Tafsir As-Saadi
2:146 - 2:147

وہ لوگ کہ دی ہم نے ان کو کتاب، وہ پہچانتے ہیں اس (رسول) کو جیسے وہ پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کواور بے شک ایک فریق ان میں سے ، البتہ وہ چھپاتا ہے حق کو، حالانکہ وہ جانتا ہے(146)(یہ) حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، پس ہرگز نہ ہوں آپ شک کرنے والوں میں سے(147)

[146] اللہ تعالیٰ آگاہ کرتا ہے کہ اہل کتاب کو معلوم ہے اور ان کے ہاں یہ بات متحقق ہے کہ محمدﷺاللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ جو کتاب آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ حق اور سچ ہے اور انھیں اس بات کا پورا پورا یقین ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح انھیں اپنے بیٹوں کے بارے میں یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ ان کے بیٹے ہیں اور اس کی بابت انھیں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔ پس محمد مصطفیﷺکی پہچان ان کے ہاں اس حد تک پہنچی ہوئی تھی کہ اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہ تھی، مگر اس کے باوجود ان میں سے ایک فریق جو تعداد میں زیادہ تھا۔ اس نے آپ کا انکار کیا اور آپ کے بارے میں یقینی شہادت کو چھپا لیا۔ درآں حالیکہ وہ جانتے تھے۔ فرمایا :﴿وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ كَتَمَ شَهَادَةً عِنۡدَهٗ مِنَ اللّٰهِ﴾(البقرہ:140) ’’اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اس گواہی کو چھپائے جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس ہے‘‘ اس آیت کریمہ میں رسول اللہﷺاور اہل ایمان کے لیے تسلی اور ان کو اہل کتاب کے شر اور شبہات سے بچنے کی تلقین ہے۔ البتہ ان میں سے کچھ ایسے لوگ تھے جنھوں نے جانتے بوجھتے حق کو نہیں چھپایا۔ پس ان میں سے بعض آپ پر ایمان لے آئے اور بعض نے محض جہالت کی بنا پر آپ کا انکار کر دیا۔ پس صاحب علم اپنے علم کے مطابق جس قدر دلیل دینے اور تعبیر کرنے پر قادر ہے اس پر اسی قدر حق کا اظہار کرنا، اس کو بیان کرنا اور اس کو مزین کرنا فرض ہے اور اسی قدر باطل کا ابطال کرنا ، حق سے اس کو علیحدہ کرنا اورہر ممکن طریقے سے نفوس کے سامنے اس کی برائی نمایاں کرنا اس پر لازم ہے۔ لیکن اس حق کو چھپانے والوں نے اس کے برعکس رویہ اختیار کیا، لہٰذا ان کے احوال بھی اس کے برعکس ہو گئے۔
[147]﴿اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ﴾ ’’یہ حق آپ کے رب کی طرف سے ہے۔‘‘ یعنی یہ حق، جو ہر چیز سے زیادہ حق کہلانے کا مستحق ہے کیونکہ یہ مطالب عالیہ، اچھے احکام اور تزکیہ نفوس پر مشتمل ہے، نیز نفوس کے لیے ان کے مصالح کے حصول اور ان سے مفاسد کو دور کرنے کا باعث ہے، اس لیے کہ یہ آپ کے رب کی طرف سے صادر ہوا ہے اور یہ من جملہ آپ کے رب کی طرف سے آپ کی تربیت ہے کہ اس نے آپ پر یہ قرآن نازل فرمایا جس میں نفوس و عقول کی تربیت اور تمام مصالح ہیں ﴿فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ﴾ ’’پس آپ ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔‘‘ یعنی اس حق کے بارے میں آپ کو معمولی سے شک و شبہ میں بھی مبتلا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس حق میں غور و فکر کیجیے یہاں تک کہ آپ یقین کی منزل پر پہنچ جائیں۔ کیونکہ حق میں غور و فکر لامحالہ شک کو دور کر کے یقین کی منزل پر پہنچاتا ہے۔