئی سبقت نہیں کر سکتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان لوگوں کے راستے کی طرف ہماری راہنمائی کرے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا، نیز یہ کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا ﴿مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّؔيۡقِيۡنَ۠ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(النساء:4؍69) جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ۔ ان میں سے بعض ﴿ مِنۡ ذُرِّيَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَمِمَّنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ﴾ ’’آدم کی اولاد میں سے ہیں اور کچھ ان میں سے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں ) سوار کر دیا۔‘‘ یعنی نوح کی ذریت میں سے ہیں ۔ ﴿ وَّمِنۡ ذُرِّيَّةِ اِبۡرٰؔهِيۡمَ وَاِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یہ گھرانے دنیا کے تمام گھرانوں سے بہتر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے لیے پسند کر لیا اور چن لیا۔ جب ان کے سامنے رحمٰن کی وہ آیات تلاوت کی جاتی تھیں جو غیب کی خبروں ، علام الغیوب کی صفات، روز آخرت کی خبروں اور وعدو وعید کو متضمن ہیں تو ان کا حال یہ ہوتا ہے۔ ﴿ خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّبُكِيًّا﴾ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا۔ ان آیات نے ان کے دلوں کو ایمان اور رغبت و رہبت سے لبریز کر دیا جو ان کے لیے آہ و بکا، انابت اور اپنے رب کے حضور سجدے کی موجب ہیں ۔ وہ ان لوگوں کی مانند نہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سنتے ہیں تو ان پر اندھے بہرے بن کر رہ جاتے ہیں ۔ آیات کی، اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (رحمان) کی طرف اضافت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کے بندوں پر اس کی رحمت اور احسان ہے کیونکہ اس نے آیات کے ذریعے سے ان کی حق کی طرف راہنمائی کی، ان کی کورنگاہی کو دور کر کے بصیرت سے نوازا، انھیں گمراہی سے بچایا اور جہالت کی تاریکیوں میں انھیں علم کی روشنی عطا کی۔