Tafsir As-Saadi
19:71 - 19:72

اور نہیں ہے تم میں سے (کوئی بھی) مگر وہ وارد ہو گا اس میں ، ہے یہ آپ کے رب کے ذمے حتمی فیصل شدہ بات (71) پھر ہم نجات دیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے تقویٰ اختیار کیااور ہم چھوڑ دیں گے ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (72)

[71] یہ خطاب نیک و بد، مومن اور کافر، تمام خلائق کے لیے ہے، خلائق میں کوئی ایسا نہیں ہو گا جو جہنم پر وارد نہ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حتمی فیصلہ ہے اور اس نے اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے اس کا نفاذ لابدی اور اس کا وقوع حتمی ہے، البتہ وارد ہونے کے معنی میں اختلاف ہے۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ تمام مخلوق جہنم میں حاضر ہو گی حتیٰ کہ تمام لوگ گھبرا اٹھیں گے پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کو نجات دے دے گا۔ بعض کہتے ہیں کہ وارد ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہوں گے۔ مگر اہل ایمان پر جہنم کی آگ سلامتی والی اور ٹھنڈی ہو جائے گی۔ بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ ’’وارد ہونے‘‘ سے مراد پل صراط پر سے گزرنا ہے جو جہنم کے اوپر بنا ہوا ہو گا۔ لوگ اپنے اعمال کی مقدار کے مطابق پل پر سے گزریں گے، بعض لوگ پلک جھپکتے گزر جائیں گے، بعض ہوا کی سی تیزی سے گزریں گے، بعض عمدہ گھوڑوں ، عمدہ سواریوں کی طرح اور بعض چلتے ہوئے، بعض گھسٹتے ہوئے گزریں گے اور کچھ ایسے ہوں گے جن کو اچک کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ہر ایک کے ساتھ اس کے تقویٰ کے مطابق معاملہ ہو گا۔
[72] اس لیے فرمایا: ﴿ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا ﴾ یعنی پھر ہم ان لوگوں کو نجات دے دیں گے جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر مامورات کی تعمیل کرتے اور محظورات سے اجتناب کرتے رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَذَرُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور چھوڑ دیں گے ہم ظالموں کو۔‘‘ یعنی جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا ﴿ فِيۡهَا جِثِيًّا ﴾ ’’اس میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے۔‘‘ یہ سب عذاب ان کے ظلم اور کفر کے سبب سے ہو گا، جہنم میں ہمیشہ رہنا ان کا مقدربن جائے گا، وہ عذاب کے مستحق ہوں گے اور نجات کے تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔