اے بنواسرائیل! یاد کرو تم میری نعمت، وہ جوانعام کی میں نے تم پر،اور پورا کرو تم میرا عہد، میں پورا کروں گا تمھارے (ساتھ کیا ہوا) عہد اور مجھ ہی سے ڈرو(40) اور ایمان لاؤ اس پر جومیں نے نازل کیا، جب کہ وہ تصدیق کرنے والا ہےاس (کتاب) کی جو تمھارے پاس ہے اورنہ ہو تم پہلے کفر کرنے والے، ساتھ اس کے اور نہ بیچو تم میری آیتوں کو قیمت تھوڑی میں، اورمجھ ہی سے ڈرو(41) اور نہ خلط ملط کرو حق کو ساتھ باطل کے اور مت چھپاؤحق کو درآں حالیکہ تم جانتے ہو(42) اور قائم کرو نماز اور دو زکاۃ اور رکوع کرو ساتھ رکوع کرنے والوں کے(43)
[40] یہاں اسرائیل سے مراد حضرت یعقوبuہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ خطاب بنی اسرائیل کے ان گروہوں سے ہے جو مدینہ اور اس کے گرد و نواح میں آباد تھے۔ اس خطاب میں بعد میں آنے والے اسرائیلی بھی شامل ہیں۔ پس ان کو ایک عام حکم دیا ہے۔ فرمایا: ﴿ اذۡكُرُوۡا نِعۡمَتِيَ الَّتِيۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’میری ان نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر کیں‘‘ ان نعمتوں میں تمام نعمتیں شامل ہیں ان میں سے بعض کا ذکر عنقریب اس سورت میں آئے گا۔ یہاں ان نعمتوں کے یاد کرنے سے مراد دل میں ان نعمتوں کا اعتراف کرنا، زبان سے ان کی تعریف کرنا اور جوارح کے ذریعے سے ان نعمتوں کو ایسی جگہ استعمال کرنا ہے جہاں اللہ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہوتا ہے۔ ﴿ وَاَوۡفُوۡا بِعَهۡدِيۡۤ ﴾ یعنی اس عہد کو پورا کرو جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا ہے کہ وہ اس پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائیں گے اور اس کی شریعت کو قائم کریں گے۔ ﴿ اُوۡفِ بِعَهۡدِكُمۡ ﴾ ’’میں تم سے کیا ہوا عہد پورا کروں گا‘‘ یہ ان کے عہد کے پورا کرنے کا بدلہ ہے۔ اس عہد سے مراد وہ عہد ہے جس کا اللہ تعالی نے اس آیت میں ذکر کیا ہے: ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۚ وَبَعَثۡنَا مِنۡهُمُ اثۡنَيۡ عَشَرَ نَقِيۡبًا١ؕ وَقَالَ اللّٰهُ اِنِّيۡ مَعَكُمۡ١ؕ لَىِٕنۡ اَقَمۡتُمُ الصَّلٰوةَ وَاٰتَيۡتُمُ الزَّكٰوةَ وَاٰمَنۡتُمۡ بِرُسُلِيۡ وَعَزَّرۡتُمُوۡهُمۡ وَاَقۡرَضۡتُمُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَلَاُدۡخِلَنَّـكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۚ فَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ مِنۡكُمۡ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَؔآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(المائدہ : 5؍12) ’’اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان میں سے ہم نے بارہ سردار مقرر کر دیے اور اللہ نے فرمایا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں اگر تم نماز قائم کرتے اور زکاۃ دیتے رہو گے میرے رسولوں پر ایمان لاتے اور ان کی عزت و توقیر کرتے رہو گے اور اللہ کو قرض حسنہ دیتے رہو گے۔ میں تم سے تمھارے گناہ دور کر دوں گا اور تمھیں ایسی جنتوں میں داخل کروں گا جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، پھر تم میں سے جس نے اس کے بعد کفر کا ارتکاب کیا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ اسباب اختیار کرنے کا حکم دیا جو وفائے عہد کے حامل ہیں یعنی اس اکیلے سے خوف کھانا اور ڈرنا۔ کیونکہ جو کوئی اس سے ڈرتا ہے تو یہ ڈر اس کے احکام کی اطاعت اور اس کے نواہی سے اجتناب کا موجب بنتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک خاص امر کا حکم دیا ہے جس کے بغیر ان کا ایمان مکمل ہوتا ہے نہ اس کے بغیر ایمان صحیح۔
[41] فرمایا: ﴿ وَاٰمِنُوۡا بِمَاۤ اَنۡزَلۡتُ ﴾ ’’اور ایمان لاؤ اس پر جو میں نے نازل کیا۔‘‘ اس سے مراد قرآن مجید ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول محمدﷺپر نازل فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا کہ محمدﷺپر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں اور آپ پر ایمان لانے اور اتباع کرنے کا حکم اس کتاب پر بھی ایمان لانے کو مستلزم ہے جو آپ پر نازل کی گئی۔ پھر اس داعی کا ذکر کیا جو انھیں ایمان کی طرف بلاتا ہے، فرمایا:﴿مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمۡ﴾ ’’تصدیق کرنے والا ہے ان چیزوں کی جو تمھارے پاس ہیں‘‘ یعنی یہ (قرآن) ان کتابوں کی موافقت کرتا ہے جو تمھارے پاس ہیں یہ ان کے مخالف ہے نہ مناقض۔ پس جب یہ قرآن ان کتابوں کی موافقت کرتا ہے جو تمھارے پاس ہیں اور ان کی مخالفت نہیں کرتا تو پھر تمھارے اس پر ایمان لانے سے کوئی چیز مانع نہیں ہے۔ کیونکہ محمدﷺوہی چیز لے کر آئے ہیں جو پہلے رسول لائے تھے۔ لہٰذا تم سب سے زیادہ مستحق ہو کہ تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کی تصدیق کرو کیونکہ تم اہل کتاب اور اہل علم ہو۔ نیز اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمۡ﴾ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اگر تم اس پر ایمان نہیں لاؤ گے تو یہ تکذیب خود تمھاری طرف لوٹے گی یعنی تم خود بھی ان کتابوں کے جھٹلانے والے ٹھہرو گے جو تمھارے پاس ہیں، اس لیے کہ یہ پیغمبر بھی وہی چیز لے کر آیا ہے جو حضرت موسیٰ اور عیسیٰ اور دیگر انبیاء علیہ السلام لے کر آئے، لہٰذا تمھارا محمدﷺکی تکذیب کرنا درحقیقت ان کتابوں کی تکذیب ہے جو تمھارے پاس ہیں۔ نیز اس لیے بھی کہ ان کتابوں میں، جو تمھارے پاس ہیں اس نبی کے اوصاف اور نشانیاں بیان ہوئی ہیں اور اس کی بشارت دی گئی جو یہ قرآن لے کر آیا ہے، اس لیے اگر تم اس پر ایمان نہیں لاتے تو تم نے گویا ان کتابوں کے بعض احکام کو جھٹلایا جو تمھارے پاس ہیں۔ پس جو کوئی اس کتاب کے کچھ حصے کو جھٹلاتا ہے جو اس کی طرف نازل کی گئی ہے تو وہ تمام کتابوں کو جھٹلاتا ہے۔ جیسے کوئی شخص کسی ایک رسول کا انکار کرتا ہے تو دراصل وہ تمام رسولوں کا انکار کرتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اس رسول پر ایمان لانے کا حکم دیا، تو ان کو ایمان کی ضد یعنی اس کے ساتھ کفر سے روکا اور اس سے ڈرایا۔ فرمایا:﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭؔ بِهٖ﴾ یعنی رسول اللہ اور قرآن کی تکذیب کرنے والے پہلے لوگ نہ بنو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ كَافِرٍۭؔ بِهٖ﴾ ’’اس کے اولین انکار کرنے والے‘‘ (وَلَا تَکْفُرُوْا بِہٖ) ’’اس کا انکار نہ کرو‘‘ سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ جب وہ اولین کفر کرنے والے ہوں گے تو گویا وہ کفر کی طرف بہت تیزی سے لپکے ہیں، اس رویہ کے برعکس جو ان کے لیے زیادہ مناسب تھا۔ ان کے اپنے کفر اور انکار کا گناہ تو ان کے ذمہ ہے ہی، بعد میں آنے والے ان لوگوں کا گناہ بھی ان کے کندھوں پر ہے جنھوں نے ان کی پیروی کی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس مانع کا ذکر کیا جو ان کو ایمان لانے سے روکتا ہے اور وہ ہے دنیا کے ادنی فوائد کو ابدی سعادت پر ترجیح دینا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰيٰتِيۡ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾ ’’میری آیات (میں تحریف کر کے ان) کے عوض حقیر معاوضہ مت لو‘‘ اس سے مراد وہ دنیاوی مناصب اور کھانے پینے کی اشیاء ہیں جن کے بارے میں وہ اس وہم میں پڑے ہوئے ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے تو وہ ان چیزوں سے محروم ہو جائیں گے۔ پس انھوں نے ان ادنی چیزوں کو آیات الٰہی کے بدلے خرید لیا اور ادنی چیزوں کو آیات الٰہی پر ترجیح دی۔ ﴿ وَاِيَّايَ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’مجھ ہی سے ڈرو‘‘ اور میرے سوا کسی سے نہ ڈرو۔ کیونکہ جب تم صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرو گے تو یہ چیز تم میں تقوی اور تھوڑی سی قیمت کے مقابلے میں آیات الٰہی پر ایمان کو مقدم رکھنے کی موجب ہو گی۔ جیسے جب تم آیات الٰہی کے بدلے تھوڑی سی قیمت کو پسند کر لیتے ہو تو یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ تمھارے دلوں سے تقویٰ کوچ کر گیا ہے۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَا تَلۡبِسُوا الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَكۡتُمُوا الۡحَقَّ﴾ ’’اور خلط ملط نہ کرو حق کو باطل کے ساتھ اور نہ چھپاؤ تم حق کو‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو دو چیزوں سے منع کیا ہے۔ (۱) حق کو باطل میں خلط ملط کرنے سے۔ (۲) کتمان حق سے۔ اس لیے کہ اہل کتاب اور اہل علم سے مطلوب یہ ہے کہ وہ حق کو ممیز کر کے اس کو ظاہر کریں تاکہ ہدایت کے متلاشی حق کے ذریعے سے راہ پائیں اور گم گشتہ راہ لوگ سیدھے راستے کی طرف لوٹ آئیں اور اہل عناد پر حجت قائم ہو جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کو کھول کھول کر بیان کر دیا ہے اور اپنے دلائل واضح کر دیے تاکہ حق، باطل سے بالکل الگ اور ممیز ہو جائے اور مجرموں کا راستہ واضح ہو جائے۔ پس اہل علم میں سے جو کوئی حق پر عمل پیرا ہوتا ہے وہ انبیاء و مرسلین کا جانشین اور قوموں کا راہ نما بن جاتا ہے اور جو حق کو باطل میں گڈ مڈ کر دیتا ہے، حق کا علم رکھنے کے باوجود حق کو باطل سے ممیز نہیں کرتا، اور اس حق کو وہ چھپاتا ہے جسے وہ جانتا ہے اور جس کے اظہار کا اسے حکم دیا گیا ہے تو ایسا شخص جہنم کے داعیوں میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ لوگ دین کے معاملے میں اپنے علماء کے سوا کسی کی پیروی نہیں کرتے۔ پس تم ان دو چیزوں میں سے اپنے لیے جو چاہو چن لو۔
[43] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوۃَ﴾ یعنی (ظاہری اور باطنی طور پر) نماز قائم کرو۔ ﴿وَاٰتُوۡا الزَّكٰوۃَ﴾ یعنی (مستحقین کو) زکو ۃ دو۔ ﴿وَارۡكَعُوۡا مَعَ الرَّاكِعِيۡنَ﴾ ’’اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ‘‘ یعنی نماز پڑھنے والوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھو۔ جب تم نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور آیات الٰہی پر ایمان رکھتے ہوئے ان افعال کو سرانجام دیا تو یقیناً تم نے اعمال ظاہرہ اور اعمال باطنہ کو، معبود کے لیے اخلاص اور اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو اور عبادات قلبیہ اور عبادات بدنیہ اور مالیہ کو جمع کر لیا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَاۡركَعُوۡا مَعَ الرَّاكِعِيۡنَ﴾ ’’رکوع کرنے والوں کے ساتھ مل کر رکوع کرو، کے معنی یہ ہیں کہ نماز پڑھنے والوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھو۔ پس اس آیت کریمہ میں باجماعت نماز کا حکم اور جماعت کے وجوب کا اثبات ہے اور یہ کہ رکوع نماز کا رکن ہے کیونکہ یہاں نماز کو رکوع سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور عبادت کو اس کے کسی جزو سے تعبیر کرنا عبادت میں اس جزو کی فرضیت کی دلیل ہے۔