Tafsir As-Saadi
2:8 - 2:10

اور بعض لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں، ایمان لائے ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر، حالانکہ نہیں ہیں وہ ایمان لانے والے(8) وہ دھوکا دیتے ہیں اللہ کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے،اور نہیں دھوکا دیتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور وہ نہیں شعور رکھتے(9) ان کے دلوں میں بیماری ہے،سو بڑھا دیا ان کو اللہ نے بیماری میں، اور ان کے لیے عذاب ہے بڑا دردناک، بہ سبب اس کے (کہ )تھے وہ جھوٹ بولتے(10)

[9 - 8] معلوم ہونا چاہیے کہ نفاق بھلائی کا اظہار کرنے اور باطن میں برائی چھپانے کا نام ہے۔ اس تعریف میں نفاق اعتقادی اور نفاق عملی دونوں شامل ہیں۔ جیسے نبیﷺنے بھی اپنے اس فرمان میں اس کا ذکر فرمایا: ’آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ، اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَ اِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَ اِذَا ائْتُمِنَ خَانَ‘’’منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے۔‘‘(صحیح البخاری، الإيمان، باب علامات المنافق، حديث:33) ایک اور روایت میں آتا ہے ’وَاِذَا خَاصَمَ فَجَرَ‘’’جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے۔‘‘ (حوالہ سابق،حديث:34) رہا نفاق اعتقادی جو دائرۂ اسلام سے خارج کرنے والا ہے۔ تو یہ وہ نفاق ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے منافقین کو اس سورت میں اور بعض دیگر سورتوں میں متصف فرمایا۔ رسول اللہﷺکی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت سے پہلے اور ہجرت کے بعد تک نفاق کا وجود نہ تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے غزوۂ بدر میں اہل ایمان کو غلبے اور فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا۔ پس مدینہ میں رہنے والے وہ لوگ جنھوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، ذلیل ٹھہرے۔ چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں نے خوف کی وجہ سے دھوکے کے ساتھ اپنا مسلمان ہونا ظاہر کیا تاکہ ان کا جان و مال محفوظ رہے۔ پس وہ مسلمانوں کے سامنے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے درآنحالیکہ وہ مسلمان نہیں تھے۔ اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے ان منافقین کے احوال و اوصاف ان کے سامنے واضح کر دیے جن کی بنا پر وہ پہچان لیے جاتے تھے تاکہ اہل ایمان ان سے دھوکہ نہ کھا سکیں، نیز منافقین اپنے بہت سے فسق و فجور سے باز آ جائیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿يَحۡذَرُ الۡمُنَافِقُوۡنَ اَنۡ تُنَزَّلَ عَلَيۡهِمۡ سُوۡرَۃٌ تُنَبِّئُهُمۡ بِمَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾(التوبہ9؍64) ’’منافق ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کے بارے میں کوئی ایسی سورت نہ نازل کر دی جائے جو ان کے دل کی باتوں سے مسلمانوں کو آگاہ کر دے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اصل نفاق کو بیان کیا اور فرمایا : ﴿ وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَمَا هُمۡ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر، حالانکہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں‘‘ کیونکہ یہ لوگ اپنی زبان سے ایسی بات کا اظہار کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ﴿ وَمَا هُمۡ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ کہہ کر انھیں جھوٹا قرار دیا، اس لیے کہ حقیقی ایمان وہ ہے جس پر دل اور زبان متفق ہوں، ان منافقین کا یہ اظہارِ ایمان تو اللہ تعالیٰ اور اہل ایمان کو دھوکہ دینا ہے۔ (اَلْمُخَادَعَۃُ) ’’دھوکہ‘‘ یہ ہے کہ دھوکہ دینے والا شخص جس کو دھوکہ دیتا ہے اس کے سامنے زبان سے جو کچھ ظاہر کرتا ہے اس کے خلاف اپنے دل میں چھپاتا ہے تاکہ اس شخص سے اپنا مقصد حاصل کر سکے جسے وہ دھوکہ دے رہا ہے۔ پس منافقین نے اللہ تعالیٰ اور اہل ایمان کے ساتھ اسی رویہ کو اختیار کیا تو یہ دھوکہ انھی کی طرف لوٹ آیا (یعنی اس کا سارا وبال انھی پر پڑا) اور یہ عجائبات میں سے ہے، کیونکہ دھوکہ دینے والے کا دھوکہ یا تو نتیجہ خیز ہوتا ہے اور اسے اپنا مقصد حاصل ہو جاتا ہے یا وہ محفوظ رہتا ہے اور اس کا نتیجہ نہ تو اس کے حق میں ہوتا ہے اور نہ اس کے خلاف۔ مگر ان منافقین کا دھوکہ خود ان کی طرف پلٹ گیا۔ گویا کہ وہ مکر اور چالبازیاں جو دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لیے کر رہے تھے وہ درحقیقت اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے لیے کر رہے تھے، اس لیے کہ ان کے دھوکے سے اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے نہ اہل ایمان کو۔ پس منافقین کے ایمان ظاہر کرنے سے اہل ایمان کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، اظہار ایمان سے انھوں نے اپنے جان و مال کو محفوظ کر لیا اور ان کا مکر و فریب ان کے سینوں میں رہ گیا اس نفاق کی وجہ سے دنیا میں ان کو رسوائی ملی اور اہل ایمان کو قوت اور فتح و نصرت سے سرفراز ہونے کی وجہ سے وہ حزن و غم کی دائمی آگ میں سلگنے لگے۔ پھر آخرت میں ان کے جھوٹ اور ان کے کفر و فجور کے سبب سے ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا، جب کہ ان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی حماقت اور جہالت کی وجہ سے اس کے شعور سے بے بہرہ ہیں۔
[10] اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’ان کے دلوں میں روگ ہے‘‘ سے مراد شکوک و شبہات اور نفاق کا مرض ہے۔ قلب کو دو قسم کے امراض لاحق ہوتے ہیں جو اسے صحت و اعتدال سے محروم کر دیتے ہیں: ۱۔ شبہات باطلہ کا مرض ۲ ۔ ہلاکت میں ڈالنے والی شہوات کا مرض۔ پس کفر و نفاق اور شکوک و بدعات یہ سب شبہات کے امراض ہیں۔ زنا، فواحش و معاصی سے محبت اور ان کا ارتکاب یہ سب شہوات کے امراض ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَيَطۡمَعَ الَّذِيۡ فِيۡ قَلۡبِهٖ مَرَضٌ﴾(الاحزاب33؍32) ’’پس وہ شخص جس کے دل میں مرض ہے، وہ طمع کرے گا‘‘ اس مرض سے مراد شہوت زنا ہے۔ برائی سے صرف وہی بچے گا جو ان دو امراض سے محفوظ ہو گا۔ پس اس کو ایمان و یقین حاصل ہوتا ہے اور معاصی کے مقابلے میں صبر کی ڈھال عطا کر دی جاتی ہے اور وہ عافیت کا لباس زیب تن کر کے ناز و ادا سے چلتا ہے۔ منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا﴾ میں گناہ گاروں کے گناہوں کی تقدیر کی بابت اللہ تعالیٰ کی حکمت کا بیان ہے کہ یہ روگ نفاق ان کے سابقہ گناہوں کا نتیجہ ہے، نیز اللہ تعالیٰ انھیں اس کے سبب سے مزید گناہوں میں مبتلا کر دیتا ہے جو ان کے لیے مزید سزا کے موجب بنتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾(الانعام 6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (وہ اس قرآن پر اسی طرح ایمان نہ لائیں گے) جس طرح وہ پہلی مرتبہ ایمان نہ لائے تھے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿فَلَمَّا زَاغُوۡا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ﴾(الصف 61؍5) ’’جب وہ ٹیٹرھے ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ٹیٹرھا کر دیا۔‘‘ اور فرمایا : ﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ فَزَادَتۡهُمۡ رِجۡسًا اِلٰي رِجۡسِهِمۡ﴾(التوبہ : 9؍125) ’’اور رہے وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے تو اس سورت نے ان کی گندگی میں گندگی کو اور زیادہ کر دیا۔‘‘ پس گناہ کی سزا گناہ کی دلدل میں مزید دھنستے چلے جانا ہے۔ جیسے نیکی کی جزا یہ ہے کہ اس کے بعد اسے مزید نیکی کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَيَزِيۡدُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اهۡتَدَوۡا هُدًي﴾(مریم : 19؍76) ’’اور وہ لوگ جو ہدایت یاب ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اور زیادہ ہدایت دیتا ہے۔‘‘