Tafsir As-Saadi
2:21 - 2:22

اے لوگو! عبادت کرو تم اپنے رب کی، وہ جس نے پیدا کیا تمھیں اور ان کو جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ(21) وہ جس نے بنایا تمھارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت، اور نازل کیااس نے آسمان سے پانی، پھر نکالا ساتھ اس کے پھلوں سے رزق تمھارے لیے، پس نہ ٹھہراؤ تم اللہ کا شریک، حالانکہ تم جانتے ہو(22)

[21] یہ تمام لوگوں کے لیے امر عام ہے۔ اور وہ اللہ کی عبادت ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت، اس کے نواہی سے اجتناب اور اس کی خبر کی تصدیق کی جامع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کو اس چیز کا حکم دیا جس کے لیے ان کی تخلیق کی گئی ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ﴾(الذاریات : 51؍56) ’’میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا تاکہ وہ میری عبادت کریں۔‘‘ پھر صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے پر اس بات سے استدلال کیا ہے کہ وہ تمھارا رب ہے اس نے تمھیں بہت سی نعمتوں سے نواز کر تمھاری تربیت اور پرورش کی۔ وہ تمھیں عدم سے وجود میں لایا۔ اس نے ان لوگوں کو پیدا کیا جو تم سے پہلے تھے۔
[22] اس نے تمھیں ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کیں۔ اس نے زمین کو تمھارے لیے فرش بنایا جہاں تم اپنا ٹھکانا بناتے ہو۔ جہاں تم عمارات تعمیر کر کے، زراعت اور کاشتکاری کر کے، اور ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کر کے مختلف فوائد حاصل کرتے ہو، اس کے علاوہ تم زمین کے بعض دیگر فوائد سے استفادہ کرتے ہو۔ اس نے تمھارے اس مسکن کے لیے آسمان کو چھت بنایا۔ اس نے تمھاری ضروریات اور حاجات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس چھت میں بھی بہت سی نفع بخش چیزیں، مثلاً سورج، چاند اور ستارے پیدا کیے۔ ﴿وَاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً﴾ ’’اور اتارا اس نے آسمان سے پانی۔‘‘ ہر وہ چیز جو آپ کے اوپر، اور بلند ہے وہ آسمان کہلاتی ہے۔ بنا بریں علمائے تفسیر کہتے ہیں کہ یہاں آسمان سے مراد بادل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بادلوں سے پانی برسایا ﴿فَاَخۡرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ﴾ اور اس پانی کے ذریعے سے مختلف اقسام کے غلہ جات، مختلف انواع کے پھل اور میوہ جات، کھجوریں اور دیگر کھیتیاں اگائیں ﴿رِزۡقًا لَّكُمۡ﴾ تمھارے رزق کے طور پر، جس سے تم رزق اور خوراک حاصل کرتے ہو، اس رزق سے زندگی بسر کرنے کا سامان کرتے ہو اور اس سے تم لذت حاصل کرتے ہو۔ ﴿فَلَا تَجۡعَلُوۡا لِلّٰهِ اَنۡدَادًا﴾ پس تم مخلوق میں سے اس کی برابری کرنے والے ہمسر بنا کر ان کی عبادت نہ کرو جیسے تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہو، اور ان سے ایسی محبت نہ کرو جیسے تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو، وہ بھی تمھاری مانندمخلوق ہیں ان کو بھی رزق دیا جاتا ہے اور ان کی زندگی کی بھی تدبیر کی جاتی ہے۔ وہ زمین و آسمان میں ایک ذرے کے بھی مالک نہیں۔ وہ تمھیں نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ ﴿وَاَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ حالانکہ تم جانتے ہو کہ تخلیق کرنے، رزق عطا کرنے اور کائنات کی تدبیر کرنے میں اس کا کوئی شریک اور کوئی نظیر نہیں اور نہ الوہیت اور کمال میں اس کی کوئی برابری کرنے والا ہے۔ یہ سب کچھ جانتے ہوئے پھر تم کیسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہو۔ یہ بڑی عجیب بات اور سب سے بڑی حماقت ہے۔ یہ آیت کریمہ صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کےحکم اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور ہستی کی عبادت کرنے سے ممانعت کو جمع کرنے والی ہے، نیز اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب کی واضح دلیل اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت کے بطلان کے بیان پر مشتمل ہے۔ یہ توحید ربوبیت ہے جو اس امر کو متضمن ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی تخلیق کرتا، وہی رزق عطا کرتا اور وہی کائنات کی تدبیر کرتا ہے۔ جب ہر ایک شخص یہ اقرار کرتا ہے کہ ان تمام امور میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں تو اسے یہ اقرار بھی کرنا چاہیے کہ عبادت میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے اثبات اور شرک کے بطلان پر واضح ترین عقلی دلیل ہے۔ ﴿لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ‘‘ اس آیت کریمہ میں ایک معنی کا احتمال یہ ہے کہ جب تم ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو گے تو اس کی ناراضی اور عذاب سے بچ جاؤ گے۔ کیونکہ تم نے ایک ایسا سبب اختیار کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو دور کرتا ہے۔ اس کے ایک دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جب تم اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار بندے بن جاؤ گے تو تم متقین میں شمار ہو گے جو تقویٰ کی صفت سے آراستہ ہوتے ہیں۔ دونوں معنی صحیح ہیں اور دونوں میں تلازم پایا جاتا ہے، یعنی جو کوئی کامل طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے اس کا شمار اہل تقویٰ میں ہوتا ہے اور جو کوئی متقی بن جاتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے نجات حاصل ہو جاتی ہے۔