وہ پوچھتے ہیں آپ سے شراب اور جوئے کی بابت، کہہ دیجیے! ان دونوں میں گناہ ہے بڑااور (کچھ) فائدے ہیں، لوگوں کے لیے اور ان کا گناہ بہت بڑا ہے ان کے فائدے سے،
[219] یعنی اے رسول! اہل ایمان آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ صحابہ کرام زمانہ جاہلیت اور اسلام کے ابتدائی ایام میں شراب وغیرہ استعمال کیا کرتے تھے۔ یوں لگتا ہے کہ شراب اور جوئے کے بارے میں کوئی اشکال واقع ہوا تھا اس لیے انھوں نے ان کے احکام کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ اہل ایمان پر شراب اور جوئے کے فوائد اور نقصانات واضح کر دیں، تاکہ یہ وضاحت شراب اور جوئے کی تحریم اور ان کو حتمی طور پر ترک کر دینے کا مقدمہ بن جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کے گناہ اور ان کے نقصانات اور ان کے اثرات سے آگاہ فرمایا، ان اثرات اور نقصانات میں عقل اور مال کا زائل ہونا، ان کا اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز سے روکنا اور عداوت اور بغض پیدا کرنا شامل ہیں۔ یہ تمام نقصانات ایسے ہیں جو ان کے مزعومہ فوائد، مثلاً شراب کی تجارت اور جوئے کے ذریعے سے اکتساب مال، شراب نوشی اور جوا کھیلتے وقت حاصل ہونے والے طرب اور فرحت وغیرہ سے، بہت بڑے ہیں۔ نیز یہ بیان نفوس کے لیے زجر و توبیخ کی حیثیت رکھتا تھا کیونکہ عقل مند شخص ہمیشہ اس چیز کو ترجیح دیتا ہے جس کے فوائد راجح ہوں اور اس چیز سے اجتناب کرتا ہے جس کے نقصانات زیادہ ہوں۔ لیکن چونکہ یہ حضرات شراب اور جوئے کے عادی اور ان سے مالوف تھے، لہٰذا فوری اور حتمی طور پر ان کو چھوڑنا ان کے لیے سخت مشکل تھا اس لیے (تدریج کے طور پر) اس آیت کریمہ کو پہلے نازل فرمایا۔ چنانچہ یہ آیت اس آیت کے مقدمہ کی حیثیت رکھتی ہے ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَالۡمَيۡسِرُ وَالۡاَنۡصَابُ وَالۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ ﴾(المائدۃ:5؍90) ’’اے ایمان والے لوگو! شراب، جوا، بت اور پانسے تو ناپاک اور شیطان کے کام ہیں۔‘‘ اور آخر میں فرمایا:﴿فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَهُوۡنَ﴾(المائدۃ:5؍91) ’’کیا تم باز آؤ گے؟‘‘ اور یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم، اس کی رحمت اور اس کی حکمت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو حضرت عمرtپکار اٹھے، اِنْتَھَیْنَا اِنْتَھَیْنَا ’’اے ہمارے رب!ہم باز آئے، ہم باز آئے۔‘‘ (سنن الترمذی، تفسیر القرآن، سورۃ المائدۃ، حديث:3049) رہی شراب، تو اس سے مراد ہر نشہ دینے والی چیز ہے جو عقل کو ڈھانپ لے خواہ وہ کسی نوع سے تعلق رکھتی ہو۔ اور جوئے سے مراد ہر وہ کام ہے جس میں مدمقابل کو ہرانے اور خود جیتنے کے لیے مقابلہ ہو اور فریقین کی طرف سے جیتنے پر کوئی مالی عوض مقرر کیا گیا ہو، مثلاً شطرنج کا کھیل اور تمام قولی اور فعلی مقابلے جن کی ہار جیت پر کوئی مالی عوض مقرر کیا گیا ہو۔ البتہ گھوڑ دوڑ، اونٹ دوڑ میں مسابقت اور تیراندازی کا مقابلہ جائز ہے۔ کیونکہ یہ کام جہاد میں مدد دیتے ہیں اس لیے شارع نے ان مقابلوں کی رخصت دی ہے۔ اور وہ پوچھتے ہیں آپ سے کہ کیا خرچ کریں؟ کہہ دیجیے! جو ضرورت سے زائد ہو، اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے (اپنے) احکام ،تاکہ تم غور و فکر کرو(219) دنیا اور آخرت کے بارے میں ، [219] یہ سوال اس بارے میں ہے کہ اہل ایمان اپنے اموال میں سے کتنی مقدار اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کریں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تمام معاملے کو نہایت آسان بنا دیا اور حکم دیا کہ وہ صرف وہی چیز خرچ کریں جو فاضل ہو۔ اس سے مراد ان کے اموال میں وہ زائد حصہ ہے جس کا تعلق ان کی ضرورتوں اور حاجتوں سے نہ ہو۔ یہ حکم ہر شخص کی طرف اس کی استطاعت کے مطابق لوٹتا ہے، خواہ وہ مال دار ہو، فقیر ہو یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔ ہر شخص اس مال کو خرچ کرنے پر قادر ہے جو اس کی ضروریات سے فاضل ہو خواہ یہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ بنابریں رسول اللہﷺنے حکم دیا کہ لوگوں کے مال اور صدقات میں سے فاضل مال وصول کیا جائے اور انھیں کسی ایسے امر کا مکلف نہ کیا جائے جو ان پر شاق گزرتا ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کسی ایسی چیز کے خرچ کرنے کا حکم نہیں دیا جس کی ہمیں خود ضرورت ہو، اور نہ ہمیں کسی ایسے امر کا مکلف بنایا ہے جو ہم پر شاق گزرے، بلکہ اس نے ہمیں صرف اسی چیز کا حکم دیا ہے جو ہمارے لیے آسان اور جس میں ہماری سعادت ہو اور جس میں ہمارا یا ہمارے بھائیوں کا کوئی فائدہ ہو۔ پس وہ اس عنایت اور نوازش پر کامل ترین حمد و ثنا کا مستحق ہے۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس حکم کو اچھی طرح واضح کر دیا اور اپنے بندوں کو اسرار شریعت سے آگاہ کر دیا، تو فرمایا :﴿كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’اسی طرح اللہ تمھارے لیے اپنے احکام کھول کھول کربیان کرتا ہے۔‘‘ یعنی یہ آیات حق پر دلالت کرتی ہیں اور علم نافع اور حق و باطل کے درمیان فرق کے لیے کسوٹی عطا کرتی ہیں۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَفَكَّرُوۡنَۙ۰۰ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’تاکہ تم دنیا و آخرت (کی باتوں) میں غوروفکر کرو۔‘‘ یعنی، تاکہ تم اسرار شریعت معلوم کرنے کے لیے اپنے فکر و تدبر کو استعمال میں لاؤ اور تمھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام میں دنیا و آخرت کے مصالح اور فوائد پوشیدہ ہیں اور تاکہ تم دنیا اور اس کے نہایت تیزی کے ساتھ اپنے اختتام کی طرف بڑھنے پر اور آخرت اور اس کے ہمیشہ باقی رہنے پر غور و فکر کرو۔ نیز یہ کہ آخرت جزا و سزا کا گھر ہے۔ تاکہ تم اسے آباد کرو۔