Tafsir As-Saadi
19:66 - 19:67

اور کہتا ہے انسان، کیا جب میں مر جاؤں گا تو البتہ نکالا جاؤں گا (قبر سے) زندہ (کر کے)؟ (66) کیا نہیں یاد کرتا انسان کہ بے شک ہم ہی نے پیدا کیا ہے اسے پہلے اس سے اور نہ تھا وہ کچھ بھی (67)

[66] یہاں (الانسان) سے مراد ہر وہ شخص ہے جو زندگی بعد موت کا منکر ہے اور وہ مرنے کے بعد زندہ کیے جانے کو بعید سمجھتا ہے، چنانچہ وہ نفی، عناد اور کفر کی وجہ سے استفہامیہ اسلوب میں کہتا ہے:﴿ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوۡفَ اُخۡرَجُ حَيًّا ﴾ یعنی میرے مرنے کے بعد، جبکہ میں بوسیدہ ہو چکا ہوں گا، اللہ تعالیٰ مجھے دوبارہ کیسے زندہ کرے گا؟ ایسا نہیں ہو سکتا اور اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اس کی عقل فاسد، برے مقصد، اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور کتابوں کے ساتھ اس کے عناد کے مطابق ہے۔ اگر اس نے تھوڑا سا بھی غوروفکر کیا ہوتا تو اسے معلوم ہو جاتا کہ اس کا دوبارہ زندہ کیے جانے کو بعید سمجھنا بہت بڑی حماقت ہے۔
[67] بناء بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے زندگی بعد موت کے امکان پر ایسی قطعی برہان اور واضح دلیل بیان فرمائی ہے جسے ہر شخص جانتا ہے۔ ﴿ اَوَلَا يَذۡكُرُ الۡاِنۡسَانُ اَنَّا خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ وَلَمۡ يَكُ شَيۡـًٔؔا ﴾ کیا وہ اس طرف التفات نہیں کرتا اور اپنی پہلی حالت کو یاد نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو پہلی مرتبہ پیدا کیا جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔ پس جو ہستی اسے عدم سے وجود میں لانے کی قدرت رکھتی ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا، کیا وہ ہستی اسے اس کے ریزہ ریزہ ہو جانے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے کی اور اس کے بکھر جانے کے بعد اس کو دوبار اکٹھا کرنے کی قدرت نہیں رکھتی؟ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ وَهُوَ اَهۡوَنُ عَلَيۡهِ ﴾(الروم:30؍27) ’’وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے اورپھر اس کا اعادہ کرتا ہے اور ایسا کرنا اس کے لیے آسان تر ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اَوَلَا يَذۡكُرُ الۡاِنۡسَانُ ﴾ میں لطیف ترین پیرائے میں عقلی دلیل کے ذریعے سے غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے اور جو کوئی اس کا انکار کرتا ہے اس کا انکار، پہلی حالت کے بارے میں اس کی غفلت پر مبنی ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ اس کو یاد کر کے اپنے ذہن میں حاضر کرنے کی کوشش کرے تو وہ ہرگز انکار نہیں کرے گا۔