Tafsir As-Saadi
2:127 - 2:129

اور جب بلند کر رہے تھے ابراہیم بنیادیں بیت اللہ کی اور اسماعیل (کہتے ہوئے) اے ہمارے رب! اور تو قبول کر لے ہم سے (یہ نیکی) یقیناً توہی سننے والا جاننے والا ہے(127) اے ہمارے رب! بنا ہم دونوں کو فرماں بردار اپنا اور (بنا) ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت فرماں بردار اپنی، اور سکھا ہمیں ہماری عبادت کے طریقے اور توجہ فرما ہم پر، یقیناً توہی ہے توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا(128) اے ہمارے رب! اور بھیج ان میں ایک رسول انھی میں سے، تلاوت کرے وہ اوپر ان کے تیری آیتیں اور تعلیم دے ان کو کتاب اور حکمت کی اور پاک کرے ان کو، بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(129)

[127] یعنی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیلiکی اس حالت کو یاد کرو جب وہ بیت اللہ کی بنیادیں بلند کر رہے تھے اور اس عظیم کام پر تسلسل اور پابندی سے لگے ہوئے تھے اور یہ کہ اس وقت ان پر خوف اور امید کی کیسی کیفیت طاری تھی، حتی کہ اس عظیم عمل کے باوجود انھوں نے دعا کی کہ ان کا عمل قبول کیا جائے، تاکہ اس کا فائدہ عام ہو۔
[128] اور انھوں نے اپنی ذات اور اپنی اولاد کے لیے اسلام کی دعا کی۔ جس کی حقیقت قلب کا خشوع و خضوع ہے اور دل کا اپنے رب کا مطیع ہو جانا، اعضاء و جوارح کے فرماں بردار ہونے کو متضمن ہے۔ ﴿وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا﴾ یعنی ارادہ اور مشاہدہ کے ذریعے ہمیں ہمارا طریق عبادت سکھا۔ تاکہ یہ زیادہ مؤثر ہو۔ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ مناسک سے مراد تمام اعمال حج ہوں۔ جیسا کہ اس معنیٰ پر آیت کریمہ کا سیاق و سباق دلالت کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی چیز مراد ہو اور وہ سارا دین اور تمام عبادات ہیں۔۔۔ جیسا کہ عموم لفظ اس پر دلالت کرتا ہے کیونکہ (اَلنُّسُکُ) کا معنی عبادت کرنا ہے، پھر عرف کے لحاظ سے حج کی عبادات کے لیے اس لفظ کا استعمال غالب آ گیا۔ پس ان کی دعا کا حاصل علم نافع اور عمل صالح کی توفیق مانگنا ہے۔ بندہ، جیسا بھی ہو، اس سے تقصیر ہو ہی جاتی ہے اس لیے وہ توبہ کا محتاج ہوتا ہے، چنانچہ دونوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿وَتُبۡ عَلَيۡنَا١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ﴾ ’’اے اللہ ہم پر رجوع فرما، تو بہت رجوع کرنے والا بہت مہربان ہے۔‘‘
[129]﴿رَبَّنَا وَابۡعَثۡ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡهُمۡ﴾ یعنی ہماری اولاد میں رسول مبعوث فرما تاکہ وہ ان دونوں کے درجات کی بلندی کا سبب بنے۔ لوگ اس کی اطاعت کریں اور اسے اچھی طرح پہچان لیں۔ فرمایا: ﴿يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِكَ﴾ یعنی وہ لفظاً حفظاً اور حفظ کرانے کے لیے تیری آیات کی تلاوت کرے ﴿وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ﴾ یعنی معنیٰ کے اعتبار سے انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے ﴿وَيُزَكِّيۡهِمۡ﴾ یعنی اعمال صالحہ کے ذریعے سے ان کی تربیت کرے اور اعمال قبیحہ سے ان کو بچائے، کیونکہ قبیح اور ردی اعمال کے ہوتے ہوئے نفس پاک نہیں ہو سکتا ﴿اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ یعنی تو ہر چیز پر غالب ہے۔ عزیز اس ہستی کو کہتے ہیں جس کی قوت کے سامنے کوئی چیز نہ ٹھہر سکے ﴿ الۡحَكِيۡمُ﴾ حکیم اس ہستی کو کہتے ہیں جو ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھے۔ پس تو اپنے غلبہ و حکمت کے تحت ان کے اندر اس رسول(ﷺ)کو مبعوث فرما۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں برگزیدہ نبیوں کی دعا قبول فرما لی اور تمام مخلوق پر عام طور پر اور اولاد ابراہیم و اسماعیل پر خاص طور پر رحم کرتے ہوئے اس رسول کریم(ﷺ)کو مبعوث فرمایا۔ اسی لیے رسول اللہﷺفرمایا کرتے تھے: ’أَنَا دَعْوَۃُ أَبِی اِبْرَاھِیْمَ‘ (البدايۃ والنہايۃ، 2؍275 والصحیحۃ، رقم:1546،1545) ’’میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں۔‘‘

جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمuکو اس قدر عظمت و بلندی سے نوازا اور ان کی صفات کاملہ بیان فرمائیں تو فرمایا: