کیا پس آپ نے دیکھا اس شخص کو جس نے کفر کیا ساتھ ہماری آیتوں کےاور اس نے کہا، ضرور دیا جاؤں گا میں مال اور اولاد (77) کیا مطلع ہوا ہے وہ غیب پر یا لیا ہے اس نے رحمٰن کے ہاں سے کوئی عہد؟ (78) ہرگز نہیں ، ضرور لکھیں گے ہم جو کچھ وہ کہتا ہےاور بڑھا دیں گے ہم اس کے لیے عذاب (بہت) بڑھانا (79) اور ہم وارث ہوں گے ان چیزوں کے جو وہ کہتا ہےاور وہ آئے گا ہمارے پاس (روز قیامت) اکیلا ہی (80)
[77] کیا اس کافر کی حالت پر تعجب نہیں ہوتا جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار کو اپنے بہت بڑے دعوے کے ساتھ یکجا کر دیا ہے کہ اس کو آخرت میں بھی مال و اولاد سے نوازا جائے گا، یعنی وہ اہل جنت میں سے ہو گا۔ اس کا یہ دعویٰ سب سے زیادہ تعجب انگیز امور میں سے ہے۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والا ہوتا اور پھر یہ دعوی کرتا تو معاملہ آسان تھا۔ یہ آیت کریمہ اگرچہ کسی معین کافر کے بارے میں نازل ہوئی ہے تاہم یہ ہر کافر کو شامل ہے جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہ اہل جنت میں سے ہے۔
[78] اللہ تعالیٰ ان کی توبیخ و تکذیب کے طور پر فرماتا ہے: ﴿ اَطَّلَعَ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’کیا وہ غیب پر مطلع ہو گیا ہے؟‘‘ یعنی کیا اس کے علم نے غیب کا احاطہ کر رکھا ہے حتیٰ کہ اسے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ کیا کچھ ہو گا جس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ قیامت کے روز اسے مال و اولاد سے نوازا جائے گا ﴿ اَمِ اتَّؔخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَهۡدًا﴾’’یا اس نے رحمٰن سے عہد لے رکھا ہے‘‘ کہ وہ ان چیزوں کو حاصل کرے گا جن کا اس نے دعویٰ کیا ہے… یعنی کچھ بھی ایسے نہیں ہو گا۔ تب معلوم ہوا کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے اور ایسی بات کہتا ہے جس کے بارے میں اسے خود بھی علم نہیں ۔ اس تقسیم اور تردید کی غرض و غایت، الزامی جواب اور مخالف پر حجت قائم کرنا ہے۔ کیونکہ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے آخرت میں اللہ تعالیٰ کے ہاں بھلائی حاصل ہو گی اسے مندرجہ ذیل امور میں سے ایک ضرور حاصل ہے۔(۱)یا تو اس کا یہ قول، امور مستقبل کے بارے میں علم غیب سے صادر ہوا مگر ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ وحدہ کو ہے۔ مستقبل میں پیش آنے والے امور غیب کو کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے رسولوں میں سے جسے اللہ تعالیٰ مطلع کر دے۔(۲) یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں ، اپنے ایمان باللہ اور اتباع رسل کے ذریعے سے عہد لے رکھا ہے، جن کے پیروکاروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ آخرت میں نجات یافتہ اور کامیاب لوگ ہوں گے۔ جب ان دونوں امور کی نفی ہو گئی تو معلوم ہوا کہ دعویٰ باطل ہے۔
[79] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ كَلَّا١ؕ سَنَكۡتُبُ مَا يَقُوۡلُ ﴾ ’’ہرگز نہیں ، وہ جو کہتا ہے ہم لکھ رکھیں گے‘‘ یعنی اصل معاملہ یوں نہیں جس طرح وہ دعویٰ کرتا ہے کیونکہ اس کا قائل امور غیبیہ کی اطلاع نہیں رکھتا، اس لیے کہ وہ کافر ہے۔ اس کے پاس نبوت کا علم ہے نہ اس نے رحمٰن سے عہد لے رکھا ہے کیونکہ وہ کافر ہے اور ایمان سے محروم ہے۔ بلکہ اس کے اس جھوٹ کے برعکس وہ جہنم کا مستحق ہے۔ اس کا یہ قول لکھ لیا گیا ہے اور اللہ کے ہاں محفوظ ہے، اسے اس کی سزا ملے گی اور اس کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَنَمُدُّ لَهٗ مِنَ الۡعَذَابِ مَدًّا﴾ ’’اور ہم اس کے لیے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے۔‘‘ یعنی جس طرح یہ اپنی گمراہی میں بڑھتا گیا اسی طرح ہم اس کو دیے جانے والے مختلف اقسام کے عذاب میں اضافہ کریں گے۔
[80]﴿وَّنَرِثُهٗ مَا يَقُوۡلُ﴾ ’’اور ہم وارث ہوں گے اس کے جس کی بابت وہ کہہ رہا ہے۔‘‘ یعنی ہم اس کے مال اور اولاد کے وارث ہوں گے، چنانچہ وہ مال، اہل و عیال اور اعوان و انصار کے بغیر اس دنیا سے آخرت کے گھر کی طرف منتقل ہو گا ﴿ وَيَاۡتِيۡنَا فَرۡدًا﴾ ’’اور آئے گا وہ ہمارے پاس اکیلا ہی۔‘‘ پس وہ بدترین عذاب کا سامنا کرے گا جو اس جیسے ظالم لوگوں کی سزا ہے۔