حج (کا وقت) چند مہینے ہیں معلوم، پس جس نے فرض کر لیا ان میں حج تو نہیں ہے شہوت کی باتیں کرنا اور نہ نافرمانی کرنا اور نہ جھگڑا کرنا حج میں، اور جو کچھ کرتے ہو تم نیکی سے، جانتا ہے اسے اللہ، اور زاد راہ لے لو، کیونکہ یقیناً بہترین زاد راہ تقویٰ ہے،اور تم مجھ سے ڈرو! اے عقل مندو! (197)
[197] اللہ تبارک وتعالیٰ خبر دیتا ہے ﴿ اَلۡحَجُّ ﴾ یعنی حج واقع ہوتا ہے ﴿ اَشۡهُرٌ مَّعۡلُوۡمٰتٌ ﴾ ’’معلوم مہینوں (میں)۔‘‘ جو مخاطبین کے ہاں معلوم اور معروف ہیں جن کی تخصیص کی ضرورت نہیں۔ جیسا کہ روزوں کے لیے اس کے مہینے کے تعین کی ضرورت پیش آئی اور جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کے اوقات بیان فرمائے ہیں۔ رہا حج تو یہ ملت ابراہیم کا رکن ہے جو حضرت ابراہیمuکی اولاد میں ہمیشہ سے معروف رہا ہے اور وہ لوگ حج کرتے چلے آئے ہیں۔ جمہور اہل علم کے نزدیک ﴿ اَشۡهُرٌ مَّعۡلُوۡمٰتٌ ﴾ ’’معلوم مہینے‘‘ سے مراد شوال، ذیقعد اور ذوالحج کے پہلے دس دن ہیں۔ یہی وہ مہینے ہیں جن میں غالب طور پر حج کے لیے احرام باندھا جاتا ہے۔ ﴿ فَمَنۡ فَرَضَ فِيۡهِنَّ الۡحَجَّ ﴾ ’’تو جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے۔‘‘ یعنی جو کوئی ان مہینوں میں حج کا احرام باندھتا ہے، کیونکہ جو کوئی حج شروع کر دیتا ہے تو اس کا اتمام اس پر فرض ہو جاتا ہے خواہ حج نفلی ہی کیوں نہ ہو۔ اس آیت کریمہ سے امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب استدلال کرتے ہیں کہ حج کے مہینوں سے قبل حج کے لیے احرام باندھنا جائز نہیں ہے۔ میں (عبدالرحمن بن ناصر السعدی) کہتا ہوں کہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ آیت کریمہ جمہور اہل علم کے اس مسلک پر دلالت کرتی ہے کہ حج کے مہینوں سے پہلے حج کے لیے احرام باندھنا صحیح ہے تو ایسا کہنا زیادہ قرین صحت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَمَنۡ فَرَضَ فِيۡهِنَّ الۡحَجَّ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ حج کی فرضیت کبھی تو مذکورہ مہینوں میں واقع ہوتی ہے اور کبھی نہیں۔ ورنہ اللہ تعالیٰ اسے مقید نہ کرتا۔ ﴿ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوۡقَ١ۙ وَلَا جِدَالَ فِي الۡحَجِّ ﴾ ’’تو دل لگی کی باتیں نہیں کرنا، نہ گناہ کرنا اور نہ جھگڑا کرنا ہے حج میں‘‘ یعنی تم پر حج کے احرام کی تعظیم کرنا فرض ہے خاص طور پر جبکہ وہ حج کے مہینوں میں واقع ہو، لہٰذا تم پر فرض ہے کہ تم احرام حج کی ہر اس چیز سے حفاظت کرو جو احرام کو فاسد کرتی ہے یا اس کے ثواب میں کمی کر دیتی ہے، مثلاً (رَفَث) اور (رَفَث) سے مراد ہے جماع اور اس کے قولی اور فعلی مقدمات۔ خاص طور پر بیویوں کے پاس، ان کی موجودگی میں۔ (فُسُوق) سے تمام معاصی مراد ہیں اور ممنوعات احرام بھی اس میں شامل ہیں اور (جِدَال) سے مراد لڑائی، جھگڑا اور مخاصمت ہے، کیونکہ لڑائی جھگڑا شر کو جنم دیتا اور دشمنی پیدا کرتا ہے۔ حج کا مقصد اللہ تعالیٰ کے لیے تذلل اور انکسار، عبادات کے ذریعے سے ممکن حد تک اس کے تقرب کا حصول اور برائیوں کے ارتکاب سے بچنا ہے، اس لیے کہ یہی وہ امور ہیں جن کی وجہ سے حج اللہ کے ہاں مقبول و مبرور ہوتا ہے اور حج مبرور کا بدلہ، جنت کے سوا کوئی نہیں۔ مذکورہ برائیاں اگرچہ ہر جگہ اور ہر وقت ممنوع ہیں تاہم حج کے ایام میں ان کی ممانعت میں شدت اور زیادہ ہو جاتی ہے اور جان لیجیے کہ صرف ترک معاصی سے تقرب الٰہی کی تکمیل اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کہ اللہ تعالیٰ کے احکام بھی نہ بجا لائے جائیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَمَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ يَّعۡلَمۡهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جو بھی تم بھلائی کرتے ہو، اللہ اسے جانتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کے عموم کی تصریح کے لیے (مِنْ) استعمال کیا ہے، اس لیے ہر بھلائی، تقرب الٰہی کا ہر ذریعہ اور ہر عبادت اس میں شامل ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہر بھلائی کو جانتا ہے۔ یہ آیت کریمہ بھلائی کے کاموں میں ترغیبکو متضمن ہے۔ خاص طور پر زمین کے ان قطعات میں جن کو شرف اور احترام میں بہت بلند مقام حاصل ہے، اس لیے یہی مناسب ہے کہ نماز، روزہ، صدقہ، طواف اور قولی و فعلی احسان کے ذریعے سے جتنی بھلائی ممکن ہو، اسے حاصل کیا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس مبارک سفر میں زاد راہ ساتھ لینے کا حکم دیا ہے کیونکہ زاد راہ مسافر کو لوگوں سے بے نیاز کر دیتا ہے اور اسے لوگوں کے مال کی طرف دیکھنے اور سوال کرنے سے روک دیتا ہے۔ ضرورت سے زائد زاد راہ ساتھ لینے میں فائدہ اور ساتھی مسافروں کی اعانت ہے اور اس سے اللہ رب العالمین کے تقرب میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وہ زاد راہ ہے جو یہاں مراد ہے جو زندگی کو قائم رکھنے، گزر بسر کرنے اور راستے کے اخراجات کے لیے نہایت ضروری ہے۔ رہا زاد حقیقی جس کا انسان کو دنیا و آخرت میں فائدہ ہوتا ہے تو وہ تقویٰ کا زاد راہ ہے جو جنت کی طرف سفر کا زاد راہ ہے اور وہی زاد راہ ایسا ہے جو انسان کو ہمیشہ رہنے والی کامل ترین لذت اور جلیل ترین نعمت کی منزل مراد پر پہنچاتا ہے۔ جو کوئی زاد تقویٰ کو چھوڑ دیتا ہے وہ اس بنا پر اپنی راہ کھوٹی کر بیٹھتا ہے۔ تقویٰ سے محروم ہونا ہر برائی کا نشانہ بن جانا ہے اور وہ اہل تقویٰ کی منزل پر پہنچنے سے محروم ہو جاتا ہے۔ پس یہ تقویٰ کی مدح ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے عقل مند لوگوں کو ان الفاظ میں تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے:﴿ وَاتَّقُوۡنِ يٰۤاُولِي الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’اے اہل دانش! مجھ سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اے سنجیدہ اور عقلمند لوگو! اپنے اس رب سے ڈرو جس سے ڈرنا وہ سب سے بڑی چیز ہے جس کا عقل انسانی حکم دیتی ہے، اور اس کو ترک کرنا جہالت اور فساد رائے کی دلیل ہے۔