Tafsir As-Saadi
2:63 - 2:64

اور جب لیا ہم نے پختہ وعدہ تم سے اور بلند کیا ہم نے تم پر طور پہاڑ کو (اور کہا) پکڑو تم اس کو جو دیا ہم نے تمھیں، قوت سے اور یاد رکھو تم جو کچھ اس میں ہے، شاید کہ تم متقی بن جاؤ(63) پھر پھر گئے تم بعد اس کے، پس اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور رحمت اس کی، تو ضرور ہو جاتے تم خسارہ پانے والوں میں سے(64)

[63] اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اسلاف کے افعال کی وجہ سے ان پر زجر و توبیخ کا پھر اعادہ کیا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَكُمۡ ﴾ یعنی وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا۔ (مِیثَاق) سے مراد ایسا پکا عہد ہے جو طور کو ان کے اوپر معلق کر کے ڈر اور دباؤ کے ذریعے سے موکد کیا گیا تھا اور ان سے کہا گیا تھا ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰكُمۡ﴾ یعنی تورات کو پکڑے رہو ﴿ بِقُوَّةٍ ﴾ یعنی تورات کو محنت، کوشش اور اللہ تعالیٰ کے اوامر پر صبر و استقامت کے ساتھ پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ یعنی جو کچھ تمھاری کتاب میں ہے اسے سیکھو اور اس کی تلاوت کرو۔ ﴿لَعَلَّـكُمۡ تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’تاکہ تم اللہ تعالی کے عذاب اور اس کی ناراضی سے بچو ‘‘ یا ’’تاکہ تم اہل تقویٰ میں شمار ہو۔‘‘
[64] پھر اس نہایت بلیغ تاکید کے بعد فرمایا: ﴿ثُمَّ تَوَلَّيۡتُمۡ ﴾ یعنی پھر تم نے اس سے اعراض کیا اور یہ روگردانی تمھارے لیے اللہ تعالیٰ کے سخت ترین عذاب کا باعث بنی ﴿فَلَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ لَكُنۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ﴾ ’’لیکن اگر تم پر اللہ تعالی کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم یقیناً خسارے میں پڑ جاتے۔‘‘