اور جب حاضر ہوں تقسیم کے وقت رشتے دار اور یتیم اور مساکین تو دو تم ان کو کچھ اس (مقسوم) میں سے اور کہو تم ان سے بات معقول(8)
[8] یہ اللہ تعالیٰ کے بہترین اور جلیل ترین احکام میں سے ہے جو ٹوٹے دلوں کو جوڑتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِذَا حَضَرَ الۡقِسۡمَةَ ﴾ یعنی میراث کی تقسیم کے وقت ﴿ اُولُوا الۡقُرۡبٰى ﴾ یعنی وہ رشتہ دار جو میت کے وارث نہیں ہیں اور اس کا قرینہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ الۡقِسۡمَةَ ﴾ ہے کیونکہ ورثاء تو وہ لوگ ہیں جن میں وراثت تقسیم ہو گی ﴿ وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنُ ﴾ ’’یتیم اور مساکین‘‘ یعنی فقراء میں سے مستحق لوگ ﴿ فَارۡزُقُوۡهُمۡ مِّؔنۡهُ ﴾ یعنی اس مال میں سے جو تمھیں بغیر کسی کدو کاوش اور بغیر کسی محنت کے حاصل ہوا۔ ان کو بھی جتنا ہو سکے عطا کردو۔ کیونکہ ان کا نفس بھی اس کا اشتیاق رکھتا ہے اور ان کے دل بھی منتظر ہیں۔ پس تم ان کی دل جوئی کی خاطر اتنا مال ان کو دے دو جس سے تمھیں نقصان نہ ہو اور ان کے لیے فائدہ مند ہو۔اس معنیٰ سے یہ بات اخذ کی جاتی ہے کہ اگر انسان کے سامنے کوئی چیز رکھی جائے اور وہاں کوئی ایسا فرد موجود ہو جو کسی آس میں اس پر نظر رکھتا ہو تو اس شخص کے لیے مناسب ہے کہ جتنا بھی ہو سکے اس کو عطا کر دے۔ جیسا کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے سامنے کھانا پیش کرے تو وہ اسے اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو اسے ایک یا دو لقمے عطا کر دے۔‘‘صحابہ کرامy کا طریقہ یہ تھا کہ جب ان کے سامنے موسم کا پہلا پھل آتا تو وہ اسے رسول اللہﷺکی خدمت میں پیش کرتے، آپ اس میں برکت کی دعا فرماتے اور پھر وہاں موجود سب سے چھوٹے بچے کو عطا کر دیتے، یہ جانتے ہوئے کہ یہ ننھا بچہ نہایت شدت سے اس کی خواہش رکھتا ہو گا۔ یہ سب کچھ اس وقت ہے جب عطا کرنا ممکن ہو اگر عطا کرنا ممکن نہ ہو ۔۔۔ مثلاً یہ بے سمجھ لوگوں کا حق ہے یا اس سے بھی اہم کوئی اور وجہ ہو تو ایسی صورت میں ﴿ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ﴾ ان کو اچھی اور غیر قبیح بات کہہ کر بھلے طریقے سے لوٹا دو۔