Tafsir As-Saadi
2:151 - 2:152

جس طرح بھیجا ہم نے تم میں ایک رسول تم ہی میں سے، وہ تلاوت کرتا ہے تم پر ہماری آیتیں اور پاک کرتا ہے تمھیں اور تعلیم دیتا ہے تمھیں کتاب اور حکمت کی اور سکھاتا ہے تمھیں وہ (باتیں) جو نہیں تھے تم جانتے(151) پس یاد کرو تم مجھے، میں یاد کروں گا تمھیں اور تم شکر کرو میرے لیے اور نہ ناشکری کرو میری(152)

[151] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، کعبہ شریف کی طرف تحویل قبلہ کے ذریعے سے ہم نے تمھیں جو نعمت عطا کی اور اس کے اتمام کے لیے شرعی احکام اور دیگر نعمتیں عطا کیں، یہ ہماری طرف سے کوئی انوکھا اور پہلا احسان نہیں بلکہ ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتیں عطا کیں اور پھر دیگر نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تکمیل کی۔ ان میں سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ ہم نے تمھاری طرف اس رسول کریم کو مبعوث کیا جو تم ہی میں سے ہے، جس کے حسب و نسب، اس کی صداقت و امانت اور اس کی خیرخواہی کو تم خوب جانتے ہو۔ ﴿ يَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’وہ تم پر ہماری آیتیں پڑھتا ہے‘‘ اس کے عموم میں آیات قرآنی اور دیگر تمام آیات داخل ہیں۔ (ہمارا) رسول تم پر آیات کی تلاوت کرتا ہے جو باطل میں سے حق کو اور گمراہی میں سے ہدایت کو واضح کرتی ہیں۔ یہ آیات الٰہی سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے کمال کی طرف راہنمائی کرتی ہیں ،پھر اس کے رسولﷺکی صداقت، اس پر ایمان کے وجوب اور ان تمام غیبی اور مابعد الموت امور پر ایمان لانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں جن کے بارے میں اس نے خبر دی ہے، تاکہ تمھیں ہدایت کامل اور علم یقینی حاصل ہو جائے۔ ﴿وَيُزَؔكِّيۡكُمۡ﴾ ’’اور تمھارا تزکیہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی تربیت کے ذریعے سے اخلاق جمیلہ کو اجاگر اور اخلاق رذیلہ کو زائل کر کے تمھارے نفوس اور تمھارے اخلاق کو پاک کرتا ہے، مثلاً شرک سے توحید کی طرف، ریا سے اخلاص کی طرف، جھوٹ سے صدق کی طرف، خیانت سے امانت کی طرف، تکبر سے تواضع کی طرف، بدخلقی سے حسن اخلاق کی طرف، باہم بغض، قطع تعلقی اور قطع رحمی سے ایک دوسرے سے محبت، مودت اور صلہ رحمی کی طرف تمھارا تزکیہ کرتا ہے، اس کے علاوہ تزکیہ کی دیگر انواع کے ذریعے سے تمھیں پاک کرتا ہے۔ ﴿وَيُعَلِّمُكُمُ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور تمھیں کتاب (قرآن) سکھاتا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کے الفاظ ومعانی کی تعلیم دیتا ہے ﴿وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور حکمت‘‘ ایک قول کے مطابق حکمت سے مراد سنت ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ حکمت سے مراد اسرار شریعت کی معرفت اور اس کی سمجھ ہے، نیز تمام امور کو ان کے مقام پر رکھنا ہے۔ اس لحاظ سے سنت کی تعلیم کتاب اللہ کی تعلیم میں داخل ہے، کیونکہ سنت قرآن کی تفسیر و توضیح اور اس کی تعبیر کرتی ہے۔ ﴿وَيُعَلِّمُكُمۡ مَّا لَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور تمھیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے‘‘ کیونکہ بعثت محمدی سے قبل اہل عرب کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔ ان کے پاس علم تھا نہ عمل۔ پس ہر علم اور عمل جو اس امت کو حاصل ہوا ہے وہ رسول اللہﷺکے توسط اور آپ ہی کے سبب سے حاصل ہوا ہے۔ یہ نعمتیں علی الاطلاق حقیقی نعمتیں ہیں۔ یہ نعمتیں سب سے بڑی نعمتیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے۔ لہٰذا ان کا وظیفہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کے تقاضوں کی ادائیگی ہونا چاہیے۔
[152] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاذۡكُرُوۡنِيۡۤ۠ اَذۡكُرۡؔكُمۡ﴾ ’’پس تم مجھے یاد کرو، میں تمھیں یاد کروں گا‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کا حکم دیا ہے اور اس پر بہترین اجر کا وعدہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کا ذکر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکی زبان مبارک سے فرمایا ’’جو مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں، جو کسی مجلس میں مجھے یاد کرتا ہے میں اسے اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں۔‘‘ (صحیح البخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ:﴿وَيُحَذِّرُؔكُمُ اللّٰهُ نَفۡسَهٗ.....﴾، حديث:7405)سب سے بہتر ذکر وہ ہے جس میں دل اور زبان کی موافقت ہو اور اسی ذکر سے اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور بہت زیادہ ثواب حاصل ہوتا ہے۔ اور ذکر الٰہی ہی شکر کی بنیاد ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا حکم دیا ہے۔ پھر اس کے بعد شکر کا عمومی حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿وَاشۡكُرُوۡا لِيۡ﴾ ’’اور میرا شکر کرو۔‘‘ یعنی میں نے جو یہ نعمتیں تمھیں عطا کیں اور مختلف قسم کی تکالیف اور مصائب کو تم سے دور کیا اس پر میرا شکر کرو۔ شکر، دل سے ہوتا ہے، اس کی نعمتوں کا اقرار و اعتراف کر کے۔ زبان سے ہوتا ہے، اس کا ذکر اور حمدوثنا کر کے۔ اعضاء سے ہوتا ہے اس کے حکموں کی اطاعت و فرماں برداری اور اس کی منہیات سے اجتناب کر کے۔ پس شکر، موجود نعمت کے باقی رہنے اور مفقود نعمت (مزید نئی نعمتوں) کے حصول کے جذبے کا مظہر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لَىِٕنۡ شَكَرۡتُمۡ لَاَزِيۡدَنَّـكُمۡ ﴾(ابراہیم : 14؍7) ’’اگر تم شکر کرو گے تو تمھیں اور زیادہ دوں گا۔‘‘ علم، تزکیہ اخلاق اور توفیق عمل جیسی دینی نعمتوں پر شکر کا حکم دینے میں اس حقیقت کا بیان ہے کہ یہ سب سے بڑی نعمتیں ہیں بلکہ یہی حقیقی نعمتیں ہیں جن کو دوام حاصل ہے، جبکہ دیگر نعمتیں زائل ہو جائیں گی۔ ان تمام حضرات کے لیے، جن کو علم و عمل کی توفیق سے نوازا گیا ہے، یہی مناسب ہے کہ وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہیں تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل کا اضافہ ہو اور ان سے عجب اور خود پسندی دور رہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے شکر میں مشغول رہیں۔چونکہ شکر کی ضد کفران نعمت ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی ضد سے منع کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَ لَا تَكۡفُرُوۡنِ﴾ ’’اور میرا کفر نہ کرو‘‘ یہاں ’’کفر‘‘ سے مراد وہ رویہ ہے جو شکر کے بالمقابل ہوتا ہے۔ اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی ناشکری اور ان کا انکار اور ان نعمتوں کا حق ادا کرنے سے گریز و فرار۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس کا معنی عام ہو تب اس لحاظ سے کفر کی بہت سی اقسام ہیں اور ان میں سب سے بڑی قسم اللہ تعالیٰ سے کفر ہے پھر اختلاف اجناس و انواع کے اعتبار سے مختلف معاصی، مثلاً شرک اور اس سے کم تر گناہ۔