اور کون ہے جو بے رغبتی کرتا ہے ملت ابراہیم سے! مگر وہی جس نے نادانی کی اپنے نفس (کے معاملے) میں اور بلاشبہ چن لیا ہم نے اس کو دنیا میں اور بے شک وہ آخرت میں نیکوں میں سے ہے(130) جب کہا اس سے اس کے رب نے ،فرماں بردار ہو جا! تو کہا اس نے ،فرماں بردار ہو گیا میں واسطے رب العالمین کے(131) اور وصیت کی اس (کلمۂ اسلام) کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے، اے میرے بیٹو! یقیناً اللہ نے چن لیا ہے واسطے تمھارے یہ دین، پس نہ ہرگز مرنا تم، مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو(132) کیا تھے تم موجود جب آئی یعقوب کو موت؟ جب کہا اس نے اپنے بیٹوں سے، کس چیز کی عبادت کرو گے تم میرے بعد؟ انھوں نے کہا، عبادت کریں گے ہم تیرے معبود کی اور تیرے باپ دادا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود، یکتا کی اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں(133) یہ ایک جماعت ہے جو گزر گئی، اسی کے لیے ہے جو کمایا اس نے اور تمھارے لیے ہے جو کمایا تم نے، اور نہیں سوال کیے جاؤ گے تم اس سے جو تھے وہ عمل کرتے(134)
[130] یعنی وہ کون ہے جو حضرت ابراہیمuکی فضیلت کو پہچان لینے کے بعد ان کی ملت سے روگردانی کرے۔ ﴿اِلَّا مَنۡ سَفِهَ نَفۡسَهٗ﴾ یعنی ایسا شخص وہی ہو سکتا ہے جس نے اپنے نفس کو جاہل رکھ کر حقیر بنا دیا ہو۔ اپنے نفس کے لیے کمتر چیز پر راضی ہو اور گھاٹے کے سودے میں اسے فروخت کر دیا ہو۔ اسی طرح اس شخص سے بڑھ کر کامل اور راست رو کوئی نہیں جو ملت ابراہیم میں رغبت رکھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں حضرت ابراہیمuکی حالت کے بارے میں آگاہ فرمایا: ﴿وَلَقَدِ اصۡطَفَيۡنٰهُ فِي الدُّنۡيَا﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو چن لیا انھیں ایسے اعمال کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ چیدہ چیدہ نیک لوگوں میں شمار ہوئے ۔ ﴿وَاِنَّهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے‘‘ یعنی وہ نیک لوگ جو بلند ترین درجات پر فائز ہوں گے۔
[131]﴿اِذۡ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسۡلِمۡ١ۙ قَالَ﴾ ’’اور جب انھیں ان کے رب نے کہا مطیع ہو جاؤ‘‘ تو (اللہ تعالیٰ کے فرمان کے جواب میں) حضرت ابراہیمuنے نہایت فرماں برداری سے عرض کی ﴿ اَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ یعنی میں اخلاص، توحید، محبت اور انابت کے طور پر جہانوں کے پروردگار کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ کی توحید ان کی خاص صفت قرار پائی۔ پھر اس توحید کو حضرت ابراہیمuنے وراثت کے طور پر اپنی اولاد میں منتقل کیا۔ اس کی ان کو وصیت فرمائی اور اسے ایک ایسا کلمہ بنا دیا جو ان کے بعد بھی باقی رہا اور نسل در نسل وراثت میں منتقل ہوتا رہا حتیٰ کہ حضرت یعقوبuتک پہنچا اور انھوں نے اپنے بیٹوں کو اسی کلمہ توحید کی وصیت کی۔
پس اے اولاد یعقوب! تمھیں تمھارے باپ نے خاص طور پر وصیت کی ہے اس لیے نہایت کامل طریقے سے اس کی اطاعت کرنا اور خاتم الانبیاءﷺکی اتباع کرنا تم پر واجب ہے۔
[132] فرمایا: ﴿يٰبَنِيَّ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰى لَكُمُ الدِّيۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور احسان کرتے ہوئے تمھارے لیے دین کو چن لیا ہے، لہٰذا اس دین کو قائم کرو اس کی شرائع سے متصف اور اس کے اخلاق میں رنگ جاؤ، پھر ان کو دائمی طور پر اختیار کر لو۔ جب تمھیں موت آئے تو یہ اوصاف و اخلاق تمھارا اوڑھنا بچھونا ہوں۔ کیونکہ انسان جن اوصاف کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے انھی اوصاف کے ساتھ موت سے ہم آغوش ہوتا ہے اور جن اوصاف پر وہ مرتا ہے انھی اوصاف کے ساتھ اسے قیامت کے روز اٹھایا جائے گا۔
[133] چونکہ یہودیوں کو زعم تھا کہ وہ ملت ابراہیم اور ان کے بعد ملت یعقوب پر ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا انکار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَمۡ كُنۡتُمۡ شُهَدَآءَؔ﴾ یعنی ’’کیا تم سب اس وقت موجود تھے‘‘ ﴿اِذۡ حَضَرَ يَعۡقُوۡبَ الۡمَوۡتُ﴾ ’’جب یعقوبuکو موت آئی‘‘ یعنی جب موت کے مقدمات اور اسباب ظاہر ہوئے تو انھوں نے آزمائش اور امتحان کے طور پر اپنے بیٹوں سے پوچھا تاکہ ان کی وصیت پر ان کے بیٹوں کے عمل کرنے کی وجہ سے ان (حضرت یعقوب) کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ﴿مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟‘‘ پس یعقوبuکے بیٹوں نے انھیں ایسا جواب دیا جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، چنانچہ انھوں نے جواب دیا:﴿نَعۡبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبـَآىِٕكَ اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰؔقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا﴾ پس ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں گے نہ کسی کو اس کے برابر قرار دیں گے ﴿وَّنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَؔ﴾ ’’اور ہم اس کے مطیع اور فرماں بردار ہیں۔‘‘ پس انھوں نے توحید اور عمل کو جمع کر دیا۔ یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ یہودی حضرت یعقوبuکی وفات کے وقت موجود نہ تھے کیونکہ وہ تو ان کی وفات کے بعد وجود میں آئے۔ جب وہ اس وقت موجود نہ تھے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ حضرت یعقوبuنے اپنے بیٹوں کو یہودیت کی نہیں بلکہ حنیفیت کی وصیت فرمائی تھی۔
[134] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿تِلۡكَ اُمَّؔةٌ قَدۡ خَلَتۡ﴾ یعنی وہ امت گزر گئی ﴿لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ﴾ ’’اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمھارے لیے وہ جو تم کماؤ گے‘‘ یعنی ہرشخص کا اپنا عمل ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کے فعل کی جزا دے گا۔ وہ کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کے گناہوں کی وجہ سے مواخذہ نہیں کرے گا اور کسی شخص کو صرف اس کا اپنا ایمان اور تقویٰ ہی کام دے گا۔ پس تمھارا اس زعم میں مبتلا ہونا اور تمھارا یہ دعویٰ کہ تم ان انبیاء علیہ السلام کی ملت پر ہو مجرد دعویٰ اور ایک ایسا معاملہ ہے جو حقیقت سے خالی ہے، بلکہ تم پر فرض ہے کہ تم اپنی موجودہ حالت پر غور کرو۔ کیا یہ نجات دلانے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں؟