کیسے کفر کرتے ہو تم ساتھ اللہ کے؟حالانکہ تھے تم مردے، پس زندہ کیا اس نے تمھیں، پھر وہی موت دے گا تمھیں، پھر وہی زندہ کرے گا تمھیں، پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(28)
[28] اس آیت میں استفہام تعجب، زجر و توبیخ اور انکار کے معنی میں ہے۔ یعنی تم کیسے اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہو جو تمھیں عدم میں سے وجود میں لایا اور اس نے تمھیں انواع و اقسام کی نعمتوں سے نوازا پھر وہ تمھارا وقت پورا ہونے پر تمھیں موت دے گا اور قبروں کے اندر تمھیں جزا دے گا پھر قیامت کے برپا ہونے پر تمھیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہ تمھیں تمھارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے تصرف میں ہو، اس کی تدبیر اور اس کے احسان کے تحت زندگی بسر کر رہے ہو، اور تم (پہلے) اس کے احکام دینیہ اور اس کے بعد (آخرت میں) اس کے قانونِ جزا و سزا کے تحت آتے ہو۔ تب کیا تمھیں یہ لائق ہے کہ تم اس کا انکار کرو؟ کیا تمھارا یہ رویہ ایک بڑی جہالت اور ایک بڑی حماقت کے سوا کچھ اور ہے؟ اس کے برعکس تمھارے لیے مناسب تو یہ تھا کہ تم اس سے ڈرتے، اس کا شکر ادا کرتے، اس پر ایمان لاتے، اس کے عذاب سے خوف کھاتے اور اس کے ثواب کی امید رکھتے۔