نہیں ہے تم پر کوئی گناہ یہ کہ تلاش کرو تم فضل اپنے رب کا، پھر جب لوٹو تم عرفات سے تو یاد کرو اللہ کو نزدیک مشعر حرام کےاور یاد کرو تم اس کو جس طرح اس نے ہدایت دی تمھیں اور تحقیق تھے تم پہلے اس سے البتہ گمراہوں سے(198) پھر لوٹو تم جہاں سے لوٹیں سب لوگ ،اور مغفرت مانگو اللہ سے، بے شک اللہ بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے(199) پھر جب پورے کر چکو تم اپنے حج کے احکام،تو یاد کرو اللہ کو مانند یاد کرنے تمھارے اپنے باپ دادا کو،بلکہ اس سے بھی زیادہ یاد کرنا، پس کچھ لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! دے ہمیں دنیا میں اور نہیں ہے اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ(200) اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو کہتے ہیں، اے ہمارے رب! دے ہمیں دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھلائی اور بچا ہمیں آگ کے عذاب سے(201)یہی لوگ ہیں، واسطے ان کے حصہ ہے اس سے جو انھوں نے کمایا اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے(202)
[198] چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم دیا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں آگاہ فرما دیا کہ مواسم حج وغیرہ میں محنت و اکتساب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ وہ فرائض سے غافل ہو کر اسی میں مشغول نہ ہو جائے۔ جبکہ اس کا اصل مقصد حج ہی ہو اور یہ کمائی حلال اور اللہ تعالیٰ کے فضل کی طرف منسوب ہو اور بندے کی اپنی مہارت کی طرف منسوب نہ ہو، کیونکہ سبب کو ہی سب کچھ سمجھنا اور مسبب کو فراموش کر دینا، یہی عین حرج ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ﴿ فَاِذَاۤ اَفَضۡتُمۡ مِّنۡ عَرَفٰتٍ فَاذۡكُرُوا اللّٰهَ عِنۡدَ الۡمَشۡعَرِ الۡحَرَامِ ﴾ ’’پس جب تم عرفات سے لوٹو، تو مشعر حرام کے پاس اللہ کا ذکر کرو‘‘ متعدد امورپر دلالت کرتا ہے:(۱) عرفہ میں وقوف، مناسک حج میں سے ہے اور یہ ارکان حج میں سے ایک معروف رکن ہے، کیونکہ عرفات سے واپسی صرف وقوف کے بعد ہی ہوتی ہے۔ (۲) مشعر حرام کے پاس اللہ تعالیٰ کے ذکر کا حکم دیا گیا ہے اور مشعر حرام سے مراد مزدلفہ ہے، مزدلفہ بھی معروف جگہ ہے جہاں قربانی کی رات بسر کرنی ہوتی ہے، نماز فجر کے بعد خوب روشنی پھیلنے تک دعائیں کرتے ہوئے مزدلفہ میں وقوف کرے، مزدلفہ کے پاس دعاؤں اور اذکار میں فرائض اور نوافل بھی داخل ہیں۔ (۳) مزدلفہ کا وقوف، عرفات کے وقوف سے متاخر ہے جیسا کہ آیت کریمہ میں دی گئی ترتیب دلالت کرتی ہے۔ (۴) عرفات اور مزدلفہ، دونوں ان مشاعر حج میں شمار ہوتے ہیں جن کا فعل اور اظہار مقصود ہے۔ (۵) مزدلفہ بھی حرم میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ’’حرام‘‘ کی صفت سے مقید کیا ہے۔ (۶) مزدلفہ کو ’’حرام‘‘ کی صفت سے مقید کرنا یہ مفہوم دیتا ہے کہ عرفہ حرم میں شامل نہیں۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡهُ كَمَا هَدٰؔىكُمۡ١ۚ وَاِنۡ كُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’اور اس (اللہ) کا اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تم کو بتلایا ہے اور اس سے پہلے تم ناواقف تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو جیسا کہ اس نے گمراہی کے بعد تمھیں ہدایت سے نوازا اور تمھیں وہ کچھ سکھایا جو تم نہ جانتے تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے جس کا شکر واجب، اور اس کے مقابلے میں قلب اور زبان سے منعم کا ذکر کرنا فرض ہے۔
[199]﴿ ثُمَّؔ اَفِيۡضُوۡا مِنۡ حَيۡثُ اَفَاضَ النَّاسُ﴾ ’’پھر تم وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں‘‘ یعنی مزدلفہ سے۔ اور یہ وہ عمل ہے جو حضرت ابراہیمuسے لے کر اب تک چلا آرہا ہے۔ اور اس افاضہ یعنی واپسی کا مقصد ان کے ہاں معروف تھا اور وہ ہے رمی جمار، قربانیوں کو ذبح کرنا، طواف، سعی، تشریق کی راتوں میں منی میں شب بسری اور باقی مناسک کی تکمیل۔ چونکہ اس افاضہ کا مقصد وہ ہے جس کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ مذکورہ امور حج کے آخری مناسک ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان سے فارغ ہو کر استغفار اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے، اس لیے کہ استغفار کا مقصد یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی میں بندے کی طرف سے جو خلل اور کوتاہی واقع ہوئی ہے استغفار سے اس کی تلافی ہو جائے اور اللہ کا ذکر، یہ اللہ کا اس انعام پر شکر ہے جو اس نے عظیم عبادت اور بھاری احسان کی توفیق سے نواز کر کیا۔ بندۂ مومن کے لیے مناسب بھی یہی ہے کہ جب وہ اپنی عبادت سے فارغ ہو تو اپنی تقصیر اور کوتاہی پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے اور عبادت کی توفیق پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائے، نہ کہ اس شخص کی مانند ہو جو یہ سمجھتا ہے کہ اس نے عبادت کی تکمیل کر کے رب پر احسان کیا ہے اور اس عبادت نے اس کے مقام و مرتبہ کو بہت بلند کر دیا ہے۔ یہ رویہ یقیناً اللہ کی ناراضی کا باعث اور اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے فعل (عبادت) کو ٹھکرا دیا جائے جیسے عبادت کی پہلی صورت اس بات کی مستحق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا درجہ حاصل کرے اور بندے کو دوسرے اعمال خیر کی توفیق عطا ہو۔
[202-200] پھر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے احوال کی خبر دی اور آگاہ فرمایا کہ تمام مخلوق اپنے اپنے مطالبات کا سوال کرتی ہے اور جو چیز ان کے لیے ضرر رساں ہے اس سے بچنے کی دعا مانگتی ہے۔ البتہ ان کے مقاصد مختلف ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو یہ کہتے ہیں ﴿ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنۡيَا ﴾ ’’اے ہمارے رب! دے تو ہمیں دنیا میں‘‘ یعنی وہ دنیا کے ساز و سامان اور اس کی شہوات کا سوال کرتے ہیں۔ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا، کیونکہ آخرت میں ان کو کوئی رغبت نہیں اور انھوں نے اپنی ہمت اور ارادے دنیا ہی پر مرکوز کر دیے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں کے لیے دعا کرتے ہیں اور اپنے آپ کو دنیا اور آخرت کے تمام امور میں اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھتے ہیں۔ ان دونوں گروہوں کے لیے اپنے اپنے اعمال اور اپنے اپنے اکتساب کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ عنقریب انھیں ان کے اعمال، ان کے ارادوں اور ان کی نیتوں کی ایسی جزا دے گا جو عدل اور فضل کے دائرے میں ہو گی، اس پر اس کی کامل ترین حمد و ثنا بیان کی جائے گی۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کی دعا سنتا ہے، خواہ وہ کافر ہو، مسلمان ہو یا فاسق و فاجر، البتہ کسی کی دعا قبول ہونے کے معنی یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے اور اس نے (اس کی دعا قبول کر کے) اسے اپنے قرب سے نواز دیا ہے۔ البتہ آخرت کی بھلائی اور دینی امور میں دعا کی قبولیت اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے قرب کی علامت ہے۔ وہ بھلائی جو دنیا میں طلب کی جاتی ہے، اس میں ہر وہ بھلائی شامل ہے جس کا ہونا بندے کو پسند ہو۔ جیسے رزق کی کشائش ، نیک بیوی، نیک اولاد جسے دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں، آرام اور راحت، علم نافع، اعمال صالحہ اور دیگر پسندیدہ اور مباح چیزیں اور آخرت کی بھلائی، قبر، حساب کتاب اور آگ کے عذاب سے سلامتی، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول، ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے کامیاب ہونے اور رب رحیم کے قرب کا نام ہے۔ اس اعتبار سے یہ دعا سب سے جامع اور سب سے کامل دعا ہے اور اس قابل ہے کہ اسے تمام دعاؤں پر ترجیح دی جائے۔ اسی لیے رسول اللہﷺاکثر یہی دعا مانگا کرتے تھے اور اس دعا کی ترغیب دیا کرتے تھے۔