اور مدد طلب کرو تم صبر اور نماز کے ذریعے سے اور بلاشبہ وہ بھاری ہے مگر عاجزی کرنے والوں پر (نہیں)(45) وہ جو یقین رکھتے ہیں اس بات کا کہ وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے اور یہ کہ وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں(46) اے بنو اسرائیل!یا د کرو تم میری نعمت،وہ جو انعام کی میں نے تم پر اور یہ کہ فضیلت دی میں نے تم کو جہانوں پر(47) اور ڈرو اس دن سے کہ نہیں فائدہ دے گی کوئی جان کسی جان کوکچھ اور نہ قبول کی جائے گی اس سے کوئی سفارش اور نہ لیا جائے گا اس سے کوئی بدلہ اور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے(48)
[45]﴿ وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ﴾ ’’اور مدد حاصل کرو صبر سے اور نماز سے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ تمام امور میں صبر کی تمام اقسام سے مدد لیں۔ صبر کی اقسام یہ ہیں۔ (۱) اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر اپنے نفس کو پابند کرنا۔ (۲) اس کی نافرمانی سے اپنے آپ کو روکنا یہاں تک کہ اسے ترک کر دے۔ (۳)اس کی تقدیر پر صبر کرنا، اور اس پر ناراضی کا اظہار نہ کرنا۔ ہر معاملے میں صبر کے ذریعے سے بڑی مدد ملتی ہے۔ جو کوئی صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے صبر کرنے کی توفیق سے نواز دیتا ہے۔ اسی طرح نماز ہے جو کہ ایمان کی میزان ہے اور فواحش و منکرات سے روکتی ہے۔ ہر معاملہ میں نماز سے مدد لی جاتی ہے۔ ﴿وَاِنَّهَا﴾ یعنی نماز ﴿لَكَبِيۡرَۃٌ﴾ بہت شاق گزرتی ہے ﴿اِلَّا عَلَي الۡخَاشِعِيۡنَ﴾ سوائے ڈرنے والوں کے، اس لیے کہ یہ نماز ان پر بہت آسان اور ہلکی ہے کیونکہ خشوع، خشیت الٰہی اور اللہ تعالیٰ کے ثواب کی امید ان کے لیے شرح صدر کے ساتھ نماز کے قیام کی موجب ہوتی ہے کیونکہ وہ ثواب کی امید کرتے اور عذاب سے ڈرتے ہیں۔ اس کے برعکس جو ثواب کی امید نہیں رکھتا اورعذاب سے نہیں ڈرتا اس کے اندر کوئی ایسا داعیہ موجود نہیں ہوتا جو اسے نماز کی طرف بلائے۔ جب ایسا شخص نماز پڑھتا ہے تو نماز اس کے لیے سب سے بوجھل چیز ہوتی ہے۔ خشوع سے مراد ہے قلب کا اللہ تعالی کے حضور عاجزی کے ساتھ سرفگندہ ہونا۔ اس کا اللہ تعالی کے پاس پرسکون اور مطمئن ہونا اور اس کے سامنے ذلت و فقر کے ساتھ اس کی ملاقات کی امید پر انکسار کا اظہار کرنا۔
[46] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَؔ يَظُنُّوۡنَ﴾ یعنی جو یقین کرتے ہیں ﴿ؔ اَنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کریں گے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا ﴿ وَاَنَّهُمۡ اِلَيۡهِ رٰؔؔجِعُوۡنَ﴾ ’’اور یہ کہ وہ اسی کی طرف لوٹیں گے‘‘ اس یقین نے ان کے لیے عبادات کو آسان کر دیا ہے۔ یہی یقین مصائب میں ان کے لیے تسلی کا موجب ہوتا ہے، تکالیف کو ان سے دور کرتا ہے اور برے کاموں سے انھیں روکتا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے بلند بالا خانوں میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ملاقات پر ایمان نہیں رکھتا اس کے لیے نماز اور دیگر عبادات سب سے زیادہ شاق گزرنے والی چیزیں ہیں۔
[47] پھر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی نصیحت کی خاطر اور ان کو برائیوں سے بچانے، نیکیوں پر آمادہ کرنے کے لیے ان پر اپنی نعمتوں کی مکرر یا دوہانی کرائی ہے۔
[48] اور انھیں قیامت کے دن سے ڈرایا ہے کہ ﴿ لَّا تَجۡزِيۡ نَفۡسٌ ﴾ جس روز کوئی نفس کسی کے کوئی کام نہ آئے گا اگرچہ یہ انبیائے کرام اور صالحین کے نفوس کریمہ ہی کیوں نہ ہوں ﴿ عَنۡ نَّفۡسٍ ﴾ اگرچہ یہ نفس قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ ﴿ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’کچھ بھی‘‘ یعنی وہ کم یا زیادہ کوئی کام بھی نہ آ سکے گا۔ انسان کو صرف اس کا وہی عمل کام دے گا جو اس نے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا ہے ﴿ وَّلَا يُقۡبَلُ مِنۡهَا شَفَاعَةٌ ﴾ اس نفس کے بارے میں کسی کی سفارش قبول نہ کی جائے گی۔ ہاں شفاعت اس شخص کی قبول ہو گی جس کو اللہ شفاعت کرنے کی اجازت دے گا اور جس کی بابت شفاعت کی اجازت دی جائے گی، اس کو بھی وہ پسند کرتا ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے اسی عمل کو پسند کرے گا جو صرف اس کی رضا کے لیے اور سنت رسول کے مطابق کیا گیا ہو گا (گویا ہر شخص شفاعت کرنے کا مجاز ہو گا نہ ہر کسی کے لیے شفاعت ہی کی جا سکے گی) ۔ ﴿ وَلَا يُؤۡخَذُ مِنۡهَا عَدۡلٌ ﴾ یعنی اس سے کوئی فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَلَوۡ اَنَّ لِلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا وَّمِثۡلَهٗ مَعَهٗ لَافۡتَدَوۡا بِهٖ مِنۡ سُوۡٓءِ الۡعَذَابِ ﴾(الزمر : 39؍47) ’’اگر ان لوگوں کے پاس جنھوں نے ظلم کیا وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہو اور وہ برے عذاب سے بچنے کے لیے فدیہ میں دیں۔‘‘ (تو ان سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا)﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے‘‘ یعنی ان سے وہ عذاب ہٹایا نہیں جائے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس بات کی نفی کر دی کہ وہ کسی بھی پہلو سے قیامت کے روز مخلوق سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿لاَ تَجۡزِيۡ نَفۡسٌ عَنۡ نَّفۡسٍ شَيۡئًا﴾ حصول منافع کے بارے میں ہے اور ﴿وَلاَ هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ﴾دفع مضرت کے بارے میں ہے اور یہ نفی مستقبل میں کسی امر نافع کے بارے میں ہے۔ ﴿وَلاَ يُقۡبَلُ مِنۡهَا شَفَاعَۃٌ وَلاَ يُؤۡخَذُ مِنۡهَا عَدۡلٌ﴾یہ اس نفع کی نفی ہے جو معاوضہ دے کر اس شخص سے طلب کیا جاتا ہے جو اس نفع کا مالک ہو۔ یہ معاوضہ کبھی تو فدیہ ہوتا ہے کبھی اس کے علاوہ سفارش وغیرہ کی صورت میں ہوتا ہے۔ پس یہ چیز بندے پر واجب کرتی ہے کہ وہ مخلوق سے تعلق اور امید کو منقطع کر دے کیونکہ اسے علم ہے کہ مخلوق اسے ذرہ بھر نفع پہنچانے پر قادر نہیں۔ اور اللہ تعالی سے اپنے تعلق کو جوڑے جو نفع پہنچانے والا اور تکالیف کو دور کرنے والا ہے، پس صرف اسی کی عبادت کرے جس کا کوئی شریک نہیں اور اس کی عبادت پر اسی سے مدد طلب کرے۔ یہاں سے بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تفصیلاً شمار شروع ہوتا ہے، چنانچہ فرمایا: