Tafsir As-Saadi
2:159 - 2:162

بے شک وہ لوگ جو چھپاتے ہیں ان کو جو ہم نے نازل کیے واضح دلائل اور ہدایت کی باتیں، بعد اس کے کہ ہم نے کھول کر بیان کر دیا ان کو لوگوں کے لیے کتاب میں، یہی لوگ ہیں، لعنت کرتا ہے ان پر اللہ اور لعنت کرتے ہیں ان پر لعنت کرنے والے(159) مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور (اپنی) اصلاح کر لی اور کھول کر بیان کیا تو یہی لوگ ہیں متوجہ ہوتا ہوں میں ان پر اور میں بہت توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہوں(160) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور مر گئے اس حال میں کہ وہ کافر ہی تھے تو یہی لوگ ہیں ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی(161) ہمیشہ رہیں گے وہ اس (لعنت) میں نہ ہلکا کیاجائے گا ان سے عذاب اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(162)

[159] یہ آیت کریمہ اگرچہ اہل کتاب کے بارے میں اور اس کی بابت نازل ہوئی ہے کہ انھوں نے رسول اللہﷺکی صفات کو چھپایا مگر اس کا حکم ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو ان حقائق کو چھپاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں ﴿ مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’دلائل‘‘ یعنی حق پر دلالت کرنے والی اور اس کو ظاہر کرنے والی باتیں ﴿ وَالۡهُدٰؔى ﴾ ھُدٰی وہ علم ہے جس کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور جس سے اہل جنت اور اہل جہنم کے راستوں میں فرق واضح ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل علم سے وعدہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب اللہ کا جو علم عطا کیا ہے اسے لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اور اسے ہرگز نہیں چھپائیں گے۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو دور پھینک دیا اس نے دو مفاسد کو جمع کر دیا۔ (اول) اس حق کو چھپانا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔ (ثانی) اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ دھوکہ کرنا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’ایسے ہی لوگوں پر اللہ لعنت کرتا ہے۔‘‘ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ دھتکار دے گا اور انھیں اپنی قربت اور رحمت سے دور کر دے گا ﴿ وَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰعِنُوۡنَ﴾ ’’اور تمام لعنت کرنے والے ان پر لعنت کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ان پر تمام مخلوق کی بھی لعنت پڑے گی۔ کیونکہ انھوں نے مخلوق الٰہی کے ساتھ دھوکہ کیا، ان کے دین کو برباد کیا، انھیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کیا اس لیے انھیں ان کے اعمال کی جنس سے بدلہ دیا جائے گا۔ جیسے لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دینے والے پر اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے، فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں، یہاں تک کہ پانی کے اندر مچھلیاں بھی اس کے لیے رحمت کی دعا کرتی ہیں کیونکہ اس کی تمام بھاگ دوڑ اور کوشش مخلوق کی بھلائی اور ان کے دین کی اصلاح اور ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ لہٰذا اسے اس کے عمل کی جنس سے بدلہ دیا گیا۔ پس اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حق کو چھپانے والا درحقیقت اللہ کے حکم کا مخالف اور اللہ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو لوگوں کے سامنے اپنی آیات کو واضح کر کے بیان کرتا ہے اور یہ شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کو چھپانے اور مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ پس مذکورہ سخت وعید کا مورد یہی شخص ہے۔
[160]﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا﴾ ’’مگر جنھوں نے توبہ کی‘‘ یعنی جو ندامت کے ساتھ گناہ چھوڑ کر اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم لے کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹے ﴿وَاَصۡلَحُوۡا ﴾ ’’اور اپنی حالت درست کرلی۔‘‘ یعنی اپنے فاسد عملوں کی اصلاح کر لی۔ پس صرف برے کام کا چھوڑ دینا ہی کافی نہیں، اس کی جگہ اچھے کام کا اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ کتمان حق کے مرتکب کے لیے بھی صرف یہی کافی نہیں کہ اس نے یہ گناہ چھوڑ دیا ہے بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حق کو بھی ظاہر کرے جس کو اس نے چھپایا تھا۔ پس یہی وہ شخص ہے جس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے۔ کیونکہ اس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کا سبب لے کر توبہ کے لیے حاضر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ﴿ التَّوَّابُ ﴾ ’’بڑا معاف کرنے والا۔‘‘ ہے۔ یعنی وہ اپنے بندوں کے ساتھ، گناہ کے بعد عفوودرگزر سے پیش آتا ہے جب وہ توبہ کر لیتے ہیں اور جب بندے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو روک لینے کے بعد، ان پر پھر احسان و نعمتوں کی بارش کر دیتا ہے۔ ﴿ الرَّحِيۡمُ ﴾ اس ہستی کو کہتے ہیں جو عظیم اور بے پایاں رحمت سے متصف ہو جو ہر چیز کو محیط ہے۔ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے انھیں توبہ اور انابت کی توفیق بخشی، پس انھوں نے توبہ کی اور وہ اس کی طرف پلٹے۔ پھر اس نے ان پر رحم کیا یعنی اپنے لطف و کرم سے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ یہ اس شخص کا حکم ہے جو گناہوں سے توبہ کرتا ہے۔
[161] رہا وہ شخص جو اپنے کفر پر مصر ہے، اس نے اپنے رب کی طرف رجوع نہیں کیا، نہ اس کی طرف پلٹا اور نہ اس نے توبہ کی اور حالت کفر ہی میں مر گیا ﴿اُولٰٓىِٕكَ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةُ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’تو یہی لوگ ہیں جن پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے‘‘، اس لیے کہ جب کفر، ان کا وصف ثابت بن گیا تو ان پر لعنت بھی ان کا وصف ثابت بن گئی جو کبھی زائل نہیں ہوگی۔ کیونکہ حکم وجود اور عدم وجود کے اعتبار سے اپنی علت کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ (یعنی علت ہو گی تو حکم ہو گا، علت نہیں ہو گی تو حکم بھی نہیں ہو گا)
[162]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ ہمیشہ اس (لعنت) میں رہیں گے۔‘‘ یعنی وہ لعنت یا عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ لعنت اور عذاب دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ فرمایا: ﴿ لَايُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’اور ان پر عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی‘‘ بلکہ ان کو سخت اور دائمی عذاب دیا جائے گا ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی‘‘ کیونکہ مہلت کا وقت تو دنیا کی زندگی تھی جو گزر گئی اور ان کے پاس کوئی عذر بھی نہیں ہو گا جو وہ پیش کر سکیں۔