وہ پوچھتے ہیں آپ سے حرمت والے مہینے کی بابت، لڑائی کرنے سے اس میں؟ کہہ دیجیے! لڑائی کرنا اس میں بہت بڑا (گناہ) ہے،اور روکنا اللہ کے راستے سے،اور کفر کرنا اس کے ساتھ اور (روکنا) مسجد حرام سے اور نکالنا اس کے رہنے والوں کو اس سے، بہت بڑا (گناہ) ہے نزدیک اللہ کے،اور فتنہ کہیں بڑا (گناہ) ہے قتل سے،اور وہ (کافر تو) ہمیشہ لڑتے رہیں گے تم سے، یہاں تک کہ وہ پھیر دیں تمھیں تمھارے دین سے اگر وہ استطاعت رکھیں ، اور جو شخص پھر جائے تم میں سے اپنے دین سے، پھر وہ مر جائے ایسی حالت میں کہ وہ کافر ہی ہو، تو یہی لوگ ہیں، برباد ہوگئے اعمال ان کے بیچ دنیا اور آخرت کےاور یہی ہیں دوزخ والے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(217)
[217] جمہور مفسرین کہتے ہیں کہ حرام مہینوں میں قتال کی حرمت اس آیت کے ذریعے سے منسوخ ہو گئی ہے جس میں حکم ہے کہ مشرکوں سے لڑو جہاں کہیں بھی ان کو پاؤ۔ (اشارہ ہے البقرۃ؍191، النساء؍89،91 کی طرف۔ مترجم)اور بعض مفسرین کی رائے ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں کیونکہ مطلق کو مقید پر محمول کیا جاتا ہے۔ یہ آیت کریمہ قتال کے عام اور مطلق حکم کو مقید کرتی ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ حرام مہینوں کی جملہ خوبیوں میں سے ایک خوبی بلکہ سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان مہینوں میں لڑائی حرام ہے۔ یہ حکم لڑائی کی ابتدا کرنے کے بارے میں ہے۔ رہی دفاعی جنگ تو یہ حرام مہینوں میں بھی جائز ہے، جیسے حرم کے اندر دفاعی جنگ لڑنا جائز ہے۔ اس آیت کریمہ کے نازل ہونے کا سبب یہ ہے کہ عبد اللہ بن جحشtکے سریہ میں مسلمانوں نے عمرو بن الحضرمی کو قتل کر دیا اور مشرکوں کا مال لوٹ لیا ۔۔۔روایات کے مطابق۔۔۔ یہ سریہ رجب کے مہینے میں واقع ہوا تھا، اس لیے مشرکین نے عار دلائی کہ مسلمانوں نے حرام مہینوں میں لڑائی کی ہے، حالانکہ اس عار دلانے میں وہ زیادتی کا ارتکاب کر رہے تھے، کیونکہ خود ان میں بہت سی برائیاں تھیں ان میں سے بعض برائیاں تو ایسی تھیں جو اس برائی سے بڑی تھیں جس پر مشرکین مسلمانوں کو عار دلا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان برائیوں کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَصَدٌّ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور اللہ کی راہ سے روکنا۔‘‘ یعنی مشرکین کا لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے روکنا، اہل ایمان کو آزمائش میں ڈالنا، ان کو ان کے دین سے ہٹا دینے کی کوشش کرنا اور حرمت والے مہینے اورحرمت والے شہر میں کفر کا ارتکاب کرنا وغیرہ۔ اور قباحت کے لیے تو مجرد کفر ہی کافی ہے۔۔۔۔ تب اس برائی کی شدت اور قباحت کا کیا حال ہو گا اگر اس کا ارتکاب حرمت والے مہینے اور حرمت والے شہر میں کیا جائے۔ ﴿وَاِخۡرَاجُ اَهۡلِهٖ مِنۡهُ﴾ ’’اور اہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا‘‘ یعنی مسجد حرام میں عبادت کرنے والوں کو مسجد سے نکالنا، اس سے مراد نبی اکرمﷺاور صحابہ کرامyہیں، کیونکہ وہ مسجد حرام میں عبادت کرنے کے مشرکوں سے زیادہ حق دار ہیں۔ وہی درحقیقت مسجد حرام کو آباد کرنے والے ہیں۔ پس مشرکین نے ان کو مسجد حرام سے نکال دیا اور ان کے لیے مسجد حرام تک پہنچنا ممکن نہ رہا۔ حالانکہ یہ گھر مکہ کے رہنے والوں اور باہر کے لوگوں کے لیے برابر حیثیت رکھتا ہے۔ ﴿اَكۡبَرُ مِنَ الۡقَتۡلِ﴾ ’’خون ریزی سے بھی بڑھ کر ہے۔‘‘ یعنی ان تمام برائیوں میں سے ہر ایک برائی کی قباحت حرام مہینوں میں قتل کی قباحت سے بڑھ کر ہے۔ تب ان کا کیا حال ہے جب کہ ان کے اندر مذکورہ تمام برائیاں ہی جمع ہیں؟ تو معلوم ہوا کہ یہ فاسق و فاجر لوگ ہیں اور اہل ایمان کو عار دلانے میں زیادتی سے کام لے رہے ہیں۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مشرکین اہل ایمان سے لڑتے رہیں گے اور اس لڑائی سے ان کی غرض اہل ایمان کوقتل کرنا یا ان کے اموال لوٹنا نہیں، بلکہ ان کی غرض و غایت صرف یہ ہے کہ اہل ایمان اپنا دین چھوڑ کر پھر کفر کی طرف لوٹ جائیں اور اس طرح وہ پھر سے جہنمیوں کے گروہ میں شامل ہو جائیں۔ پس وہ مسلمانوں کو اپنے دین سے پھیرنے کے لیے پوری قوت استعمال کر رہے ہیں اور امکان بھر اسی کوشش میں مصروف ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنی ہدایت کی روشنی کو مکمل کر کے رہے گا خواہ کفار کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے۔ تمام کفار کا عام طور پر یہی رویہ ہے وہ دوسرے لوگوں سے ہمیشہ برسرپیکار رہیں گے جب تک کہ ان کو اپنے دین سے پھیر نہ دیں۔ خاص طور پر یہود و نصاری نے اس مقصد کے لیے جماعتیں تشکیل دیں، اپنے داعی بھیجے، طبیب پھیلائے اور مدارس قائم کیے، تاکہ دوسری قوموں کو اپنے مذہب میں جذب کر لیں۔ ان کے اذہان میں ہر وہ شبہ ڈال دیں جو ان کے دین میں شک پیدا کرے مگر امید ہے کہ اللہ تعالیٰ جس نے اہل ایمان کو اسلام جیسی نعمت عطا کر کے احسان فرمایا اور اپنے اس دین قیم کو ان کے لیے چن لیا اور اپنے دین کو ان کے لیے مکمل کیا، ان پر اپنی نعمت کو قائم کرے گا، پوری طرح اس کا اتمام کرے گا اور ہر اس طاقت کو پسپا کر دے گاجو اس کے دین کی روشنی کو بجھانے کی کوشش کرے گی، وہ ان کی چالوں کو ان کے سینوں ہی میں کچل کر رکھ دے گا اور وہ اپنے دین کی مدد اور اپنے کلمہ کو ضرور بلند کرے گا۔ اور سورۃالانفال کی یہ آیت کریمہ جس طرح پہلے کفار پر صادق آتی تھی، اسی طرح یہ موجودہ کفار پر بھی پوری طرح صادق آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ لِيَصُدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَيُنۡفِقُوۡنَهَا ثُمَّ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةً ثُمَّ يُغۡلَبُوۡنَ١ؕ۬ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ يُحۡشَرُوۡنَ﴾(الانفال 8؍36) ’’بے شک وہ لوگ جو کافر ہیں وہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ وہ عنقریب ابھی اور مال خرچ کریں گے آخر کار یہ مال خرچ کرنا ان کے لیے حسرت کا باعث بنے گا اور وہ مغلوب ہوں گے اور وہ لوگ جو کافر ہیں ان کو جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ جو کوئی مرتد ہو کر اسلام کو چھوڑ دے اور کفر کو اختیار کرے، ہمیشہ کفر پر قائم رہے حتی کہ کفر کی حالت میں مر جائے ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’تو دنیا و آخرت میں ان کے تمام اعمال اکارت جائیں گے‘‘ کیونکہ ان اعمال کی قبولیت کی شرط یعنی اسلام موجود نہیں ہے ﴿وَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’اور یہی لوگ دوزخ والے ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ اس آیت کریمہ کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی مرتد ہونے کے بعد پھر دین اسلام کی طرف لوٹ آئے، تو اس کا عمل اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔ جو اس نے مرتد ہونے سے پہلے کیا تھا۔ اسی طرح جو کوئی گناہوں سے تائب ہو جاتا ہے تو اس کے سابقہ اعمال اس کی طرف لوٹ آتے ہیں۔