Tafsir As-Saadi
2:26 - 2:27

بلاشبہ اللہ نہیں شرماتا اس بات سے کہ بیان کرے مثال کوئی سی بھی، مچھر کی یا اس چیز کی جو (عظمت یا حقارت میں) اس سے بڑھ کر ہو، پس لیکن ایمان والے تو وہ جانتے ہیں کہ بلاشبہ وہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے،اورلیکن جو لوگ کافر ہوئے تووہ کہتے ہیں کیا ارادہ کیا اللہ نے اس مثال سے؟ گمراہ کرتا ہے اللہ اس سےبہتوں کو اور ہدایت دیتا ہے اس سے بہتوں کو اور نہیں گمراہ کرتا اس سے مگر فاسقوں ہی کو(26) وہ جو توڑتے ہیں عہد اللہ کا بعد اس کے پختہ کر لینے کے اور کاٹتے ہیں اس چیز کوکہ حکم دیا ہے اللہ نے اس کی بابت یہ کہ ملایا جائے (اس کو) اور فساد کرتے ہیں زمین میں، یہی لوگ ہیں خسارہ اٹھانے والے(27)

[26]﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسۡتَحۡيٖۤ اَنۡ يَّضۡرِبَ مَثَلًا مَّا ﴾’’اللہ تعالیٰ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ کوئی سی بھی مثال بیان کرے‘‘ خواہ وہ کسی قسم کی مثال ہو ﴿بَعُوۡضَۃً فَمَا فَوۡقَهَا﴾ ’’مچھر کی ہو یا اس چیز کی جو اس سے بڑھ کر ہو‘‘ کیونکہ مثال حکمت اور ایضاح حق پر مبنی ہوتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا۔ اس آیت کریمہ میں گویا اس شخص کو جواب دیا گیا ہے جو معمولی اور حقیر اشیاء کی مثال دینے کا منکر ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرتا ہے، پس یہ اعتراض کا مقام نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کو تعلیم دینا اور ان کے ساتھ مہربانی کا معاملہ کرنا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ اسے شکر کرتے ہوئے قبول کیا جائے۔ بنابریں فرمایا :﴿ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّهُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو ایمان لائے تو وہ جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے‘‘ پس وہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس میں غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔ پس اگر انھیں اس کے مشمولات کا تفصیلی علم حاصل ہو جاتا ہے تو ان کے علم و ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ورنہ انھیں معلوم ہے کہ یہ حق ہے اور حق باتوں پر ہی مشتمل ہے اور اگر اس میں حق کا پہلو ان پر مخفی رہے تب بھی انھیں یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بے فائدہ بیان نہیں فرمایا، بلکہ اس میں یقینا کوئی حکمت بالغہ اور نعمت کاملہ مضمر ہے۔ ﴿ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فَيَقُوۡلُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’لیکن کافر لوگ، تو وہ کہتے ہیں، اللہ نے اس مثال سے کیا چاہا ہے؟‘‘ یعنی کافر حیران ہو کر اعتراض کرتے ہیں اور اپنے کفر میں اور اضافہ کر لیتے ہیں جیسے اہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يُضِلُّ بِهٖ كَثِيۡرًاوَّيَهۡدِيۡ بِهٖ كَثِيۡرًا﴾ ’’وہ اس سے بہتوں کو گمراہ کرتا اور بہت سوں کو ہدایت دیتا ہے‘‘ پس آیات قرآن کے نزول کے وقت یہ اہل ایمان اور کفار کا حال ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّقُوۡلُ اَيُّكُمۡ زَادَتۡهُ هٰؔذِهٖۤ اِيۡمَانًا١ۚ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فَزَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا وَّهُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠۰۰ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ فَزَادَتۡهُمۡ رِجۡسًا اِلٰى رِجۡسِهِمۡ وَمَاتُوۡا وَهُمۡ كٰفِرُوۡنَ﴾(التوبہ : 9؍125،124) ’’جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان میں سے بعض تمسخر کے طور پر کہتے ہیں اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے؟ جو لوگ ایمان لائے ان کا ایمان تو اس سورت نے زیادہ کیا اور وہ خوش ہوتے ہیں اور جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے تو اس سورت نے ان کی گندگی میں گندگی کو اور زیادہ کر دیا اور وہ کفر کی حالت ہی میں مر گئے۔‘‘ پس بندوں پر قرآنی آیات کے نزول سے بڑھ کر اور کوئی نعمت نہیں۔ اس کے باوجود یہ قرآنی آیات کچھ لوگوں کے لیے آزمائش، حیرت اور گمراہی اور ان کے شر میں اضافے کا باعث بنتی ہیں اور کچھ لوگوں کے لیے انعام، رحمت اور ان کی بھلائیوں میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں کے درمیان تفاوت قائم کیا۔ صرف وہی ہے جو ہدایت سے نوازتا ہے اور وہی ہے جو گمراہ کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس عدل و حکمت کا ذکر کیا ہے جو اس شخص کی گمراہی میں کارفرما ہوتی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا يُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ یعنی وہ صرف ان ہی لوگوں کو گمراہ کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کے رسولوں سے عناد رکھتے ہیں، فسق و فجور ان کا وصف بن گیا ہے اور وہ اس وصف کو بدلنا نہیں چاہتے۔ پس اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے فضل کا یہ تقاضا ہوا کہ وہ ان کو گمراہی میں مبتلا کرے کیونکہ ان میں ہدایت کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہیں۔ جیسے اس کی حکمت اور اس کا فضل اس شخص کی ہدایت کا تقاضا کرتے ہیں جو ایمان سے متصف اور اعمال صالحہ سے مزین ہو۔فسق کی دو اقسام ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جو انسان کو دائرۂ اسلام ہی سے خارج کر دیتی ہے۔ فسق کی یہ قسم ایمان سے خارج ہونے کا تقاضا کرتی ہے جیسا کہ اس آیت میں اور اس قسم کی دیگر آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔فسق کی دوسری قسم وہ ہے جو انسان کو دائرہ ایمان سے خارج نہیں کرتی جیسا کہ اس آیت کریمہ میں وارد ہوا ہے :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَكُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوۡۤا﴾(الحجرات : 49؍6) ’’اے ایمان والو! اگر تمھارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لو۔‘‘

پھر اللہ تعالیٰ نے فاسقوں کا وصف بیان کیا۔

[27] فرمایا : ﴿ الَّذِيۡنَ يَنۡقُضُوۡنَ عَهۡدَ اللّٰهِ مِنۢۡ بَعۡدِ مِيۡثَاقِهٖ﴾ ’’وہ جو اللہ کے عہد کو اس کو پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں‘‘ عہد کا لفظ عام ہے، اس سے مراد وہ عہد بھی ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور اس کا اطلاق اس عہد پر بھی ہوتا ہے جو انسان آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں۔ اللہ نے عہد کے پورا کرنے کی سخت تاکید فرمائی ہے۔ کافر ان عہدوں کی پروا نہیں کرتے بلکہ وہ ان کو توڑتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کرتے ہیں اور اس کے نواہی کے مرتکب ہوتے ہیں اور وہ ان معاہدوں کا بھی پاس نہیں کرتے جو ان کے درمیان آپس میں ہوتے ہیں۔ ﴿ وَ يَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ﴾ ’’اور اس چیز کو قطع کرتے ہیں جس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا ہے‘‘ اس میں بہت سی چیزیں داخل ہیں: اوّلاً : اللہ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس تعلق کو جوڑیں جو ہمارے اور اللہ کے درمیان ہے (اس کی صورت یہ ہے کہ ہم) اللہ پر ایمان لائیں اور اس کی عبادت کریں۔ ثانیاً : ہمارے اور اس کے رسول کے درمیان جو تعلق ہے، اسے قائم کریں، یعنی اس پر ایمان لائیں، اس سے محبت رکھیں، اس کی مدد کریں اور اس کے تمام حقوق ادا کریں (رسول کی مکمل اطاعت کریں۔) ثالثاً : وہ تعلق ہے جو ہمارے اور ہمارے والدین، عزیز و اقارب اور دوست احباب اور تمام مخلوق کے درمیان ہے، ان سب کے حقوق کی ادائیگی بھی اس تعلق کے جوڑنے میں شامل ہے جس کا حکم ہمیں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ اہل ایمان ان تمام رشتوں، حقوق اور تعلقات کو جوڑے رکھتے ہیں جن کو جوڑنے کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے اور ان حقوق کو بہترین طریقے سے ادا کرتے ہیں۔ رہے اہل فسق تو وہ ان رشتوں کو توڑتے ہیں اور ان کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر (ان کے تقدس کا پاس نہیں کرتے) اس کی بجائے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں، قطع رحمی سے کام لیتے ہیں اور گناہوں کے کام کرتے ہیں اور یہی زمین میں فساد برپا کرنا ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ یعنی یہی لوگ جو اس صفت سے متصف ہیں ﴿هُمُ الۡخَاسِرُوۡنَ﴾ دنیا و آخرت میں خسارے میں پڑنے والے ہیں۔ خسارے کو ان فاسقین میں اس لیے محصور و محدود رکھا کیونکہ ان کا خسارہ ان کے تمام احوال میں عام ہے۔ ان کے نصیب میں کسی قسم کا کوئی نفع نہیں، کیونکہ ہر نیک کام کے مقبول ہونے کے لیے ایمان شرط ہے۔ پس جو ایمان سے محروم ہے، اس کے عمل کا کوئی وزن اور اعتبار نہیں، یہ خسارہ کفر کا خسارہ ہے۔ رہا وہ خسارہ جو کبھی کفر ہوتا ہے، کبھی گناہ اور معصیت کے زمرے میں اور کبھی مستحب امور کو ترک کرنے کی کوتاہی کے زمرے میں آتا ہے۔۔۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں مذکور ہے ﴿اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِيۡ خُسۡرٍ﴾(العصر : 103؍2) ’’بے شک انسان ضرور گھاٹے میں ہے۔‘‘ اس خسارے میں تمام انسان داخل ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایمان اور عمل صالح کی صفات، ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرنے اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرنے کی خوبیوں سے متصف ہیں، نیز بھلائی سے محرومی کی حقیقت سے بھی وہ آشنا ہوتے ہیں، جس کو بندہ حاصل کرنے کے درپے ہوتا ہے اور اس کا حصول اس کے امکان میں ہوتا ہے۔