Tafsir As-Saadi
2:108 - 2:110

کیا چاہتے ہو تم (اے مسلمانو!) کہ سوال کرو تم اپنے رسول سے، جیسے سوال کیے گئے موسیٰ پہلے اس سے؟ اور جو کوئی تبادلہ کرتا ہے کفر کا ایمان کے عوض، تو تحقیق بھٹک گیا وہ سیدھی راہ سے(108) چاہتے ہیں بہت سے اہل کتاب میں سے، کاش کہ وہ پھیر دیں (بنا دیں) تمھیں بعد تمھارے ایمان کے، کافر حسد کرتے ہوئے اپنے دلوں سے، بعد اس کے کہ واضح ہو گیا ان کے لیے حق، پس معاف کرو اور درگزر کرو، یہاں تک کہ لے آئے اللہ حکم اپنا، بلاشبہ اللہ ہر چیزپر خوب قادر ہے(109) اور تم قائم کرو نماز اور دو زکاۃاور جو کچھ آگے بھیجو گے تم اپنے نفسوں کے لیے کوئی بھلائی تو پاؤ گے تم اس کو اللہ کے ہاں، بے شک اللہ جو تم عمل کرتے ہو، دیکھنے والا ہے(110)

[108] اللہ تعالیٰ اہل ایمان یا یہود کو منع کرتا ہے کہ وہ اپنے رسول سے اس طرح سوال کریں ﴿ كَمَا سُىِٕلَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ﴾ ’’جس طرح اس سے پہلے حضرت موسیٰuسے سوال کیا گیا۔‘‘ اس سے مراد وہ سوالات ہیں جو بال کی کھال اتارنے اور اعتراض کی خاطر کیے جاتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَسۡـَٔؔلُكَ اَهۡلُ الۡكِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَيۡهِمۡ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدۡ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤى اَكۡبَرَ مِنۡ ذٰلِكَ فَقَالُوۡۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً﴾(النساء : 4؍153) ’’اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے کوئی لکھی ہوئی کتاب اتار لا۔ یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بات کا مطالبہ کر چکے ہیں، کہتے تھے کہ ہمیں اللہ ان ظاہری آنکھوں سے دکھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡ اَشۡيَآءَؔ اِنۡ تُبۡدَ لَكُمۡ تَسُؤۡكُمۡ﴾(المائدہ : 5؍101) ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کیا کرو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں بری لگیں گی۔‘‘ لہٰذا اس قسم کے (مذموم) سوالات سے منع کیا گیا ہے۔ رہا رشد و ہدایت اور تحصیل علم کے لیے سوال کرنا تو یہ محمود ہے، اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے سوالات کرنے کا حکم دیا ہے چنانچہ فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ اِنۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾(النحل : 16؍43) ’’اگر تم نہیں جانتے تو ان لوگوں سے پوچھ لو جو اہل کتاب ہیں۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے سوالات کو برقرار رکھا ہے۔ فرمایا: ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَالۡمَيۡسِرِ﴾(البقرہ : 2؍219) ’’وہ تجھ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡيَتٰمٰى ﴾(البقرہ : 2؍220) ’’وہ تجھ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں‘‘ اور اس قسم کی دیگر آیات۔ چونکہ ممنوعہ سوالات مذموم ہوتے ہیں اس لیے بعض دفعہ سوال پوچھنے والے کو کفر کی حدود میں داخل کر دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَ مَنۡ يَّتَبَدَّلِ الۡكُفۡرَ بِالۡاِيۡمَانِ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيۡلِ﴾ ’’جس نے ایمان کے بدلے کفر لے لیا پس اس نے سیدھا راستہ گم کر دیا۔‘‘
[109] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب میں سے بہت سے لوگوں کے حسد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ ان کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ وہ چاہتے ہیں ﴿ لَوۡ يَرُدُّوۡنَكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِكُمۡ كُفَّارًا﴾ ’’کہ کاش تمھیں تمھارے ایمان کے بعد کفر کی طرف لوٹا دیں۔‘‘ اس کے لیے انھوں نے پوری کوشش اور فریب کاری کے جال بچھائے، مگر ان کے مکر و فریب پلٹ کر انھی پر پڑ گئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَقَالَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡهَ النَّهَارِ وَاكۡفُرُوۡۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾(آل عمران 3؍72) ’’اہل کتاب کا ایک گروہ کہتا ہے وہ کتاب جو اہل ایمان پر نازل کی گئی ہے اس پر دن کے پہلے حصے میں ایمان لاؤ اور اس کے آخر میں انکار کر دو، تاکہ وہ اسلام سے باز آ جائیں۔‘‘ یہ ان کا حسد تھا جو ان کے اندر سے پھوٹ رہا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہود کی برائی اور بدخلقی کے مقابلے میں عفو اور درگزر سے کام لینے کا حکم دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ جہاد کا حکم دے دیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو شفا بخشی۔ چنانچہ اہل ایمان نے ان یہودیوں میں سے جو قتل کےمستحق تھے ان کو قتل کیا، جو قیدی بنائے جا سکے ان کو قیدی بنا لیا اور کچھ کو ملک بدر کر دیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
[110] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو فی الحال اقامت نماز، ادائے زکاۃ اور تقرب الٰہی کے کاموں میں مشغول رہنے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ نیکی کا جو بھی کام کریں گے اللہ تعالیٰ کے ہاں کبھی ضائع نہیں ہو گا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اسے بہت زیادہ پائیں گے اللہ تعالیٰ نے اس کو محفوظ کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھتا ہے۔‘‘