Tafsir As-Saadi
2:174 - 2:176

بے شک وہ لوگ جو چھپاتے ہیں اس کو جو نازل کیا اللہ نے کتاب سے اور لیتے ہیں بدلے اس کے مول تھوڑا سا، یہی لوگ ہیں، نہیں بھر رہے وہ اپنے پیٹوں میں مگر آگ ہی، اور نہیں کلام کرے گا ان سے اللہ دن قیامت کے اور نہ پاک کرے گا ان کو اور ان کے لیے عذاب ہے دردناک(174) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے خریدا گمراہی کو بدلے ہدایت کے اور عذاب کو بدلے مغفرت کے، پس کس قدر صبر کرنے والے ہیں یہ اوپر آگ کے؟(175) یہ اس لیے کہ بے شک اللہ نے نازل فرمائی کتاب ساتھ حق کے،اور بے شک وہ لوگ جنھوں نے اختلاف کیا کتاب میں، یقینا ًوہ بہت دور والی مخالفت میں ہیں(176)

[175-174] اللہ تعالیٰ نے جو علم اپنے رسولوں پر نازل فرمایا اور لوگوں پر اس علم کو واضح کرنے اور اس کو نہ چھپانے کا اہل علم سے وعدہ لیا۔ اس علم کو جو لوگ چھپاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس میں ان کو سخت وعید سنائی ہے۔ پس جو لوگ اس علم کے عوض دنیاوی مال و متاع سمیٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو دور پھینک دیتے ہیں۔ انھی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَا يَاۡكُلُوۡنَ فِيۡ بُطُوۡنِهِمۡ اِلَّا النَّارَ ﴾ ’’یہ اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں‘‘ کیونکہ یہ قیمت جو انھوں نے (آیات الٰہی کے عوض) کمائی ہے یہ انھیں بدترین اور انتہائی حرام طریقے سے حاصل ہوئی ہے، لہٰذا ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی۔ ﴿ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’اور قیامت کے دن اللہ ان سے کلام نہیں فرمائے گا‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہو گا اور ان سے منہ پھیر لے گا۔ پس یہ چیز ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بھی بڑھ کر ہو گی۔ ﴿ وَلَا يُزَؔكِّيۡهِمۡ ﴾ ’’اور نہ ان کو پاک کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اخلاق رذیلہ سے پاک نہیں کرے گا اس لیے کہ ان کے اعمال ایسے نہیں ہوں گے جو مدح، رضائے الٰہی اور جزا کے قابل ہوں۔ اللہ تعالیٰ انھیں اس لیے پاک نہیں کرے گا، کیونکہ انھوں نے عدم تزکیہ کے اسباب اختیار کیے۔ تزکیہ کا سب سے بڑا سبب کتاب اللہ پر عمل کرنا، اس کو راہنما بنانا اور اس کی طرف دعوت دینا ہے۔ پس انھوں نے کتاب اللہ کو دور پھینک دیا، اس سے روگردانی کی، ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی اور مغفرت کو چھوڑ کر عذاب کو اختیار کیا۔ پس یہ لوگ جہنم ہی کے قابل ہیں۔ یہ جہنم کی آگ پر کیسے صبر کریں گے اور اس کی آگ کو کیسے برداشت کر سکیں گے؟
[176]﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ اللہ کا عدل و انصاف پر مبنی بدلہ اور اس کا اسباب ہدایت سے انھیں محروم رکھنا، جنھوں نے انھیں اختیار کرنے سے انکار کیا اور ان کے سوا دوسرے اسباب اختیار کیے۔ ﴿ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اس لیے ہے کہ اللہ نے کتاب کو حق کے ساتھ اتارا‘‘ اور حق میں سے ہی یہ بات بھی ہے کہ نیک کام کرنے والے کو اس کی نیکیوں کا اور برا کام کرنے والے کو اس کی برائیوں کا بدلہ دیا جائے۔ نیز اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ نَزَّلَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَقِّ ﴾ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید مخلوق کی ہدایت، باطل میں سے حق کو اور گمراہی میں سے ہدایت کو واضح کرنے کے لیے نازل فرمایا ہے،اس لیے جس نے اس کو اس کے اصل مقصد سے ہٹا دیا، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اسے اس کی پاداش میں بڑی سے بڑی سزا دی جائے۔ فرمایا:﴿ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِي الۡكِتٰبِ لَفِيۡ شِقَاقٍۭ بَعِيۡدٍ﴾ ’’جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ دور کی دشمنی میں ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے کتاب اللہ کے بارے میں اختلاف کیا اور اس کے کسی حصے پر ایمان لائے اور کسی حصے کا انکار کیا اور وہ لوگ جنھوں نے اپنی مراد اور اپنی خواہشات کے مطابق اس میں تحریف کی اور اس کے اصل معانی سے ہٹا دیا (لَ٘فِیْ شِقَاقٍۭ) یعنی وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں (بَعِیْدٍ) جو حق سے بہت دور ہے، اس لیے کہ انھوں نے کتاب اللہ کی مخالفت کی، جو حق لے کر آئی ہے جو اتفاق اور عدم تناقض کا موجب ہے۔ پس ان کا معاملہ خراب ہو گیا، ان کی مخالفت اور دشمنی بڑھ گئی اور اس کے نتیجے میں ان میں افتراق پیدا ہو گیا۔ اس کے برعکس وہ اہل کتاب جو کتاب اللہ پر ایمان لائے اور تمام معاملات میں اسے حکم تسلیم کیا، پس ان میں اتفاق ہو گیا اور یہ لوگ محبت اور کتاب اللہ پر اجتماع کی وجہ سے بلندیوں پر پہنچ گئے۔ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے لیے جو اس چیز کو چھپاتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور کتاب اللہ پر دنیا کو ترجیح دیتے ہیں، سخت ناراضی اور عذاب کی وعید کو متضمن ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو توفیق اور مغفرت کے ذریعے سے پاک نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا ہے جو ان کے ہدایت پر گمراہی کو ترجیح دینے کا باعث بنا اور اس پر یہ امر مترتب ہوا کہ انھوں نے مغفرت کو چھوڑ کر عذاب کو اختیار کر لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس امر پر دکھ کا اظہار کیا کہ وہ جہنم کی آگ برداشت کرنے پر کس قدر صابر ہیں؟ جس میں وہ ان اسباب کی بنا پر داخل ہوئے جن کے بارے میں انھیں خوب علم تھا کہ یہ جہنم میں لے جاتے ہیں۔ یہ آیت اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ کتاب اللہ تمام تر حق پر مشتمل ہے جو اتفاق اور عدم افتراق کا موجب ہے، نیز ہر وہ شخص جو کتاب اللہ کی مخالفت کرتا ہے وہ حق سے بہت دور ہے اور وہ نزاع اور مخاصمت میں مبتلا ہے۔ واللہ اعلم۔