Tafsir As-Saadi
2:204 - 2:206

اور کچھ لوگ وہ ہیں کہ خوش لگتی ہے آپ کو اس کی بات حیات دنیا میں اور وہ گواہ بناتا ہے اللہ کو اس پر جو اس کے دل میں ہے، حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے(204) اور جب وہ پیٹھ پھیر جاتا ہے تو کوشش کرتا ہے زمین میں، تاکہ فساد کرے اس میں اور برباد کرے کھیتیاں اور نسل، اور اللہ نہیں پسند کرتا فساد کو(205) اور جب کہا جاتا ہے اسے، ڈر تو اللہ سے، تو ابھارتا ہے اسے تکبر گناہ پر، سو کافی ہے اسے جہنم اور یقیناً وہ برا ٹھکانا ہے(206)

[204] جب اللہ تعالیٰ نے کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا، خاص طور پر فضیلت والے اوقات میں، وہ ذکر الٰہی جو سب سے بڑی بھلائی اور نیکی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کے حال کے بارے میں خبر دی جو اپنی زبان سے جو بات کرتا ہے اس کا فعل اس کی مخالفت کرتا ہے۔ پس کلام ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو بلند مراتب پر فائز کرتی ہے یا اس کو پستی میں گرا دیتی ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يُّعۡجِبُكَ قَوۡلُهٗ فِي الۡحَيٰؔوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’بعض لوگ وہ ہیں جن کی بات تجھ کو اچھی لگتی ہے دنیا کی زندگی میں‘‘ یعنی جب وہ بات کرتا ہے تو اس کی باتیں سننے والے کو بہت اچھی لگتی ہیں۔ جب وہ بات کرتا ہے تو آپ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت ہی فائدہ مند بات کر رہا ہے۔ اور بات کو مزید موکد بناتا ہے ﴿وَيُشۡهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِيۡ قَلۡبِهٖ ﴾ ’’اور جو اس کے دل میں ہے، اس پر وہ اللہ کو گواہ بناتا ہے‘‘ یعنی وہ خبر دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے آگاہ ہے کہ اس کے دل میں وہی کچھ ہے جس کا اظہار وہ زبان سے کر رہا ہے، درآنحالیکہ وہ اس بارے میں جھوٹا ہے کیونکہ اس کا فعل اس کے قول کی مخالفت کرتا ہے۔ اگر وہ سچا ہوتا تو اس کا فعل اس کے قول کی موافقت کرتا جیسا کہ سچے مومن کا حال ہوتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَهُوَ اَلَدُّ الۡخِصَامِ ﴾ ’’اور وہ سخت جھگڑالو ہے‘‘ یعنی جب کبھی آپ اس سے بحث کرتے ہیں تو آپ دیکھتے ہیں کہ اس میں سخت جھگڑالو پن، سرکشی اور تعصب جیسی مذموم صفات موجود ہیں اور ان کے نتیجے میں، اس کے اندر وہ اوصاف پائے جاتے ہیں جو قبیح ترین اوصاف ہیں۔ یہ اوصاف اہل ایمان کے اوصاف کی مانند نہیں ہیں۔ وہ اہل ایمان جنھوں نے سہولت کواپنی سواری، اطاعت حق کو اپنا وظیفہ اور عفو و درگزر کو اپنی طبیعت بنالیا۔
[205]﴿ وَاِذَا تَوَلّٰى ﴾ ’’اور جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے۔‘‘ یعنی یہ شخص جب آپ کے پاس موجود ہوتا ہے تو اس کی باتیں آپ کو بہت خوش کن لگتی ہیں،جب وہ آپ کے ہاں سے واپس لوٹتا ہے ﴿ سَعٰى فِي الۡاَرۡضِ لِيُفۡسِدَ فِيۡهَا ﴾ ’’تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے۔‘‘ یعنی وہ گناہ اور نافرمانی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتا ہے جو زمین میں فساد برپا کرنے کا باعث بنتے ہیں ﴿ وَيُهۡلِكَ الۡحَرۡثَ وَالنَّسۡلَ ﴾ ’’اور کھیتی اور نسل کو نابود کردے۔‘‘ اور اس سبب سے کھیتیاں، باغات اور مویشی تباہ ہوتے ہیں یا ان میں کمی واقع ہوتی ہے اور گناہوں کے سبب سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الۡفَسَادَ﴾ ’’اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا‘‘ اور جب وہ فساد کو پسند نہیں کرتا تو وہ زمین میں فساد پھیلانے والے بندے کو سخت ناپسند کرتا ہے خواہ یہ بندہ اپنی زبان سے بہت اچھی اچھی باتیں ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ باتیں جو لوگوں کے منہ سے صادر ہوتی ہیں ان کے صدق یا کذب، اور نیکی یا بدی پر اس وقت تک دلالت نہیں کرتیں جب تک اس کا عمل ان باتوں کی تصدیق نہ کر دے۔ یہ آیت اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ گواہوں، حق پرستوں اور باطل پرستوں کے احوال کی تحقیق اور ان کے اعمال اور قرائن احوال میں غور و فکر کے ذریعے سے ان کی پہچان کی جائے، نیز ان کی ملمع سازی اور ان کے پاکئ داماں کے دعووں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ گناہوں اور نافرمانیوں کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلانے والے اس شخص کو جب اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقین کی جاتی ہے تو تکبر کرنے لگتا ہے۔
[206]﴿ اَخَذَتۡهُ الۡعِزَّةُ بِالۡاِثۡمِ ﴾ ’’کھینچ لاتا ہے، غرور اس کو گناہ پر‘‘ چنانچہ اس کے اندر گناہ اور معاصی کے اعمال اور نصیحت کرنے والوں کے خلاف متکبرانہ رویہ اکٹھے ہو جاتے ہیں ﴿ فَحَسۡبُهٗ جَهَنَّمُ ﴾ ’’پس اس کے لیے جہنم کافی ہے‘‘ جو نافرمان متکبرین کا ٹھکانا ہے۔ ﴿ وَلَبِئۡسَ الۡمِهَادُ ﴾ ’’اور بہت برا ٹھکانا ہے۔‘‘ یعنی بہت ہی برا ٹھکانا اور مسکن ہے جہاں وہ کبھی نہ ختم ہونے والی مایوسی اور دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے، ان کے عذاب میں کبھی تخفیف نہیں کی جائے گی۔ وہ ثواب کی کوئی امید نہیں رکھیں گے یہ ان کے اعمال بد اور ان کے جرم کی سزا ہے۔ ہم ان کے احوال سے اللہ تعالیٰ کی پناہ کے طلب گار ہیں۔