Tafsir As-Saadi
2:194 - 2:194

حرمت والا مہینہ، حرمت والے مہینے کے بدلے میں ہےاور سب حرمتیں بدلے کی چیزیں ہیں، سو جو زیادتی کرے اوپر تمھارے، تو تم زیادتی کرو اوپر اس کے مثل اس کے جو زیادتی کی اس نے تم پر،اور ڈرو اللہ سے،اور جان لو بے شک اللہ ساتھ ہے متقین کے(194)

[194]﴿ اَلشَّهۡرُ الۡحَرَامُ بِالشَّهۡرِ الۡحَرَامِ ﴾ ’’حرمت والا مہینہ، حرمت والے مہینے کے بدلے میں ہے‘‘ اس آیت میں اس مفہوم کا احتمال ہے کہ اس سے مراد یہ واقعہ ہو کہ جب صلح حدیبیہ والے سال کفار نے رسول اللہﷺاور صحابہ کرامyکو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ اگلے سال مکہ مکرمہ آئیں گے، تو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکنے کا واقعہ اور عمرۂ قضا دونوں حرمت والے مہینے (ذوالقعدہ) میں پیش آئے، اس لیے حرام مہینے کے مقابلے میں حرام مہینے کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس مفہوم کی رو سے اس آیت کریمہ میں صحابہ کرام کے مناسک کی تکمیل کی خبر دے کر ان کی دل جوئی کی ہے، دوسرا احتمال یہ ہے کہ تم نے اگر ان کے ساتھ حرمت والے مہینے میں لڑائی کی ہے تو (کیا ہوا) انھوں نے بھی تو تم سے حرمت والے مہینے ہی میں لڑائی کی ہے اس لیے حد سے تجاوز کرنے والے تو وہی کفار مکہ ہیں (تمھیں تو مجبوراً لڑنا پڑا ہے) پس تمھارے لیے اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَالۡحُرُمٰتُ قِصَاصٌ ﴾ ’’اور حرمتوں میں بدلہ ہے‘‘ عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ یعنی ہر وہ چیز جو قابل احترام ہے، وہ حرمت والا مہینہ ہو یا حرمت والا شہر ہو یا احرام ہو یا اس سے بھی زیادہ عام ہو،یعنی ہر وہ چیز جس کی حرمت کا حکم شریعت نے دیا ہے، جو کوئی ان کی بے حرمتی کی جرأت کرے گا، اس سے قصاص لیا جائے گا۔ پس جو کوئی حرام مہینے میں لڑائی کرے گا اس کے ساتھ لڑائی کی جائے گی۔ جو کوئی اس محترم شہر کی بے حرمتی کرے گا اس پر حد جاری کی جائے گی اور اس کا کوئی احترام نہیں۔ جو کوئی بدلہ لینے کے لیے (حرم شریف کے اندر) کسی کو قتل کرے گا اسے قتل کیا جائے گا ۔جو کسی کو زخمی کرے گا یا اس کا کوئی عضو کاٹے گا، اس کا اس سے قصاص لیا جائے گا۔ جو کوئی بلاجواز کسی کا مال لے گا، اس سے اس کا بدلا لیا جائے گا۔ البتہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا صاحب حق کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مال میں سے اپنے مال کے بقدر مال لے لے؟ اس بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے اس میں راجح مسلک یہ ہے کہ اگر حق کا سبب واضح ہو جیسے مہمان جبکہ دوسرے شخص نے اس کی مہمان نوازی نہ کی ہو، بیوی اور وہ قریبی رشتہ دار جن کا نفقہ جس کے ذمہ فرض ہو ، وہ نفقہ اور کفالت سے انکار کر دے تو اس کے مال میں سے بقدر حق مال لے لینا جائز ہے۔ اور اگر حق کا سبب خفی اور غیر واضح ہو، مثلاً کوئی شخص کسی کے قرض کا انکار کر دیتا ہے کہ اس نے قرض لیا ہی نہیں، یا کسی امانت میں خیانت کرتا ہے، یا اس میں سے چوری کر لیتا ہے وغیرہ، تو اس صورت میں مال لینا جائز نہیں ہے۔ اس طرح دلائل میں تطبیق ہو جاتی ہے اور تعارض نہیں رہتا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے گزشتہ حکم کی تاکید اور تقویت کے لیے فرمایا ﴿ فَمَنِ اعۡتَدٰؔى عَلَيۡكُمۡ فَاعۡتَدُوۡا عَلَيۡهِ بِمِثۡلِ مَا اعۡتَدٰؔى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’جو تم پر زیادتی کرے، تو تم بھی اس پر اس کی مثل زیادتی کرو جو اس نے تم پر کی‘‘ یہ بدلہ لینے کی صفت کی تفسیر ہے۔ نیز یہ کہ یہ تعدی کا ارتکاب کرنے والے کی تعدی اور ظلم کی مماثلت ہے۔ چونکہ غالب حالات میں، اگر نفوس انسانی کو (اپنے ساتھ زیادتی کے بدلے میں) سزا دینے کی رخصت دے دی جائے، تو وہ اپنی تشفی اور تسکین کے لیے جائز حد پر نہیں رکتے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو التزام تقویٰ کا حکم دیا جو کہ نام ہے اللہ تعالیٰ کی حدود پر ٹھہر جانے اور ان سے تجاوز نہ کرنے کا اور ان کو بتلایا کہ ﴿ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کے ساتھ ہے‘‘ یعنی اللہ کی مدد و نصرت اور اس کی تائید و توفیق ان کے ساتھ ہے اور جسے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہو گئی، وہ ابدی سعادت سے سرفراز ہو گیا اور جس نے تقویٰ کا التزام نہ کیا تو اس کا سرپرست اس سے علیحدہ ہو گیا، اسے بے یارومددگار چھوڑ دیا اور اسے اس کے نفس کے حوالے کر دیا، تب اس کی ہلاکت اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہو جاتی ہے۔