اور جب کہا ہم نے، داخل ہو تم اس بستی میں اور کھاؤاس میں سے جہاں سےچاہو تم فراغت سے اور داخل ہو تم دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور کہو بخش دے ہمیں، تو معاف کر دیں گے ہم تمھاری خطائیں اور عنقریب زیادہ دیں گے ہم احسان کرنے والوں کو(58) پس بدل دیا ظالموں نے بات کو خلاف اس کے جو کہی گئی تھی ان سے، تو نازل کیا ہم نے اوپران لوگوں کے جنھوں نےظلم کیا، عذاب آسمان سے، اس وجہ سے کہ تھے وہ نافرمانی کرتے(59)
[58] یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت ہی تھی کہ ان کی نافرمانی کے بعد بھی اس نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک بستی میں داخل ہو جائیں یہ بستی ان کے لیے باعثِ عزت، ان کا وطن اور ان کا مسکن ہو گی اور اس بستی میں ان کو وافر اور بے روک ٹوک رزق ملے گا۔ بستی میں ان کا داخلہ بالفعل خضوع کی حالت میں ہو یعنی وہ بستی کے دروازے میں ﴿سُجَّدًا﴾ ’’سجدے کی حالت میں‘‘ گزریں یعنی وہ اس حالت میں دروازے میں داخل ہوں کہ ان پر خشوع و خضوع طاری ہو اور بالقول وہ ﴿حِطَّۃٌ﴾ ’’بخش دے‘‘ کہتے ہوئے دروازے میں داخل ہوں یعنی ان کے مغفرت کے سوال پر ان کی خطائیں معاف کر دی جائیں۔ ﴿نَّغۡفِرۡ لَـكُمۡ خَطٰيٰؔكُمۡ﴾ تمھارے مغفرت کے سوال کرنے پر وہ تمھاری خطائیں معاف کر دے گا ﴿وَسَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ یعنی بھلائی کا کام کرنے والوں کو ہم دنیا و آخرت میں ان کے اعمال کی جزا زیادہ دیں گے۔
[59]﴿فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ یعنی ان لوگوں نے اس قول کو بدل دیا تھا جنھوں نے ان میں سے ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے (فَبَدَّلُوْا) ’’ان سب نے بدل دیا‘‘ نہیں فرمایا کیونکہ سب لوگ قول کو بدلنے والے نہ تھے ﴿قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ﴾ ’’بات، سوائے اس بات کے جو ان سے کہی گئی تھی‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی توہین اور اس سے استہزا کرتے ہوئے حِطَّۃٌ کی بجائے (حَبَّۃٌ فِیْ حِنْطَۃٍ) کا لفظ کہا۔ جب ’’قول‘‘ کو باوجود اس کے کہ وہ آسان تھا، انھوں نے اسے بدل دیا تو ’’فعل‘‘ کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے، اس لیے وہ (اللہ تعالیٰ کے حکم کے برعکس) اپنے سرینوں پر گھسٹتے ہوئے دروازے میں داخل ہوئے۔ چونکہ یہ سرکشی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے واقع ہونے کا سب سے بڑا سبب تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿فَاَنۡزَلۡنَا عَلَي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا رِجۡزًا﴾ یعنی ان میں سے ظالموں پر عذاب نازل کیا۔ ﴿مِنَ السَّمَآءِ﴾ یعنی ان کی نافرمانی اور ان کے بغاوت کے رویہ کے سبب سے (آسمان سے یہ عذاب نازل ہوا۔)