Tafsir As-Saadi
2:84 - 2:86

اور جب لیا ہم نے پختہ وعدہ تم سے کہ نہ بہاؤ تم خون اپنے (آپس میں) اور نہ نکالو تم اپنے آپ کو اپنے گھروں سے، پھر اقرار کیا تم نے اور تم شاہد ہو(84) پھر تم ہی وہ ہو کہ (اس کے بعد بھی) قتل کرتے ہو اپنے آپ (اپنوں) کو اور نکال دیتے ہو ایک فریق کو اپنے میں سے ان کے گھروں سے، مدد کرتے ہو تم ایک دوسرے کے خلاف ساتھ گناہ اور ظلم کے، اور اگر آئیں وہ تمھارے پاس قیدی ہو کر تو تم فدیہ دے کر چھڑاتے ہو انھیں، حالانکہ حرام کیا گیا تھا تم پر نکال دینا ان کا، کیا پس تم ایمان لاتے ہو ساتھ ایک حصۂ کتاب کے اور کفر کرتے ہو ساتھ دوسرے حصے کے؟ پس نہیں ہے سزا اس شخص کی جو کرے یہ کام تم میں سے، مگر رسوائی زندگانیٔ دنیا میں اور دن قیامت کے پھیرے جائیں گے وہ طرف سخت ترین عذاب کی اور نہیں ہے اللہ غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو(85) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے خرید لی زندگی دنیا کی بدلے آخرت کے، پس نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے(86)

[85-84] آیت کریمہ میں مذکور فعل ان لوگوں کا تھا جو نزول وحی کے زمانے میں مدینہ میں موجود تھے اور یہ اس طرح کہ اوس اور خزرج، جو انصار کے نام سے مشہور ہیں، رسول اللہﷺکی بعثت سے قبل مشرک تھے اور جاہلیت کی عادت کے مطابق باہم دست و گریباں رہتے تھے، اسی میں یہود کے تین قبیلوں، بنو قریظہ، بنو نضیر اور بنو قینقاع نے مدینہ میں آکر وہاں رہنا شروع کر دیا۔ ان میں سے ہر قبیلے نے مدینہ کے کسی قبیلے کے ساتھ (دفاعی) معاہدہ کر لیا۔ جب کبھی اوس اور خزرج کی آپس میں لڑائی ہوتی تو یہودی قبیلہ اس کے مخالفین کے خلاف مدد کرتا جن کی مدد دوسرا یہودی قبیلہ کر رہا ہوتا۔ یوں یہودی ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے۔ بسااوقات یہ بھی ہوتا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو جلاوطن کر دیتے اور ایک دوسرے کا مال لوٹ لیتے پھر جب جنگ ختم ہو جاتی تو جنگ کے فریقین نے ایک دوسرے کے جو افراد جنگی قیدی بنائے ہوتے، وہ ان کو فدیہ دے کر آزاد کرواتے۔ یہ تینوں امور، جن کی یہ خلاف ورزی کر رہے تھے، ان پر فرض کیے گئے تھے۔ (۱) ایک دوسرے کا خون نہ بہائیں۔ (۲) ایک دوسرے کو گھروں سے نہ نکالیں۔ (۳) جب وہ اپنے میں سے کسی کو قیدی پائیں تو اس کا فدیہ دے کر اسے چھڑانا ان کے لیے ضروری ہے۔ پس ان لوگوں نے آخری بات پر تو عمل کیا اور پہلی دو باتوں کو نظر انداز کر دیا۔ چنانچہ ان کے اس رویئے پر اللہ تعالیٰ نے نکیر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتُؤۡمِنُوۡنَؔ۠ بِبَعۡضِ الۡكِتٰبِ﴾ ’’کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو‘‘ اس سے مراد ہے قیدیوں کی رہائی کے لیے فدیہ دینا ﴿ وَ تَكۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ﴾ ’’اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو‘‘ اس سے مراد ہے ایک دوسرے کو قتل کرنا اور ایک دوسرے کو گھروں سے نکالنا۔ آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل کیا جائے اور اس کی نواہی سے اجتناب کیا جائے، نیز یہ کہ تمام مامورات ایمان میں شمار ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَا جَزَآءُ مَنۡ يَّفۡعَلُ ذٰلِكَ مِنۡكُمۡ اِلَّا خِزۡيٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’تم میں سے جو بھی ایسا کرے گا، اس کو اس کی سزا دنیا میں رسوائی کے سوا کوئی اور نہیں ملے گی۔‘‘ اور اس رسوائی کا انھیں سامنا کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں رسوا کیا اور ان پر اپنے رسول کو غلبہ عطا کیا۔ ان میں سے کسی کو قتل کر دیا گیا اور کسی کو غلام بنا لیا گیا اور کسی کو جلاوطن کر دیا گیا ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يُرَدُّوۡنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الۡعَذَابِ﴾ ’’اورقیامت کے روز سخت عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے‘‘ یعنی قیامت کے روز کا عذاب دنیا کے عذاب سے بھی بڑھ کر ہو گا ﴿ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال سے بے خبر نہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ کیا سبب تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ وہ کتاب اللہ کے کچھ حصے پر ایمان لائیں اور کچھ حصے کا انکار کر دیں۔
[86] چنانچہ فرمایا: ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ اشۡتَرَوُا الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے خرید لیا‘‘ یعنی انھیں وہم لاحق تھا کہ اگر انھوں نے اپنے حلیفوں کی مدد نہ کی تو یہ عار کی بات ہے پس انھوں نے عار کے بدلے میں آگ کو چن لیا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’پس ان سے عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا‘‘ یعنی عذاب کی شدت ہمیشہ رہے گی اور کسی وقت بھی انھیں راحت نصیب نہ ہو گی ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’اور نہ ان کی مدد کی جائے گی‘‘ یعنی ان سے عذاب کو نہیں ہٹایا جائے گا۔