اور جب کہا جاتا ہے ان سے نہ فساد کرو زمین میں، (تو) کہتے ہی یقیناًہم تو اصلاح کرنے والے ہی ہیں(11) خبردار! بلاشبہ وہی فساد کرنے والے ہیں لیکن وہ نہیں شعور رکھتے (12)
[11] جب ان منافقوں کو زمین میں فساد پھیلانے سے روکا جاتا ہے اور فساد سے مراد اعمال کفر اور معاصی ہیں۔ نیز دشمن کے پاس اہل ایمان کے راز پہنچانا اور کفار کے ساتھ دوستی رکھنا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرتے ہیں۔ پس انھوں نے دو باتوں کو اکٹھا کر دیا۔ (۱) فساد فی الارض کا ارتکاب۔ (۲) اس بات کا اظہار کہ یہ فساد پھیلانا نہیں، بلکہ اصلاح ہے۔ یوں گویا ایک تو انھوں نے حقائق کو بدل دیا (فساد کا نام اصلاح رکھا) دوسرے، فعل باطل اور اس کے حق ہونے کے اعتقاد کو جمع کر دیا۔ یہ لوگ ان لوگوں سے زیادہ بڑے مجرم ہیں جو گناہ کو حرام سمجھتے ہوئے گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یہ لوگ سلامتی کے زیادہ قریب ہیں اور ان کی بابت ارتکاب گناہ سے باز آ جانے کی زیادہ امید ہے۔ چونکہ ان کے قول ﴿اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ﴾ ’’بیشک ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں‘‘ میں اصلاح ان کی جانب محدود و محصور ہے جس سے ضمناً یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اہل ایمان اصلاح والے نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا دعویٰ انھی پر پلٹ دیا۔
[12] فرمایا: ﴿اَلَآ اِنَّهُمۡ هُمُ الۡمُفۡسِدُوۡنَ﴾ ’’خبردار، بے شک یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے کفر، اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے، اللہ تعالیٰ اور اس کے اولیاء کو دھوکہ دینے اور اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کرنے والوں کے ساتھ دوستی رکھنے سے بڑا کوئی فساد نہیں۔ اس کے باوجود وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ اصلاح کر رہے ہیں۔ کیا اس فساد کے بعد بھی کوئی اور فساد رہ جاتا ہے؟ لیکن وہ اپنے فساد کے بارے میں ایسا علم نہیں رکھتے جو انھیں فائدہ پہنچا سکے اگرچہ وہ اس کے بارے میں ایسا علم ضرور رکھتے ہیں جو ان کے خلاف حجت قائم کرے گا اور صرف ان کے اعمال ہی زمین کے اندر فساد کا باعث تھے کیونکہ برے اعمال اور گناہوں کے سبب سے روئے زمین پر آفتیں اور مصائب نازل ہوتے ہیں جو غلے، پھلوں، درختوں اور نباتات کو بھی خراب کر دیتے ہیں۔ زمین کے اندر اصلاح یہ ہے کہ اسے ایمان اور اطاعت الٰہی سے معمور رکھا جائے۔ اسی اطاعت و ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کر کے اس کو زمین پر آباد کیا اور ان پر رزق کے دروازے کھول دیے تاکہ وہ اس رزق کی مدد سے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی اطاعت کرے۔ لہٰذا جب اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت کے خلاف عمل کیا جائے گا تو یہ عمل گویا زمین میں فساد برپا کرنا اور اس کو اجاڑنا ہوگا۔