Tafsir As-Saadi
2:75 - 2:78

کیا پس تم (اے مسلمانو!) طمع رکھتے ہو کہ وہ ایمان لے آئیں گے تمھارے لیے، حالانکہ تھا ایک فریق ان میں سے، وہ سنتے تھے کلام اللہ کا ، پھر وہ تحریف کر دیتے تھے اس میں بعد اس کے کہ وہ سمجھ لیتے تھے اس (کلام) کو اور وہ جانتے تھے(75) اور جب وہ ملتے ہیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے تو کہتے ہیں، ایمان لائے ہیں ہم بھی اور جب علیحدہ ہوتا ہے بعض ان کا بعض کی طرف تو کہتے ہیں کیا تم بیان کرتے ہو ان سے، جو کھولا اللہ نے تم پر تاکہ وہ غالب آجائیں تم پر اس کے ساتھ نزدیک تمھارے رب کے؟ کیا نہیں تم سمجھتے؟(76) کیا وہ نہیں جانتے کہ بے شک اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں؟(77) اور کچھ ان میں سے ان پڑھ ہیں نہیں جانتے وہ کتاب کو سوائے آرزوؤں کےاور نہیں ہیں وہ مگر صرف گمان کرتے(78)

[75] یہاں اہل کتاب کے ایمان لانے کے بارے میں اہل ایمان کی امیدوں کو ختم کر دیا ہے کہ تم ان کے ایمان کی امید نہ رکھو۔ ان کے اخلاق ایسے ہیں جو ان کے ایمان کی امید کے متقاضی نہیں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھ کر اور جان بوجھ کر اس کے معانی میں تحریف کرتے ہیں۔ پس وہ اس کے لیے ایسے معانی اور مفاہیم وضع کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہیں تاکہ لوگ اس وہم میں مبتلا ہوں کہ یہ مفاہیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہرگز نہیں۔ پس جب ان کی اس کتاب کے بارے میں یہ حالت ہے جسے وہ اپنے لیے باعث شرف اور اپنا دین قرار دیتے ہیں اور اس کتاب کے ذریعے سے وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ تب ان سے کیونکر یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ تم پر ایمان لائیں گے۔ یہ بعید ترین چیز ہے۔
[76] پھر اہل کتاب کے منافقین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذَا لَقُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا﴾ ’’جب وہ ایمان والوں کو ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لائے۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنی زبان سے ان کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کیا جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ ﴿ وَاِذَا خَلَا بَعۡضُهُؔمۡ اِلٰى بَعۡضٍ﴾ یعنی جب وہ خلوت میں ہوتے ہیں اور ان کے ہم مذہبوں کے سوا ان کے پاس کوئی اور نہیں ہوتا تو وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں: ﴿ اَتُحَدِّثُوۡنَهُمۡ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم ان کو وہ باتیں بیان کرتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں۔‘‘ یعنی کیا تم ان کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہو اور انھیں بتاتے ہو کہ تم ان کی مانند ہو؟ پس یہ چیز ان کے لیے تمھارے خلاف حجت بن جائے گی۔ وہ (یعنی اہل ایمان) کہیں گے کہ انھوں نے اقرار کیا کہ اہل ایمان حق پر ہیں اور جس پر وہ ہیں، وہ باطل ہے۔ پس اہل ایمان اپنے رب کے پاس تمھارے خلاف دلیل دیں گے ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’کیا پس تم سمجھتے نہیں؟‘‘ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ کیا تم عقل سے عاری ہو کہ تم ان کے پاس وہ چیز چھوڑ رہے ہو جو تمھارے خلاف حجت ہو گی۔
[77]﴿ اَوَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّوۡنَ وَ مَا يُعۡلِنُوۡنَ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے اور ظاہر کرتے ہیں۔‘‘ ہر چند کہ وہ اپنے ان عقائد کو چھپاتے ہیں جو ان کے مابین معروف ہیں اور وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے ان عقائد کو چھپایا ہوا ہے تاکہ یہ چیز اہل ایمان کے لیے ان کے خلاف دلیل نہ بنے تاہم وہ اس بارے میں غلطی پر ہیں اور بہت بڑی جہالت میں مبتلا ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے ظاہر و باطن کو خوب جانتا ہے۔ اس کے بندے جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر کر دے گا۔
[78]﴿ وَمِنۡهُمۡ﴾ ’’اور کچھ ان میں سے‘‘ یعنی اہل کتاب میں سے ﴿ اُمِّيُّوۡنَ﴾ ان پڑھ عوام بھی ہیں جو اہل علم میں شمار نہیں ﴿ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِيَّ﴾ سوائے تلاوت کے، اللہ کی کتاب میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ ان کے پاس اس چیز کی خبر بھی نہیں جو پہلوں کے پاس تھی جن کے حالات یہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کے پاس محض ظن اور گمان اور اہل علم کی تقلید کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں اہل کتاب کے علماء، عوام اور منافقین اور وہ جنھوں نے نفاق اختیار نہیں کیا، سب کا ذکر کیا ہے۔ پس ان کے علماء اپنی گمراہی کے موقف پر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں اور عوام بصیرت سے محروم ہیں اور ان علماء کی تقلید کرتے ہیں۔ پس ان دونوں گروہوں کے بارے میں تمھیں کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔