اور بعض لوگ وہ ہیں جو بناتے ہیں اللہ کے سوا، (دوسروں کو) شریک، وہ محبت کرتے ہیں ان سے جیسے محبت (کرنی چاہیے) اللہ سےاور وہ لوگ جو ایمان لائے، زیادہ سخت ہیں محبت کرنے میں اللہ سےاور اگر (دنیا میں) دیکھ لیں ظالم لوگ (اس وقت کو) جب وہ دیکھیں گے عذاب، (تو جان لیں یہ کہ) بے شک قوت اللہ ہی کے لیے ہے سب، اور یہ کہ اللہ شدید عذاب والا ہے(165) جب بیزار ہو جائیں گے وہ لوگ، جن کی پیروی کی گئی، ان سے جنھوں نے پیروی کی تھی جبکہ دیکھیں گے وہ عذاب اور منقطع ہو جائیں گے ان کے تعلقات(166) اور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے اتباع کیاتھا، کاش کہ ہو واسطے ہمارے ایک بار واپسی (دنیا میں) تو بے زار ہو جائیں گے ہم بھی ان سے جس طرح وہ بیزار ہو گئے ہیں ہم سے، اسی طرح دکھلائے گا ان کو اللہ ان کے عمل حسرتیں بنا کر اوپر ان کے اور نہیں وہ نکلنے والے آگ سے(167)
[167-166-165] یہ آیت کریمہ (مضمون کے اعتبار سے) کتنے خوبصورت طریقے سے پچھلی آیت سے تعلق رکھتی ہے، اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کو بیان فرمایا اور اس کے قطعی دلائل و براہین بیان کیے جو علم یقینی عطا کرتے اور ہر قسم کے شک و شبہ کو زائل کر دیتے ہیں۔ تو یہاں اس نے ذکر فرمایا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ﴿ مَنۡ يَّؔتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَنۡدَادًا ﴾ ’’جو اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو شریک ٹھہرا لیتے ہیں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہمسر اور مثیل، جنھیں وہ عبادت، محبت، تعظیم اور اطاعت میں اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دیتے ہیں۔ اور حجت قائم کرنے اور توحید بیان کرنے کے بعد بھی جو شخص اس حالت پر رہنے پر مصر ہو تو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے عناد رکھنے والا، اس کا مخالف ہے یا اس کی آیات و مخلوقات میں تدبر و تفکر سے روگردانی کرنے والا ہے اور اس بارے میں اس کے پاس ادنیٰ سا عذر بھی نہیں۔ بلکہ عذاب کا کلمہ اس پر ثابت ہو گیا ہے۔ اور یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے ہمسر بناتے ہیں وہ تخلیق، رزق اور تدبیر میں ان کو اللہ تعالیٰ کے مساوی قرار نہیں دیتے بلکہ وہ صرف عبادت میں ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہراتے ہیں۔ پس وہ ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں تاکہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ يَّؔتَّؔخِذُ ﴾ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ہمسر نہیں۔ اہل شرک نے بعض مخلوقات کو اللہ تعالیٰ کا جو ہمسر قرار دے رکھا ہے۔ وہ صرف نام ہی نام ہے، لفظ کے اعتبار سے ان کا کوئی معنی نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ قُلۡ سَمُّوۡهُمۡ١ؕ اَمۡ تُنَبِّـُٔوۡنَهٗ۠ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ بِظَاهِرٍ مِّنَ الۡقَوۡلِ ﴾(الرعد : 13؍33) ’’اور ان لوگوں نے اللہ کے شریک مقرر کر رکھے ہیں ان سے کہو ذرا ان معبودوں کے نام تو لو کیا تم اسے ان چیزوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہو جنھیں وہ زمین کے اندر نہیں جانتا (یعنی زمین میں ان کا وجود ہی نہیں) یا محض ظاہری بات کی تقلید کرتے ہو۔‘‘ فرمایا: ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّاۤ اَسۡمَآءٌ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ ﴾(النجم : 53؍23) ’’یہ تو محض نام ہی ہیں جن کو تم نے اور تمھارے آباؤ اجداد نے گھڑ رکھا ہے جن کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ وہ تو صرف ظن اور گمان کی پیروی کر رہے ہیں۔‘‘ پس مخلوق اللہ تعالیٰ کی ہمسر نہیں ہو سکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ خالق اور اس کے علاوہ سب اس کی مخلوق ہے، رب تعالیٰ رازق ہے اور اس کے علاوہ تمام مخلوق مرزوق ہے، اللہ تعالیٰ غنی اور بے نیاز ہے اور تم سب اس کے محتاج ہو۔ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے کامل ہے اور بندے ہر لحاظ اور ہر پہلو سے ناقص ہیں، اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے قبضۂ قدرت میں نفع و نقصان ہے اور مخلوق کو نفع و نقصان اور کسی چیز کا بھی اختیار نہیں۔ لہٰذا اس شخص کے قول کا بطلان یقینی طور پر معلوم ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اللہ کا ہمسر اور معبود ٹھہراتا ہے، یہ غیر اللہ خواہ فرشتہ ہو یا نبی ہو، خواہ کوئی صالح بزرگ یا کوئی بت ہو یا ان کے علاوہ کوئی اور، صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی محبت کامل اور تذلل تام کی مستحق ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی مدح کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ﴾ ’’اور جو اہل ایمان ہیں وہ تو اللہ ہی سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے ہیں۔‘‘ یعنی اہل شرک اپنے معبودوں سے جتنی محبت کرتے ہیں اس سے بڑھ کر اہل ایمان اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں کیونکہ ان کی محبت خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور اہل شرک اپنے معبودوں کی محبت میں بھی دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ اہل ایمان صرف اسی سے محبت کرتے ہیں جو محبت کا حقیقی مستحق ہے، جس کی محبت میں بندے کی عین صلاح، سعادت اور فوز و فلاح ہے۔ جبکہ اہل شرک ان ہستیوں سے محبت کرتے ہیں جو محبت کا کچھ استحقاق نہیں رکھتے، ان کی محبت میں بندے کی عین بدبختی، اس کا فساد اور اس کے معاملات کا بکھرناہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلَوۡ يَرَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا ﴾ ’’اگر دیکھ لیں وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا‘‘ یعنی جنھوں نے غیر اللہ کو ہمسر بنا کر اور بندوں کے رب کے سوا دوسروں کی اطاعت کر کے ظلم کیا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک کر اور انھیں نقصان پہنچانے کی کوشش کر کے ظلم کیا۔ ﴿ اِذۡ يَرَوۡنَ الۡعَذَابَ ﴾ ’’جب وہ عذاب دیکھیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز اپنی آنکھوں سے عیاں طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دیکھیں گے ﴿ اَنَّ الۡقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِيۡعًا١ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعَذَابِ ﴾ ’’ہر طرح کی قوت اللہ ہی کے لیے ہے اور یہ کہ اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس وقت انھیں یقینی طور پر معلوم ہو جائے گا کہ تمام قوت و قدرت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے اور انھوں نے جو اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرا رکھے تھے ان کے پاس کسی قسم کی کوئی طاقت نہیں۔ تب اس روز ان کے سامنے ان کے بنائے ہوئے معبودوں کی کمزوری اور بے بسی ظاہر ہو جائے گی۔ ایسا نہیں ہو گا جیسے اس دنیا میں ان کا معاملہ مشتبہ ہے اور اہل شرک یہ سمجھتے ہیں کہ ان معبودوں کے پاس بھی اختیار ہے اور یہ معبود انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں اور اس کے پاس پہنچنے کا وسیلہ ہیں۔ پس وہ اپنے ظن اور گمان میں خائب و خاسر ہوئے اور ان کی تمام بھاگ دوڑ باطل گئی اور ان کے لیے سخت عذاب واجب ہو گیا۔ ان کے ٹھہرائے ہوئے یہ ہمسر ان سے عذاب کو روک نہیں سکیں گے اور نہ ذرہ بھر ان کے کوئی کام آ سکیں گے بلکہ ان معبودوں سے ان کو کسی فائدے کی بجائے نقصان پہنچے گا۔ اور راہ نما اپنے پیروکاروں سے براء ت کا اظہار کریں گے اور وہ تمام تعلقات منقطع ہو جائیں گے جو دنیا میں ان کے مابین تھے۔ کیونکہ یہ تعلقات غیر اللہ کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف تھے، ان کا تعلق باطل کے ساتھ تھا جس کی کوئی حقیقت نہیں تھی اس لیے ان کے تمام اعمال مضمحل اور ان کے تمام احوال نابود ہو جائیں گے اور ان پر واضح ہو جائے گا کہ وہ جھوٹے تھے اور ان کے وہ اعمال جن کے نفع مند اور نتیجہ خیز ہونے کی انھیں امید تھی، ان کے لیے حسرت اور ندامت میں بدل جائیں گے۔ وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں داخل ہوں گے اور وہاں سے کبھی نہیں نکلیں گے۔پس اس خسارے کے بعد بھی کوئی اور خسارہ ہے؟ یہ اس لیے کہ انھوں نے باطل کی پیروی کی، انھوں نے ان سے امیدیں رکھیں جن پر امید نہیں رکھی جانی چاہیے تھی اور ان سے تعلق قائم کیا جن سے تعلق قائم نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ پس جب وہی باطل ثابت ہوا، جن سے انھوں نے تعلق جوڑا، تو ان کے اعمال بھی باطل ہو گئے اور جب ان کے اعمال باطل ہو گئے تو اپنی امیدوں کے ٹوٹ جانے کی بنا پر حسرت میں پڑ گئے، پس ان کے اعمال نے انھیں سخت نقصان پہنچایا۔ اور یہ اس شخص کے حال کے برعکس ہے جس نے اللہ تعالیٰ سے، جو بادشاہ حقیقی اور واضح کرنے والا ہے، ناطہ جوڑا۔ اسی کے لیے اپنے عمل کو خالص کیا اور اس عمل پر نفع کی امید رکھی۔ پس یہی وہ شخص ہے جس نے حق کو اس کے مقام پر رکھا، اس کے اعمال بھی حق ثابت ہوئے، کیونکہ اس نے حق کے ساتھ تعلق جوڑا تھا اور اپنے اعمال کے نتیجے میں کامیاب ہوا وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان اعمال کابدلہ پائے گا، جو کبھی منقطع نہیں ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ۰۰ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَاٰمَنُوۡا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَؔمَّؔدٍ وَّهُوَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّهِمۡ١ۙ كَفَّرَ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ وَاَصۡلَحَ بَالَهُمۡ۰۰ ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الۡبَاطِلَ وَاَنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الۡحَقَّ مِنۡ رَّبِّهِمۡ١ؕ كَذٰلِكَ يَضۡرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمۡثَالَهُمۡ﴾(محمد : 47؍1-3) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا، اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور اس کتاب پر ایمان لائے جو محمد(ﷺ) پر نازل کی گئی اور وہ (کتاب) ان کے رب کی طرف سے برحق ہے، اللہ ان کے گناہ مٹا دے گا اور ان کا حال درست کر دے گا، یہ اس وجہ سے ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے باطل کی پیروی کی اور جو ایمان لائے، انھوں نے اپنے رب کی طرف سے آئے ہوئے حق کی پیروی کی، اللہ اسی طرح لوگوں کے سامنے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔‘‘ اور اس وقت (غلط کاروں کی) پیروی کرنے والے تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دنیا میں لوٹایا جائے تو وہ بھی اپنے لیڈروں اور راہنماؤں سے بایں طور براءت کا اظہار کر دیں کہ شرک چھوڑ دیں گے اور صرف اللہ کے لیے عمل کریں گے، یہ بہت دور اور ناممکن ہے۔ معاملہ ہاتھ سے نکل گیا، اب یہ مہلت دینے کا وقت نہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ جھوٹے ہیں اگر انھیں دنیا میں بھیج بھی دیا گیا تو وہ وہی کریں گے جس سے انھیں روکا گیا ہے۔ یہ تو محض ان کے منہ کی بات ہے اور یہ تو محض ان کی تمنائیں ہیں چونکہ ان کے راہنماؤں نے ان سے براءت کا اظہار کیا ہے اس لیے وہ ان پر شدید غصے کی بنا پر اس تمنا کا اظہار کر رہے ہیں، ورنہ گناہ تو خود انھی کا ہے۔ پس بدی کے میدان میں تمام راہنماؤں کا راہنما تو شیطان ہے، اس کے باوجود وہ اپنے پیروکاروں سے کہے گا:﴿ لَمَّا قُضِيَ الۡاَمۡرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ وَوَعَدۡتُّكُمۡ فَاَخۡلَفۡتُكُمۡ۠١ؕ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُكُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِيۡ١ۚ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِيۡ وَلُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ ﴾(ابراہیم : 14؍22) ’’جب یہ معاملہ پورا ہو چکے گا (تو شیطان کہے گا) اللہ تعالیٰ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ وعدہ سچا تھا اور جو وعدہ میں نے تمھارے ساتھ کیا تھا وہ جھوٹا تھا اور مجھے تم پر کسی قسم کا اختیار نہ تھا سوائے اس کے کہ میں نے تمھیں (بدی کی طرف) دعوت دی اور تم نے قبول کر لی۔ پس اب تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔‘‘