اور پورا کرو تم حج اور عمرہ اللہ کے لیے، پھر اگر روک دیے جاؤ تم تو جو میسر ہو قربانی سے، (وہ کر دو) اور نہ منڈاؤ اپنے سر، یہاں تک کہ پہنچ جائے قربانی اپنے حلال ہونے کی جگہ پر، پس جو کوئی ہو تم میں سے مریض یا ہو اس کو کوئی تکلیف اس کے سر میں تو فدیہ دینا ہے روزوں سے یا صدقے سے یا قربانی سے، پھر جب امن میں ہو جاؤ تم تو جس نے فائدہ اٹھایا ساتھ عمرے کے، حج (کے احرام) تک تو جو میسر ہو قربانی سے(وہ کر دو) ، پھر جو شخص نہ پائے (قربانی) تو روزے رکھنے ہیں تین دن کے، حج (کے دنوں) میں اور سات، جب واپس لوٹو تم، یہ دس ہیں پورے، یہ (حکم) اس شخص کے لیے ہے کہ نہ ہوں اس کے گھر والے رہنے والے مسجد حرام کے پاس، اور ڈرو تم اللہ سے اور جان لو بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے(196)
[196]﴿ وَاَتِمُّوا الۡحَجَّ وَالۡعُمۡرَةَ ﴾ ’’اور پورا کرو حج اور عمرے کو‘‘ سے متعدد امور پر استدلال کیا جاتا ہے۔ (۱) حج اور عمرے کا وجوب اور ان کی فرضیت (۲) حج اور عمرے کو ان ارکان و واجبات کے ساتھ پورا کرنا جن کی طرف رسول اللہﷺکا فعل اور آپ کا یہ قول اشارہ کرتا ہے :’خُذُوا عَنِّی مَنَاسِکَکُمْ‘ ’’اپنے مناسک حج مجھ سے اخذ کرو‘‘(سنن البيھقی:5؍125)(۳) اس آیت کریمہ سے ان علماء کی تائید ہوتی ہے جو عمرے کو واجب قرار دیتے ہیں۔ (۴) حج اور عمرہ کو، خواہ وہ نفلی ہی کیوں نہ ہوں جب شروع کر دیا جائے تو ان کا اتمام واجب ہے۔ (۵) حج اور عمرے کو احسن طریقے سے ادا کیا جائے اور یہ چیز حج اور عمرے کے لازمی افعال سے قدر زائد ہے۔ (۶) اس میں حج اور عمرے کو خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (۷) حج اور عمرے کا احرام باندھنے والا ان کی تکمیل کیے بغیر احرام نہ کھولے سوائے اس صورت حال کے جس کواللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ قرار دیا ہے اور وہ ہے (کسی وجہ سے) محصور ہو جانا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ اُحۡصِرۡتُمۡ ﴾ ’’پس اگر تم روک دیے جاؤ‘‘ یعنی اگر تم کسی مرض یا راستہ بھول جانے یا دشمن کے روک لینے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے حج اور عمرہ کی تکمیل کے لیے بیت اللہ نہ پہنچ سکو تو فرمایا: ﴿ فَمَا اسۡتَيۡسَرَ مِنَ الۡهَدۡيِ ﴾ ’’تو جیسی قربانی میسر ہو۔‘‘ یعنی (جو قربانی میسر ہو،) ذبح کرو۔ یہ قربانی اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ یا ایک بکری ہے جسے مُحْصَر ذبح کرے گا۔ اس کے بعد وہ اپنا سر منڈوائے اور احرام کھول دے۔ جیسا کہ رسول اللہﷺاور صحابہ کرامyنے حدیبیہ والے سال کیا تھا جب مشرکین مکہ نے آپ کو بیت اللہ جانے سے روک دیا تھا۔ اگر مُحْصَر کو قربانی نہ ملے تو اس کے بدلے دس روزے رکھے جیسا کہ تمتع کرنے والے کے لیے ضروری ہے اور اس کے بعد احرام کھول کر حلال ہو جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَا تَحۡلِقُوۡا رُءُوۡسَكُمۡ حَتّٰى يَبۡلُغَ الۡهَدۡيُ مَحِلَّهٗ ﴾ ’’اور اپنے سروں کو نہ منڈواؤ، یہاں تک کہ قربانی اپنے ٹھکانے کو پہنچ جائے‘‘ بالوں کو منڈوا کر یا کسی اور طریقے سے زائل کرنا احرام کے ممنوعات میں شمار ہوتا ہے۔ بال خواہ سر کے ہوں یا بدن کے کسی اور حصے کے، ان کو زائل کرنا منع ہے، کیونکہ احرام میں اصل مقصود بالوں کی پراگندگی اور ان کو زائل کر کے ان کی اصلاح کرنے کی ممانعت ہے اور وہ باقی بالوں میں بھی موجود ہے۔ بہت سے علماء نے زیب و زینت کے لیے ناخن ترشوانے کو بال منڈوانے پر قیاس کیا ہے اور مذکورہ تمام چیزیں اس وقت تک ممنوع ہیں جب تک کہ قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے اور اس سے مراد قربانی کا دن ہے اور افضل یہ ہے کہ قربانی کرنے کے بعد بال اتروائے جائیں جیسا کہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی استدلال کیا جاتا ہے کہ تمتع کرنے والا جب اپنے ساتھ قربانی لے کر آیا ہو تو وہ قربانی کے دن سے قبل اپنے عمرے کا احرام نہ کھولے۔ پس تمتع کرنے والا جب عمرے کے طواف اور سعی سے فارغ ہو جائے تو حج کا احرام باندھ لے اور اپنے ساتھ قربانی لانے کی وجہ سے اس کے لیے احرام کھولنا جائز نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے (حَلْق) ’’بال مونڈنے‘‘ سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ اس میں عاجزی، اللہ کے لیے خضوع اور انکساری ہے جو کہ بندے کے لیے عین مصلحت ہے اور اس میں اس کے لیے کوئی نقصان بھی نہیں۔ اگر سر میں کسی مرض یا زخم یا جوؤں کی وجہ سے تکلیف ہو تو اس کے لیے سر کو منڈوانا جائز ہے البتہ فدیہ کے طور پر تین روزے رکھنا یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا یا جانور ذبح کرنا جو قربانی کے لیے جائز ہو واجب ہے۔ ان میں سے جو کام چاہے اسے کرنے کا اختیار ہے۔ قربانی سب سے افضل ہے، اس کے بعد صدقہ اور پھر روزے۔ اسی طرح کے حالات میں اگر ناخن تراشنے، سر ڈھانپنے، سلا ہوا کپڑا پہننے یا خوشبو لگانے کی ضرورت لاحق ہو تو ضرورت کے وقت ایسا کرنا جائز ہے، البتہ مذکورہ بالا فدیہ کی مانند فدیہ دینا واجب ہے۔ اس تمام صورت میں اصل مقصد آسودگی کے مظاہر سے دور رہنا ہے۔ پھر فرمایا:﴿ فَاِذَاۤ اَمِنۡتُمۡ ﴾ ’’پس جب تم امن میں ہو جاؤ‘‘ یعنی جب تم دشمن وغیرہ کی رکاوٹ کے بغیر بیت اللہ تک پہنچنے کی قدرت رکھتے ہو ﴿ فَمَنۡ تَمَتَّعَ بِالۡعُمۡرَةِ اِلَى الۡحَجِّ ﴾ ’’پس جو حج کے وقت تک عمرے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔‘‘ یعنی جو عمرہ کو حج کے ساتھ ملا دے اور عمرہ سے فارغ ہو کر اپنے تمتع سے فائدہ اٹھائے ﴿ فَمَا اسۡتَيۡسَرَ مِنَ الۡهَدۡيِ ﴾ ’’تو وہ جیسی قربانی میسر ہوکرے۔‘‘ یعنی اس پر واجب ہے کہ وہ قربانی دے جو میسر ہو اور وہ ایسا جانور ذبح کرے جو قربانی کے لیے جائز ہو۔ یہ قربانی، حج کی قربانی ہے جو ان دو عبادات کے مقابلے میں ہے جو اسے ایک ہی سفر میں حاصل ہوئیں، علاوہ ازیں یہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکرانہ ہے جو اسے عمرہ سے فراغت کے بعد اور مناسک حج شروع کرنے سے پہلے تمتع سے استفادہ کرنے کی صورت میں حاصل ہوئی۔ اور اسی کی مثل حج قران ہے، کیونکہ اس میں بھی (حج تمتع کی طرح) دو عبادات کا ثواب حاصل ہوتا ہے۔ آیت کریمہ کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ مفرد حج کرنے والے شخص پر قربانی واجب نہیں۔ آیت کریمہ تمتع کے جواز بلکہ تمتع کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے، نیز اس پر بھی کہ حج کے مہینوں میں تمتع جائز ہے۔ ﴿ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ ﴾ ’’پس جو شخص نہ پائے‘‘ یعنی جس کے پاس قربانی یا اس کی قیمت موجود نہ ہو ﴿ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ فِي الۡحَجِّ ﴾ ’’تو تین روزے رکھنے ہیں حج کے دنوں میں‘‘ ان روزوں کا پہلا جواز تو یہ ہے کہ انھیں عمرہ کے احرام کے ساتھ ہی رکھا جائے اور ان کا آخری وقت یوم النحر کے بعد کے تین دن ہیں، رمی جمار اور منی میں شب باشی کے ایام، البتہ افضل یہ ہے کہ یہ روزے ساتویں، آٹھویں اور نویں ذوالحج کو رکھے جائیں۔ ﴿ وَسَبۡعَةٍ اِذَا رَجَعۡتُمۡ ﴾ ’’اور سات (روزے) اس وقت جب تم گھر لوٹو‘‘ یعنی جب تم اعمال حج سے فارغ ہو جاؤ تو ان روزوں کو مکہ مکرمہ میں رکھنا بھی جائز ہے، واپسی سفر کے دوران راستے میں اور گھر پہنچ کر بھی رکھے جا سکتے ہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی تمتع کرنے والے پر قربانی کا واجب ہونا ﴿ لِمَنۡ لَّمۡ يَكُنۡ اَهۡلُهٗ حَاضِرِي الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ﴾ ’’اس کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے پاس نہ رہتے ہوں‘‘ یعنی یہ صرف اس شخص کے لیے ہے جو نمازقصر کرنے یا اس سے زیادہ فاصلے پر رہتا ہو یا اتنا دور رہتا ہو جسے عرف میں دور سمجھا جاتا ہو۔ اس شخص پر ایک ہی سفر میں دو عبادات کے ثواب کے حصول کی بنا پر قربانی واجب ہے۔ جو کوئی مکہ مکرمہ میں مسجد حرام کے پاس رہتا ہے، تو اس پر عدم موجب کی بنا پر قربانی واجب نہیں۔ ﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرو‘‘ یعنی اپنے تمام امور میں، اس کے اوامر کی اطاعت اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہوئے۔ اسی زمرے میں حج کے ان اوامر کی اطاعت اور ان ممنوعات سے اجتناب ہے جو کہ اس آیت کریمہ میں مذکور ہیں۔ ﴿ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص کو سخت سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے۔ یہی (خوف عذاب) تقویٰ کا موجب ہے کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتا ہے وہ ان تمام امور سے اجتناب کرتا ہے جو عذاب کے موجب ہیں۔ جیسے جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھتا ہے وہ ایسے کام کرتا ہے جو ثواب کے موجب ہیں اور جو کوئی عذاب سے نہیں ڈرتا اور ثواب کی امید نہیں رکھتا وہ حرام میں گھس جاتا ہے اور فرائض کو چھوڑ دینے کی جرأت کا مرتکب ہوتا ہے۔