Tafsir As-Saadi
2:83 - 2:83

اور جب لیا ہم نے پختہ وعدہ بنو اسرائیل سے کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ کی، اور ماں باپ سے نیک سلوک کرنا اور قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں سے،اور کہو تم لوگوں سے (بات) اچھی، اور قائم کرو تم نماز اور دو تم زکاۃ، پھر پھر گئے تم مگر تھوڑے تم میں سے،اور تم اعراض کرنے والے ہو(83)

[83] پس یہ احکام ان اصول دین میں سے ہیں، جن پر عمل کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہر شریعت میں دیا، کیونکہ یہ احکام ہر زمان و مکان میں مصالح عامہ پر مشتمل ہیں۔ دین میں ان کی حیثیت بنیاد کی سی ہے جو منسوخ نہیں ہو سکتی۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان اصولوں پر عمل کرنے کا حکم اپنے اس فرمان میں دیا ہے:﴿وَاعۡبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡـًٔـا ﴾(النساء : 4؍36) ’’اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔‘‘ ﴿ وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اس وقت کو یاد کرو، جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا۔‘‘ یہ ان کی سنگدلی ہی تھی کہ جب بھی انھیں کسی بات کا حکم دیا جاتا تو وہ نافرمانی کرتے، اس لیے وہ پختہ قسموں اور مضبوط عہدوں کے بغیر کسی حکم کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ ﴿ لَا تَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰهَ﴾ یہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم ہے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنے کی ممانعت ہے۔ یہ دین کی بنیاد ہے اگر یہ بنیاد نہ ہو تو کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول نہیں۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر حق ہے۔ پھر فرمایا: ﴿ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا﴾ یعنی اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آؤ۔ اس میں ہر قسم کا حسن سلوک شامل ہے۔ اس زمرے میں قولی و فعلی اور ہر وہ رویہ شامل ہے جس پر حسن سلوک کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس میں والدین کے ساتھ برے سلوک یا عدم حسن سلوک کی ممانعت ہے۔ کیونکہ والدین کے ساتھ حسن سلوک فرض ہے اور کسی چیز کی فرضیت کے حکم سے لازم آتا ہے کہ اس کی ضد ممنوع ہو۔ اور دو چیزیں حسن سلوک کے مخالف ہیں۔ (۱)برا سلوک کرنا، یہ سب سے بڑا جرم ہے۔ (۲) بغیر برائی کیے، حسن سلوک نہ کرنا۔ اگرچہ والدین کے ساتھ اس قسم کا رویہ بھی حرام ہے مگر اس رویئے کو اول الذکر رویئے سے ملحق کرنا ضروری نہیں۔ رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ سلوک میں بھی اسی اصول کا اطلاق ہوتا ہے حسن سلوک (احسان) کی تفصیلات دائرہ شمار سے باہر ہیں البتہ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے اس کی کچھ حدود ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تمام لوگوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آیا جائے چنانچہ فرمایا: ﴿ وَقُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسۡنًا﴾ ’’یعنی لوگوں سے اچھی بات کہنا۔‘‘ مندرجہ ذیل چیزیں ’’قول حسن‘‘ (یعنی اچھی بات) کے زمرے میں آتی ہیں۔ (۱)لوگوں کو نیکی کا حکم دینا۔ (۲) ان کو بری باتوں سے روکنا۔ (۳) ان کو علم سکھانا۔ (۴) ان میں سلام پھیلانا۔ (۵) خندہ پیشانی اور بشاشت کا اظہار کرنا۔ (۶) ان کے علاوہ دیگر اچھی باتیں۔ چونکہ ہر انسان اپنے مال کے ذریعے سے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی استطاعت نہیں رکھتا اس لیے اسے ایک ایسی چیز کا حکم دیا گیا ہے جس کے ذریعے سے وہ تمام مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی قدرت رکھتا ہے اور وہ ہے ’’قول حسن‘‘ اسی کے ضمن میں لوگوں کے ساتھ بری گفتگو کرنے کی ممانعت آ جاتی ہے، حتی کہ کفار کے ساتھ بھی کلام قبیح کرنا ممنوع ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَلَا تُجَادِلُوۡۤا اَهۡلَ الۡكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ ﴾(العنکبوت: 29؍46) ’’اہل کتاب کے ساتھ بحث نہ کرو مگر ایسے طریقے سے جو سب سے اچھا ہو۔‘‘ انسانی آداب میں سے، جن کی تعلیم اللہ نے اپنے بندوں کو دی ہے، یہ بھی ہے کہ انسان اپنے اقوال اور افعال میں پاکیزہ رہے، فحش گوئی اور بے ہودہ باتوں سے اجتناب کرے، گالی گلوچ اور سب و شتم کرنے اور لڑائی جھگڑے سے باز رہے۔ بلکہ اس کے برعکس حسن خلق، بے پایاں حلم، ہر ایک کے ساتھ اچھے سلوک اور مخلوق کی ایذا رسانی پرصبر کا مظاہرہ کرے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت اور ثواب کی امید میں کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور جیسا کہ گزشتہ صفحات میں بیان کیا جاچکا ہے کہ نماز معبود کے لیے اخلاص کو اور زکاۃ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو متضمن ہے۔ ﴿ ثُمَّ﴾ ’’پھر‘‘ اللہ تعالیٰ کا تمھیں ان اچھے کاموں کا حکم دینے کے بعد، جن کو ایک دانش مند دیکھتا ہے تو جان لیتا ہے کہ یہ اللہ کا بندوں پر ایک احسان ہے کہ اس نے ان باتوں کا انھیں حکم دیا اور اس طرح انھیں اپنے فضل و کرم سے نوازا، اور ان سے عہدومیثاق لیا۔ ﴿ تَوَلَّيۡتُمۡ﴾ یعنی تم نے ان احکام سے روگردانی کرتے ہوئے پیٹھ پھیر لی، اس لیے کہ پیٹھ پھیر کر جانے والا کبھی کبھی واپس لوٹنے کی نیت سے بھی پیٹھ پھیر کر جاتا ہے، مگر یہ لوگ تو احکام الٰہی میں سرے سے کوئی رغبت ہی نہیں رکھتے اور نہ ان کی طرف لوٹنے کا کوئی ارادہ ہی رکھتے ہیں۔ فَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْخَذْلَانِ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّؔنۡكُمۡ﴾ ’’مگر تھوڑے لوگ تم میں سے‘‘ ایک استثناء ہے تاکہ اس وہم کا ازالہ ہو جائے کہ تمام لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کی تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ چند لوگ ایسے بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا اور ان کو استقامت اور ثابت قدمی عطا کی۔