اور البتہ ہم ضرور آزمائیں گے تم کو کچھ نہ کچھ خوف اور بھوک اور کمی کرنے سے مالوں اور جانوں اور پھلوں میں سےاور خوشخبری دے دیجیے صبر کرنے والوں کو(155) وہ لوگ کہ جب پہنچتی ہے انھیں کوئی مصیبت تو کہتے ہیں، بلاشبہ ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور یقیناً ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں(156) یہی لوگ، ان کے لیے بخشش ہے ان کے رب کی طرف سے اور رحمت اور یہی ہیں ہدایت یافتہ(157)
[155] اللہ تبارک وتعالیٰ نے خبر دی کہ وہ اپنے بندوں کو مصائب و محن کے ذریعے سے آزماتا ہے تاکہ سچے اور جھوٹے، صابر اور بے صبر کے درمیان فرق واضح ہو جائے۔ اپنے بندوں کے معاملے میں یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ کیونکہ اگر اہل ایمان ہمیشہ خوشحالی سے لطف اندوز ہوں انھیں کبھی مصائب ومحن کا سامنا نہ ہو تو فساد واقع ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اہل خیر اہل شر میں سے علیحدہ ہوں۔ یہ آزمائش کا فائدہ ہے۔ اس سے اہل ایمان کا وہ ایمان زائل نہیں ہوتا جو انھیں عطا کیا گیا ہے اور نہ آزمائش انھیں دین سے ہٹاتی ہے، اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ایمان کو ضائع نہیں کرتا۔ پس اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائے گا ﴿بِشَيۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ ﴾ ’’کسی قدر خوف سے‘‘ یعنی دشمنوں کے خوف سے ﴿وَالۡجُوۡعِ ﴾ ’’اور بھوک سے‘‘ یعنی بھوک اور دشمنوں کے خوف کے ذریعے سے کچھ نہ کچھ انھیں ضرور آزمائے گا۔ کیونکہ اگراللہ تعالیٰ نے انھیں مکمل بھوک اور خوف میں مبتلا کر دیا تو وہ ہلاک ہو جائیں گے۔ اور آزمائش اور امتحان ہلاک کرنے کی غرض سے نہیں آتا بلکہ اس کا مقصد پاک صاف کرنا ہوتا ہے۔ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ﴾ ’’اور کچھ مالوں کی کمی سے‘‘ اس میں وہ تمام کمی اور گھاٹا شامل ہے جو اہل ایمان کو آفات سماوی، سیلاب یا سمندر میں غرق ہونے، ظالم حکومتوں کے مال چھین لینے اور راہزن ڈاکوؤں کے ڈاکہ ڈالنے کی وجہ سے پیش آتا ہے۔ ﴿وَالۡاَنۡفُسِ ﴾ ’’اور جانوں کی کمی سے‘‘ اولاد، عزیز و اقارب اور دوستوں کو فوت کر کے، خود بندۂ مومن یا اس کے کسی عزیز کو بیماری لاحق کر کے ان کو آزماتا ہے۔ ﴿وَالثَّمَرٰتِ﴾ ’’اور پھلوں کی کمی سے‘‘ ژالہ باری، سردی، آگ لگنے، آفات سماوی اور ٹڈی دل کے ذریعے سے غلہ جات، کھجوروں، سبزیوں اور تمام پھلدار درختوں کو نقصان پہنچا کر ہم ضرور آزمائیں گے۔ ان تمام آزمائشوں کا آنا ضروری ہے، کیونکہ اللہ علیم و خبیر نے ان کے بارے میں خبر دی ہے۔ اور یہ آزمائشیں اسی طرح واقع ہوئیں۔ جب یہ مصائب و محن واقع ہوئے، تو لوگ دو اقسام میں منقسم ہو گئے۔ (۱) بے صبری کا مظاہرہ کرنے والے۔ (۲) صبر کرنے والے۔ بے صبر شخص کو دو مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا، محبوب چیز سے محروم ہونا اور وہ اس مصیبت کا وجود ہے۔دوسرا اس سے بھی زیادہ بڑی چیز سے محروم ہونا یعنی اللہ تعالیٰ نے صبر کا حکم دیا ہے اس پر عمل کرتے ہوئے ثواب کا حاصل نہ کرنا۔ چنانچہ خسارہ، حرماں نصیبی اور ایمان میں کمی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ وہ صبر، رضا اور شکر سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے ناراضی حاصل ہوتی ہے جو شدت نقصان پر دلالت کرتی ہے۔ لیکن وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے ان مصائب ومحن کے وقت صبر سے نوازا اور اس نے اپنے آپ کو قولاً اور فعلاً اللہ پر اظہار برہمی سے روکے رکھا۔ پھر اس پر اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر و ثواب کی امید رکھی اور اسے یہ بھی علم ہے کہ صبر کرنے سے اسے جو ثواب حاصل ہو گا، وہ اس مصیبت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے جس کا اسے سامنا ہے۔ بلکہ یہ مصیبت اس کے حق میں نعمت ہے کیونکہ یہ مصیبت اس کے لیے اس بھلائی اور فائدے کے حصول کا باعث بنی ہے جو اس مصیبت سے زیادہ بہتر ہے۔ پس اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی اور ثواب کا مستحق قرار پایا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَبَشِّرِ الصّٰؔبِرِيۡنَؔ﴾ ’’اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنادو۔‘‘ یعنی انھیں خوشخبری سنا دو کہ اللہ تعالیٰ بغیر کسی حساب کے ان کو پورا پورا اجر دے گا۔ پس اہل صبر وہ لوگ ہیں جن کو عظیم بشارت اور بہت بڑے انعام سے نوازا گیا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان صابرین کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا:
[156]﴿الَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ﴾’’وہ لوگ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے‘‘ مصیبت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو قلب، بدن یا دونوں کو تکلیف پہنچائے۔ جس کا ذکر پہلے گزرا۔ ﴿قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰهِ﴾ ’’تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ ہی کی ملکیت ہیں۔‘‘ یعنی وہ پکار اٹھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں، اسی کے دست تدبیر اور اسی کے تصرف کے تحت ہیں، پس ہماری جانوں اور ہمارے مال میں ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ ہمیں کسی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ، جس کی ذات سب سے زیادہ رحم کرنے والی ہے، درحقیقت اپنے غلاموں اور ان کے مال میں تصرف کرتا ہے اس لیے مالک پر اعتراض کی مجال نہیں بلکہ بندۂ مومن کا کمال عبودیت اس کا یہ جان لینا ہے کہ اس پر جو مصیبت آن پڑی ہے وہ اس کے حکمت والے مالک کی طرف سے ہے جو اپنے بندے پر خود اس بندے سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، تب یہ چیز بندے کو اللہ تعالیٰ پر راضی اور اس کی اس تدبیر پر شکر گزار رکھتی ہے کہ اس نے اپنے بندے کے لیے وہی چیز اختیار کی جو اس کے لیے بہتر تھی، اگرچہ بندے کو اس کا شعور بھی نہ تھا۔ نیز اس کے ساتھ ساتھ ہم اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں پس قیامت کے روز ہم نے لوٹ کر اللہ تعالیٰ کے پاس ہی حاضر ہونا ہے۔ اور ہر شخص کو اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا اگر ہم صبر کریں اور اجر کی امید رکھیں تو ہم اس کے ہاں اپنے اجر و ثواب کو وافر پائیں گے اور اگر ہم بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر ناراض ہوں گے تو ہمیں ناراضی اور اجر کی محرومی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ پس بندے کا اللہ کی ملکیت ہونا اور اس کا اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا صبر کا سب سے طاقتور سبب ہے۔
[157]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں۔‘‘ یعنی یہی لوگ جو صبر مذکور کی صفت سے موصوف ہیں ﴿عَلَيۡهِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’ان پر برکتیں ہیں ان کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی یہ ان کے احوال کی مدح و ثنا اور تعریف و تعظیم ہے ﴿ وَرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اور رحمت‘‘ اور ان پر عظیم رحمت ہے۔ یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا حصہ ہے کہ اس نے ان کو صبر کی توفیق سے نوازا جس کے ذریعے سے وہ کامل اجر حاصل کرتے ہیں۔ ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں‘‘ یعنی وہ لوگ ہیں جنھوں نے حق کو پہچان لیا۔ اور وہ حق اس مقام پر یہ ہے کہ انھیں یہ معلوم ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور انھیں لوٹ کر اسی کے پاس حاضر ہونا ہے اور اس پر وہ عمل پیرا ہوئے اور یہاں عمل، اللہ تعالیٰ کے لیے ان کا صبر کرنا ہے۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی واضح ہے کہ جس نے صبر نہ کیا انھیں وہ کچھ حاصل ہو گا جو صبر کرنے والوں کی ضد ہے۔ یعنی مذمت، عقوبت، گمراہی اور خسارہ۔ (اَعَاذَنَا اللہُ مِنْھَا) پس دونوں قسموں کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے، اہل صبر کے لیے کتنی کم مشقت اور بے صبروں کے لیے کتنی بڑی تکلیف ہے۔ یہ دونوں آیتیں نفوس کو مصائب کے نازل ہونے سے پہلے ان مصائب کو خوش دلی سے قبول کرنے پر آمادہ کرتی ہیں تاکہ جب مصائب نازل ہوں تو وہ آسانی سے برداشت ہو سکیں۔ ان آیات میں اس امر کا بھی بیان ہے کہ جب مصیبت نازل ہو تو کس چیز سے اس کا مقابلہ کیا جائے اور وہ ہے صبر۔ اس چیز کا بھی بیان ہے جو صبر پر مددگار ہوتی ہے، نیز یہ کہ صبر کرنے والوں کے لیے کیا اجر و ثواب ہے۔ ان سے بے صبر لوگوں کا حال بھی واضح ہوتا ہے جو صبر کرنے والوں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ ابتلا و امتحان اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے اور تو اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا۔ نیز ان آیات کریمہ میں مصائب کی مختلف انواع کا بیان ہے۔